پاکستاناہم خبریں

بیرونِ ملک جرائم میں ملوث افراد کی نشاندہی جدید سافٹ ویئر کے ذریعے کی جائے گی: محسن نقوی

ایف آئی اے، فیڈرل کانسٹیبلری اور سائبر کرائم سے متعلق اداروں کے افسران کے لیے تربیتی پروگرامز کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا تاکہ جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے افرادی قوت کو مزید پیشہ ور بنایا جا سکے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بیرونِ ملک جرائم میں ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر استعمال کیے جائیں گے تاکہ مالیاتی فراڈ، دہشت گردی کی فنڈنگ اور سائبر جرائم کی مؤثر روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کو مزید فروغ دے گا۔
یہ بات انہوں نے ہفتے کے روز امریکی سفارت خانے کی قائم مقام سفیر نیٹلی بیکر کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی امریکی وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات، دوطرفہ سکیورٹی تعاون، بارڈر مینجمنٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جاری اشتراک پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران اینٹی ٹیررسٹ اسسٹنس پروگرام (ATA) اور بیورو آف انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لا انفورسمنٹ افیئرز (INL) سمیت امریکی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں فریقین نے اس امر پر زور دیا کہ مستقبل میں ہر سطح پر بہتر کوآرڈینیشن کے ذریعے پاک امریکہ تعاون کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ایف آئی اے، فیڈرل کانسٹیبلری اور سائبر کرائم سے متعلق اداروں کے افسران کے لیے تربیتی پروگرامز کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا تاکہ جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے افرادی قوت کو مزید پیشہ ور بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی تعاون سے ایف آئی اے میں سینٹر فار ٹرانسفارمیشن کرائم اور ایک جدید اکیڈمی کے قیام کے منصوبے پر بھی پیش رفت کی جا رہی ہے۔
محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ ایف آئی اے کے انسداد دہشت گردی ونگ کو فعال بنانے کے لیے امریکی معاونت نہایت اہم ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق یہ وفاقی سطح پر پہلا اینٹی ٹیررسٹ ونگ ہوگا جو صوبائی اداروں کے ساتھ مؤثر کوآرڈینیشن کے ذریعے کام کرے گا، جس سے دہشت گردی اور منظم جرائم کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیر داخلہ نے نیشنل سائبر کرائمز انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارہ ملک بھر میں غیرقانونی کال سینٹرز کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی فراڈ، آن لائن جرائم اور دہشت گردی کی فنڈنگ کی روک تھام کے لیے جدید سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل ٹولز ناگزیر ہو چکے ہیں، اور اس ضمن میں امریکہ کا این سی سی آئی اے کے ساتھ تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
امریکی وفد نے پاکستان کی جانب سے سکیورٹی تعاون، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت میں اضافے اور دوطرفہ روابط کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے کہا کہ وزارت داخلہ اور امریکی اداروں کے درمیان مختلف سطح پر جاری تعاون قابلِ تحسین ہے، اور امریکہ پاکستان کے ساتھ سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے کے شعبوں میں اشتراک مزید بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
ملاقات میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، وفاقی سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، کمانڈنٹ فیڈرل کانسٹیبلری، ڈی جی نیشنل سائبر کرائمز انوسٹی گیشن ایجنسی، ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن، آئی جی اسلام آباد پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
حکام کے مطابق یہ ملاقات پاک امریکہ تعلقات میں اعتماد، شراکت داری اور مشترکہ سکیورٹی اہداف کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button