یورپ

کئی یورپی ممالک کے فوجی دستے گرین لینڈ پہنچنا شروع

گرین لینڈ تقریباﹰ ایک خود مختار جزیرہ ہے لیکن قانونی طور پر وہ شمالی یورپی ملک ڈنمارک کی غیر متنازعہ عمل داری میں آتا ہے،

روئٹرز، اے پی اور اے ایف پی کے ساتھ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈنمارک کی ملکیت جزیرے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے متنازعہ ارادوں سے پیدا شدہ یورپی امریکی اختلاف رائے شدید ہو گیا ہے۔ اب جرمنی، فرانس، سویڈن اور ناروے کے فوجی دستے گرین لینڈ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

گرین لینڈ تقریباﹰ ایک خود مختار جزیرہ ہے لیکن قانونی طور پر وہ شمالی یورپی ملک ڈنمارک کی غیر متنازعہ عمل داری میں آتا ہے، اور کوپن ہیگن گرین لینڈ کے سالانہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ بھی خود ادا کرتا ہے۔

اس بارے میں ڈنمارک اور امریکہ کے مابین کشیدگی اس وقت شروع ہوئی، جب اپنے دوسرے دور صدارت کے آغاز پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر زور دے کر کہنا شروع کر دیا کہ امریکہ گرین لینڈ کو خریدنا چاہتا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن کی خواہش ہے کہ یہ جزیرہ، جو اسٹریٹیجک حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کسی بھی طرح امریکہ کے کنٹرول میں آ جانا چاہیے۔

گرین لینڈ کے دارالحکومت نُوک میں امریکی صدر ٹرمپ کے ارادوں کے خلاف عوامی احتجاج کی ایک تصویر
گرین لینڈ کے دارالحکومت نُوک میں امریکی صدر ٹرمپ کے ارادوں کے خلاف عوامی احتجاج کی ایک تصویرتصویر: Christian Klindt Soelbeck/Ritzau Scanpix/IMAGO

ٹرمپ کا تازہ ترین بیان

کل بدھ 14 جنوری کے روز امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں پھر کہا کہ امریکہ کے لیے گرین لینڈ کے حوالے سے ”واشنگٹن کے مکمل کنٹرول سے کم کوئی بھی دوسرا امکان‘‘ قابل قبول نہیں ہو گا۔

اس موقف نے ڈنمارک اور کئی دیگر یورپی ممالک کو مزید بے چین کر دیا اور وہ یورپی رہنما، جو ماضی قریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ کو خریدنے کی پیشکش پر زیادہ تر طنزاﹰ ہنستے رہتے تھے، سنجیدگی سے سوچنے لگے کہ یہ معاملہ یورپی امریکی روابط میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دباؤ کا باعث بنتا جا رہا ہے۔

اس پس منظر میں کئی ایسے یورپی ممالک نے، جو گرین لینڈ پر ڈینش ملکیت اور کنٹرول کو بین الاقوامی قانون کے عین مطابق اور غیر مشروط طور پر تسلیم کرتے ہیں، آرکٹک کی اس جزیرہ ریاست کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا اور اس کی سلامتی کے تحفظ پر غور بھی کرنے لگے۔

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں امریکی سفارت خانے کے سامنے عوامی احتجاج کی ایک تصویر
ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں امریکی سفارت خانے کے سامنے عوامی احتجاج کی ایک تصویرتصویر: Thomas Traasdahl/Ritzau Scanpix/IMAGO

متعدد یورپی ممالک کے فوجی دستوں کی گرین لینڈ آمد

گرین لینڈ کے دارالحکومت نُوک (Nuuk) سے ملنے والی تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق اب یورپی یونین کے رکن اور غیر رکن ممالک کے مسلح فوجی دستے گرین لینڈ پہنچا شروع ہو گئے ہیں۔ ان میں جرمنی، فرانس، سویڈن اور ناروے شامل ہیں۔

جرمنی اور فرانس یورپی یونین کے دو ایسے بڑے رکن ممالک ہیں، جنہیں اس یورپی بلاک کی سیاست اور معیشت کا ”انجن‘‘ سمجھا جاتا ہے۔

سویڈن اور ناروے ڈنمارک کی طرح اسکینڈے نیویا کی ریاستیں ہیں، جن میں سے سویڈن ڈنمارک کا ہمسایہ بھی ہے اور یورپی یونین کا رکن بھی جبکہ ناروے نہ تو براہ راست ڈنمارک کا ہمسایہ ہے اورنہ ہی یورپی یونین کا رکن۔

مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لیتے جرمن فوجی اور ان سے ملاقات کرتے جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس
مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لیتے جرمن فوجی اور ان سے ملاقات کرتے جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئستصویر: Kay Nietfeld/dpa/picture alliance

ڈنمارک کا گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ

گرین لینڈ سے متعلق اسی یورپی امریکی کشیدگی کے پس منظر میں کوپن ہیگن میں ڈینش حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر اس جزیرہ ریاست میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دے گی۔

یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب واشنگٹن میں ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ ٹرمپ انتظامیہ کے نمائندوں کے ساتھ کل بدھ کے روز ملاقات کر رہے تھے۔

اسی دوران صدر ماکروں کے مطابق فرانسیسی فوج کا ایک دستہ پہلے ہی نُوک میں موجود ہے، تاکہ وہاں ایک مشترکہ فوجی مشق میں حصہ لے سکے۔ اس کے علاوہ پیرس حکومت وہاں اپنے مزید فوجی بھی بھیج رہی ہے۔

گرین لینڈ میں فوجی مشقیں کرتے نیٹو کے مسلح دستوں میں شامل ڈینش فوجی
گرین لینڈ میں فوجی مشقیں کرتے نیٹو کے مسلح دستوں میں شامل ڈینش فوجیتصویر: Guglielmo Mangiapane/REUTERS

اسی طرح جرمنی بھی گرین لینڈ میں آج جعمرات کے روز اپنے فوجی تعینات کر رہا ہے جبکہ سویڈن اور ناروے کے فوجی دستے بھی یا تو نُوک پہنچ چکے ہیں یا پہنچ رہے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button