
محترمہ مریم نواز کا انقلابی اقدام ، سماجی تحفظ کااستحکام ۔۔۔ !! رپورٹ ۔پیر مشتاق رضوی
آئندہ حکومتِ پنجاب کے تمام سماجی تحفظ اور فلاحی اقدامات سمیت رمضان پیکیج بھی پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری کے مستند اور مربوط ڈیٹا کی روشنی میں ترتیب دیے جائیں گے
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے عوام دوست وژن کے تحت پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے، سب سے جدید اور سب سے جامع صوبائی سوشیو اکنامک ڈیٹا بیس کی تشکیل کے لیےحکومتِ پنجاب کا PSER گھر گھر سروے کامیابی سے تکمیلی مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے۔ جس میں ابتک 90 لاکھ گھروں،1 کروڑ خاندانوں اور 4 کروڑ شہریوں کا اندراج مکمل کیا جاچکا ہے
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نےوزیراعلیٰ پنجاب کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں پی ایس ای آر کے قیام کا اعلان کیا۔ پی ایس ای آر پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا اور سب سے بڑا صوبائی ڈیٹابیس سروے ہے یہ ایک مکمل طور پر مربوط اور منظم ڈیجیٹل نظام ہے، جس میں سروے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پنجاب بھر کے تمام طبقات سے وابستہ خاندانوں کا ایک جامع اور فعال ڈیٹا بیس مرتب کیا گیا ہے، تاکہ پنجاب کی عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے ڈیٹا بیس کی بنیاد پر مؤٹر پالیسیوں کی تشکیل، وسائل کی مؤثر تقسیم، اور بہتر فیصلہ سازی ممکن ہو سکے اس حوالہ سے پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی وائس چیئرپرسن جہاں آراء منظور وٹو نے کہا کہ پی ایس ای آر کے تحت مختلف علاقوں میں عوام کو دستیاب بنیادی سہولیات، ان کے اقتصادی حالات، اور حکومت کی طرف سے ضروری اقدامات کی شناخت کے لیے ایک وسیع گھر گھر سروے جا ری ہے۔ اس سروے کے دوران جمع کیے جانے والے تمام ڈیٹا کو محفوظ رکھا جا رہا ہے، اور اب تک تقریباً دو کروڑ سے زائد گھرانوں کا سروے مکمل ہو چکا ہے، جس میں30 ہزار تربیت یافتہ اینیومیٹرز نے گھر گھر جا کر معلومات اکٹھی کی ہیں۔
تاکہ آئندہ حکومتِ پنجاب کے تمام سماجی تحفظ اور فلاحی اقدامات سمیت رمضان پیکیج بھی پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری کے مستند اور مربوط ڈیٹا کی روشنی میں ترتیب دیے جائیں گے، جس سے وسائل کے درست استعمال کے ساتھ شکایات کے ازالے کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا تاکہ امداد اورسہولیات حقیقی مستحقین تک شفاف اور مؤثر انداز میں پہنچ سکے محترمہ جہاں آراء منظور وٹو نے پی ایس ای آر کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی جدید ڈیٹا پر مبنی نظام کے ذریعے صوبے میں سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط، شفاف اور مؤثر بنائے گی پنجاب کی 13 کروڑ آبادی ہے، اور اس پروگرام کا مقصد تمام خاندانوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنا ہے تاکہ حقداروں کی درجہ بندی کی جا سکے اور سوشل پروٹیکشن پروگرامز کے تحت امداد فراہم کی جا سکے تاہم، پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری پروگرام کے تحت گھر گھر جا کرخاندانوں کی رجسٹری کی جا رہی ہے تاکہ حکومت پنجاب کی جانب سے بلا تفریق میرٹ اور شفاف طریقے سے مستحق خاندانوں کو مالی امداد، سہولیات اور دیگر مراعات دی جا سکیں
پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی نے پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری کے سروے کے لیے ایک جامع حکمت عملی بنائی گئ۔ اس پروگرام کے تحت، صوبے بھر میں 5 ہزار رجسٹریشن سینٹرز قائم کیے گئے تھے ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو سوشیو اکنامک رجسٹری کی مانیٹرنگ کا ٹاسک سونپا گیا۔ اس کے علاوہ، ضلعی انتظامیہ اور فیلڈ آپریشنز کی نگرانی کے لیے ایک مربوط حکمت عملی بنائی گئی پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی ایک حکومتی ادارہ ہے جو پنجاب میں سوشل پروٹیکشن پروگرامز کو نافذ کرنے اور مستحق خاندانوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ اس اتھارٹی کا مقصد پنجاب کے تمام خاندانوں کی معاشی صورتحال کا جائزہ لینا اور انہیں مختلف حکومتی مراعات اور سہولیات فراہم کرنا ہے۔پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے تحت مختلف پروگرامز شامل ہیں، جیسے کہ پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری سروے کے تحت گھر گھر جا کر خاندانوں کی رجسٹری کرنا اور انہیں مختلف سہولیات فراہم کرنا۔احساس راشن پروگرام کا اجرأء اور کم آمدنی والے خاندانوں کو راشن کی سہولت فراہم کرنا۔ مستحق خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ فراہم کرنا۔ہمت کارڈ فراہم کرنا۔ کسانوں کو کسان کارڈ فراہم کرنا” دھی رانی” اجتماعی شادیوں کا پروگرام بھی وزیر اعلی’ مریم نواز کے سماجی فلاحی انقلابی اقدامات کا حصہ ہیں پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کا مقصد پنجاب کے عوام مکمل سماجی تحفظ اور لاکھوں مستحق خاندانوں کی معاشی بہتری کے لیے کام کرنا اور انہیں خود کفیل بنانا ہے پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری کا مقصد پنجاب کے پنجاب بھر کے تمام خاندانوں کی معاشی صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہر گھرانے کا معاشی سٹیٹس درج کیا جائے گا، جس میں آمدن، رہائشی سماجی اور معاشی حالات اور دیگر ضروری معلومات شامل ہوں گی۔پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری کا اولین مقصد مستحق خاندانوں کی شناخت کرنا ہے پنجاب کے تمام خاندانوں کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جاسکے اور مستحق خاندانوں کی شناخت کی جایے مستحق خاندانوں کو مختلف سہولیات فراہم کرنا، جیسے کہ مالی امداد، راشن، وظائف، سستا آٹا، ہیلتھ کارڈ، مفت طبی سہولت، گھریلو سطح پر ترقیاتی امداد، ای بائیک، سولر پینل، ہمت کارڈ، اور کسان کارڈ کرنا اور دیگر فلاحی منصوبے بھی ان مقاصد میں شامل ہے متذکرہ سہولیات کی فراہمی میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا۔ خاندانوں کو مختلف دستاویزات کی سہولت فراہم کرنا، جیسے کہ ڈومیسائل، نیب، اور دیگر ضروری دستاویزات کی فراہمی شامل ہے مستقبل قریب میں ان مقاصد گی تکمیل کے لیے ٹیمیں گھر گھر جا کر خاندانوں کی مکمل رجسٹریشن کا عمل تکمیل کے مراحل میں ہے خاندانوں کی آمدنی، رہائشی حالات، اور دیگر ضروری معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ جمع شدہ ڈیٹا کو پنجاب کے مرکزی فلاحی ڈیٹا بیس میں شامل کیا جائے گا۔مستحق خاندانوں کی اہلیت کی جانچ کی جائے گی تاکہ انہیں مختلف مراعات سہولیات فراہم کی جا سکیں۔وزیر اعلی’ مریم نواز کے ویژن کے تحت پنجابہ حکومت نے گذشتہ سال پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کےآغوش پروگرام کے تحت ابتک جنوبی پنجاب کی تین لاکھ چونتیس ہزار (334,000) حاملہ خواتین اور دو سال سے کم عمر بچوں کی ماؤں کو اسّی کروڑ (800,000,000) روپے کی رقم منتقل کی گئ آغوش پروگرام سے منسلک ایک لاکھ سے زائد خواتین نے اپنے اکاؤنٹس سے ایک بار بھی رقم نہیں نکلوائی اوراُن کے اکاؤنٹس میں تقریباً چالیس کروڑ (400,000,000) روپے کی رقم موجود تھی دھی رانی” اجتماعی شادیوں کے پروگرام کے تحت گذشت سال تین ھزار مستحق بچیوں کی شادیاں کرائی گئیں پنجاب میں 64 لاکھ خاندانوں کو گھر کی دہلیز پر رمضان پیکیج دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت 35500 سے زائد خاندانوں نے اپنے گھروں کی تعمیر مکمل کی گئ اور 117159 خاندانوں کو پروگرام سے مستفید کیا گیا اس کے علاوہ گذشتہ سال ماہ رمضان میں سستا رمضان پیکج کے تحت 40 لاکھ خاندانوں کو 20 ارب روپے کی امداد دی گئی، جس میں فی خاندان 5 ہزار روپے کی نقد رقم شامل تھی۔ اس پیکج کے تحت ملک بھر میں 2 کروڑ افراد مستفید ہوئے امسال پنجاب حکومت نے رمضان پیکج کے تحت مستحق خاندانوں کو 30 ارب روپے تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیکج کے تحت، ہر مستحق خاندان کو 10 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے۔ یہ رقم گھر کی دہلیز پر پہنچائی جائے گی۔
امدادی رقوم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہم کی جائیں گی تاکہ عوام کی عزت و تکریم مجروح نہ ہو پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی پی ای ایس آر سروے کے مکمل ہونے کے بعد مختلف فلاحی اقدامات کر رہی ہے، اس کے علاوہ بیواؤں کو ماہانہ مالی مدد فراہم کرنے کے لیے بیوا سہارا کارڈ جاری کیے جا رہے ہیں۔ سندس فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر تھیلیسیمیا اور ہیموفیلیا کے مریض بچوں کو علاج اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور ایڈاپٹو سوشل پروٹیکشن کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ صوبوں کے درمیان ہم آہنگی، پالیسی سازی میں اشتراک اور اجتماعی اقدامات کو فروغ دینے کے لیے بین الصوبائی فورم برائے سماجی تحفظ قائم کیا گیا ہے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے پی ای ایس آر (پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری) سروے کروانے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کہ مستحق گھرانوں کی درست شناخت کی جا سکے اور انہیں حکومتی فلاحی منصوبوں کا فائدہ دیا جا سکے۔ اس سروے کا مقصد پنجاب کے ہر شہری کا جامع سماجی و معاشی ڈیٹا تیار کرنا ہے تاکہ فلاحی منصوبوں کی تقسیم شفاف اور مستحق خاندانوں کو خوشحال بنایا جاۓ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کا ویژن پنجاب کو ترقی اور خوشحالی کی نئی منازل تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے صوبے میں ترقیاتی نظام کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے خود کار بنایا ہے، جس سے پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور پیش رفت کا جائزہ یومیہ بنیادوں پر لیا جارہا ہی پنجاب کے عوام کو اپنے گھروں کا مالک بنایا جا رہا ہے۔تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلاب لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاکہ
ترقی یافتہ اور خوشحال پنجاب کے خواب کی تعمیر ممکن ہو سکے #



