پاکستاناہم خبریں

ملٹی ڈومین آپریشنز: جدید جنگ کا نیا چہرہ اور آرمی فارمیشنز کی بدلتی حکمتِ عملی

یہ انضمام فیصلہ سازی کے وقت کو کم سے کم کر دیتا ہے، جس سے فوجی فارمیشنز کو دشمن پر تیز، درست اور ہمہ جہت دباؤ ڈالنے کا موقع ملتا ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز ،فورسز کے ساتھ

عالمی سطح پر جنگ کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، جہاں اب محض زمینی محاذ پر فوجی طاقت کا مظاہرہ فیصلہ کن ثابت نہیں ہوتا۔ جدید دور میں جنگ ایک ملٹی ڈومین ماحول میں لڑی جا رہی ہے، جس میں زمین، فضا، سائبر اسپیس، الیکٹرانک جنگ، خودمختار نظام اور معلوماتی محاذ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی تناظر میں ملٹی ڈومین آپریشنز (Multi-Domain Operations – MDOs) کو جدید عسکری حکمتِ عملی کی بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔

عسکری ماہرین کے مطابق ملٹی ڈومین آپریشنز کا بنیادی مقصد دشمن کی قوت کو محض میدانِ جنگ میں شکست دینا نہیں، بلکہ اس کی فیصلہ سازی، کمانڈ اینڈ کنٹرول، اور جنگی ہم آہنگی کو منظم اور بتدریج مفلوج کرنا ہے۔

ہر سینسر، ہر شوٹر سے منسلک

ملٹی ڈومین آپریشنز کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام جنگی ڈومینز کو ایک متحد جنگی ماحول (Unified Battlespace) میں ضم کر دیا جاتا ہے۔ اس تصور کے تحت
“ہر سینسر، ہر شوٹر سے منسلک ہوتا ہے” — یعنی زمینی ریڈار، ڈرون، سیٹلائٹ، انٹیلی جنس نیٹ ورکس اور الیکٹرانک سینسرز سے حاصل ہونے والی معلومات براہِ راست فائر پاور استعمال کرنے والے یونٹس تک پہنچتی ہیں۔

یہ انضمام فیصلہ سازی کے وقت کو کم سے کم کر دیتا ہے، جس سے فوجی فارمیشنز کو دشمن پر تیز، درست اور ہمہ جہت دباؤ ڈالنے کا موقع ملتا ہے۔

آرمی فارمیشنز کا ملٹی ڈومین ماحول میں کردار

ملٹی ڈومین ماحول میں آرمی فارمیشنز اب محض روایتی زمینی لڑائی تک محدود نہیں رہیں۔ وہ ایک ایسے جنگی نظام کا حصہ بن چکی ہیں جہاں:

  • زمینی دستے فضائی نگرانی اور ڈرون سپورٹ سے فائدہ اٹھاتے ہیں

  • سائبر اور الیکٹرانک جنگ کے ذریعے دشمن کے مواصلاتی نظام کو مفلوج کیا جاتا ہے

  • معلوماتی کارروائیوں کے ذریعے دشمن کے حوصلے اور بیانیے کو نشانہ بنایا جاتا ہے

ماہرین کے مطابق، جدید آرمی فارمیشنز اب کراس ڈومین مینُووَر کے ذریعے دشمن کے مضبوط دفاعی نظام میں دراڑیں پیدا کرتی ہیں، بجائے اس کے کہ صرف فرنٹل حملوں پر انحصار کریں۔

پینتریبازی، سپیکٹرم غلبہ اور درستگی کی طاقت

ملٹی ڈومین آپریشنز میں کامیابی کے لیے چار عناصر کو کلیدی حیثیت حاصل ہے:

  1. پینتریبازی (Maneuver):
    زمینی اور فضائی حرکات کو اس طرح ہم آہنگ کرنا کہ دشمن کو ایک سے زیادہ محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہو۔

  2. سپیکٹرم غلبہ (Spectrum Dominance):
    الیکٹرانک وارفیئر اور سائبر آپریشنز کے ذریعے دشمن کے ریڈار، کمیونیکیشن اور ڈیٹا لنکس کو غیر مؤثر بنانا۔

  3. درستگی کی طاقت (Precision Fires):
    لانگ رینج، درست ہتھیاروں کے ذریعے دشمن کے اہم اہداف کو کم سے کم وقت میں نشانہ بنانا۔

  4. کثیر پرتوں والا فضائی دفاع (Layered Air Defence):
    دشمن کے ڈرونز، میزائلوں اور فضائی حملوں کو روکنے کے لیے مختلف سطحوں پر دفاعی نظام کی تعیناتی۔

ڈرونز، خودمختار نظام اور علمی جنگ

جدید ملٹی ڈومین جنگ میں ڈرونز اور خودمختار نظام (Autonomous Systems) مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ نظام نہ صرف نگرانی اور اہداف کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ بعض صورتوں میں براہِ راست حملے بھی انجام دیتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ علمی یا معلوماتی جنگ (Cognitive / Information Warfare) کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہو چکی ہے، جہاں دشمن کی عوام، فوج اور قیادت کی سوچ کو متاثر کرنے کے لیے بیانیہ، سوشل میڈیا اور نفسیاتی آپریشنز استعمال کیے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، جب روایتی فوجی طاقت، ڈرونز اور علمی جنگ ایک مربوط فریم ورک میں استعمال ہوں تو دشمن کی فیصلہ سازی کی صلاحیت تیزی سے کمزور ہو جاتی ہے۔

مستقبل کی جنگ کی سمت

عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں جنگیں کم وقت کی ہوں گی مگر زیادہ پیچیدہ، جہاں برتری کا فیصلہ میدانِ جنگ سے پہلے سائبر اسپیس، اسپیکٹرم اور معلوماتی محاذ پر ہو چکا ہوگا۔

ملٹی ڈومین آپریشنز اسی مستقبل کی جھلک ہیں، جہاں کامیابی اس فوج کو حاصل ہوگی جو تمام ڈومینز میں بیک وقت اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

نتیجہ

ملٹی ڈومین آپریشنز محض ایک عسکری اصطلاح نہیں بلکہ جدید جنگ کا مکمل فلسفہ ہیں۔ یہ تصور آرمی فارمیشنز کو ایک ایسے مربوط نظام میں تبدیل کر رہا ہے جو دشمن کو جسمانی، ذہنی اور تکنیکی ہر سطح پر دباؤ میں رکھتا ہے۔
عصرِ حاضر کی جنگ میں برتری اسی کے پاس ہوگی جو ہر ڈومین میں، ایک وقت میں، ایک مقصد کے تحت کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button