کاروبارتازہ ترین

اے سی سی اے اورگلوبل اکنامک کنڈیشنز سروے میں 2026کے عالمی معاشی امکانات پر اکاؤنٹنٹس میں مایوسی کا انکشاف

گلوبل نیو آرڈرز انڈیکس میں مسلسل تیسری سہ ماہی میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے عالمی اقتصادی نمو میں ممکنہ سست روی کا خدشہ بڑھ گیا ہے

انصار ذاہد سیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
ایسوسی ایشن آف چارٹرڈسرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس اور آئی ایم اے کے گلوبل اکنامک کنڈیشنز سروے (GECS) جس میں تقریباً 1,200 فنانس پروفیشنلز نے شرکت کی، کے مطابق 2025 کے اختتام تک عالمی سطح پر اکاؤنٹنٹس کی سوچ مایوسی کا شکار رہی۔ طویل عرصے سے جاری اس سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی اعتماد سال بھر کمزور رہا اور اس میں کوئی نمایاں بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔ اگرچہ اب بھی اعتماد کی سطح غیر مستحکم ہے لیکن 2025کی پہلی سہ ماہی کی کم ترین سطح سے بہتر ہے، تاہم مجموعی صورتحال بدستور محتاط رہی۔

گلوبل نیو آرڈرز انڈیکس میں مسلسل تیسری سہ ماہی میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے عالمی اقتصادی نمو میں ممکنہ سست روی کا خدشہ بڑھ گیا ہے، اگرچہ یہ اب بھی وبا کے دور کی کم ترین سطح سے خاصا اوپر ہے۔ چیف فنانشل آفیسرز (CFOs) کے اعتماد میں کچھ بہتری آئی، تاہم یہ تاریخی اوسط سے نیچے رہا، جبکہ اہم اشاریے کمپنیوں کی جانب سے محتاط رویے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ایشیا پیسیفک خطے میں اعتماد 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں ایک بار پھر بڑھا اور 2024 کی دوسری سہ ماہی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اگرچہ فارورڈ لُکنگ نیو آرڈرز انڈیکس میں معمولی کمی آئی، تاہم ی اب بھی اپنی تاریخی اوسط سے اوپر ہے۔ کیپیٹل ایکسپنڈیچر انڈیکس مسلسل تیسری سہ ماہی میں بڑھا اور 2024 کی تیسری سہ ماہی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ ایمپلائمنٹ انڈیکس میں بھی معمولی اضافہ ہوا، اگرچہ یہ اب بھی اپنی اوسط سے کم ہے۔

آپریٹنگ لاگت میں اضافے کی اطلاع دینے والے شرکاء کی شرح میں بھی معمولی کمی آئی اور یہ سیریز کی اوسط سے کچھ نیچے رہی، جس سے اس خطے میں مرکزی بینکوں کو مزید مانیٹری نرمی کی گنجائش مل سکتی ہے۔ مجموعی طور پر، امریکی درآمدی محصولات میں نمایاں اضافے کے پس منظر میں یہ نتائج خاصے حوصلہ افزا ہیں۔ اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں عالمی معیشت کی لچک، تجارتی پالیسی میں غیر یقینی صورتحال میں کمی، اور اے آئی سے متعلق مضبوط برآمدات شامل ہیں۔ تاہم 2026 میں مزید تجارتی پابندیاں اس خطے کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہیں، جیسا کہ امریکا یا چین کی معیشت میں متوقع سے زیادہ سست روی، یا عالمی سطح پر اے آئی سے متعلق سرمایہ کاری میں کمی بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

اے سی سی اے کے چیف اکانومسٹ جوناتھن ایش ورتھ کا اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ،”اکاؤنٹنٹس 2026 میں داخل ہوتے ہوئے محتاط ہیں، کیونکہ عالمی ماحول انتہائی غیر یقینی ہے۔ 2025 میں عالمی معیشت نے توقعات سے بہتر کارکردگی دکھائی اور حالیہ مانیٹری نرمی، اسٹاک مارکیٹس میں بہتری، اہم ممالک کی معاون مالی پالیسیوں اور عالمی اے آئی بوم کے باعث 2026 میں بھی بہتر رہنے کی توقع ہے۔تاہم، جغرافیائی سیاسی خطرات سمیت متعدد عوامل کے باعث غیر یقینی صورتحال بدستور موجود ہے، اور یہ خطرات زیادہ تر منفی سمت میں ہیں۔”
جہاں ایشیا پیسیفک میں اعتماد میں اضافہ ہوا، وہیں شمالی امریکا میں کمی دیکھنے میں آئی۔ آئی ایم اے کے سینئر ڈائریکٹر (یورپ آپریشنز اینڈ گلوبل اسپیشل پروجیکٹس) ایلین ملڈر نے اس بارے میں کہا کہ،”شمالی امریکا میں اکاؤنٹنٹس اس وقت خاصے مایوس نظر آتے ہیں، اگرچہ 2025 کے پہلے نصف کے مقابلے میں صورتحال کچھ بہتر ہے۔ بلند درآمدی محصولات، پالیسی میں غیر یقینی صورتحال اور بلند شرح سود غالباً اعتماد پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہاکہ ایمپلائمنٹ اور کیپیٹل ایکسپنڈیچر انڈیکس ترقی یافتہ معیشتوں میں کاروباری اداروں کے شدید محتاط رویے کی عکاسی کرتے ہیں۔ شمالی امریکا میں ایمپلائمنٹ انڈیکس چوتھی سہ ماہی میں ریکارڈ کم ترین سطح پر رہا، جو وبا کے دوران دیکھی گئی سطح سے بھی نیچے تھا، جبکہ کیپیٹل ایکسپنڈیچر انڈیکس تاریخ کی دوسری کم ترین سطح پر رہا، اگرچہ حالیہ برسوں کے دیگر نتائج سے زیادہ مختلف نہیں تھا۔

اکاؤنٹنٹس نے معاشی دباؤ، سائبر رکاوٹوں اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کو سرفہرست خطرات قرار دیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ خطرات اب زیادہ پیچیدہ اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود، 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں شرکاء کی غیر مالی مسائل،جیسے سائبر حملے، بدعنوانی اور فراڈسے نمٹنے کی تیاری محدود نظر آئی، جوخاص طور پر اس غیر یقینی دور میں خطرات کی آگاہی اور ادارہ جاتی تیاری کے درمیان فرق کو ظاہر کرتی ہے۔

اے سی سی اے کے چیف اکانومسٹ جوناتھن ایش ورتھ کا مزید کہنا تھا کہ،” GECS کے اہم اشاریے عالمی نمو میں کسی حد تک سست روی کے خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم یہ کسی بڑی کساد بازاری کی علامت نہیں ہیں۔ اس کے باوجود، کم اعتماد اور کارپوریٹ سطح پر محتاط رویے کے باعث، اگر آنے والی سہ ماہیوں میں کوئی بڑا عالمی مسئلہ سامنے آیا تو کاروباری ادارے مزید کٹوتیوں کی جانب جا سکتے ہیں، جس سے عالمی معاشی نمو میں نمایاں سست روی کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔”

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button