
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے دونوں ممالک کی افواج نے مشترکہ فوجی مشق ’انسپائرڈ گیمبٹ 2026‘ کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی۔ اس مشق کو خطے میں انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتوں میں اضافے اور دوطرفہ دفاعی تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے آفیشل ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق، رواں ہفتے امریکی اور پاکستانی افواج نے پاکستان کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر، پبی میں دو ہفتوں پر مشتمل اس مشترکہ مشق کے دوران پیشہ ورانہ تربیت مکمل کی۔ مشق کا مقصد دونوں افواج کے درمیان آپریشنل ہم آہنگی کو فروغ دینا اور جدید عسکری چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی تیار کرنا تھا۔
سینٹ کام کے مطابق، مشق کے دوران انفنٹری مہارتوں، جدید جنگی حکمتِ عملیوں، مشترکہ آپریشنز، اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ دونوں ممالک کے فوجی دستوں نے زمینی کارروائیوں، شہری علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی، انٹیلی جنس شیئرنگ، اور فوری ردعمل کی مشقیں کیں، جن کا مقصد حقیقی حالات سے ہم آہنگ تربیت فراہم کرنا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ مشق پاکستان اور امریکہ کی افواج کے درمیان باہمی اعتماد، عملی تعاون اور پیشہ ورانہ ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوئی ہے۔ بیان کے مطابق، مشترکہ تربیت سے دونوں افواج کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر تیاری کا موقع ملا۔
واضح رہے کہ انسپائرڈ گیمبٹ 2026 مشق 8 سے 16 جنوری 2026 تک جاری رہی، جس کا بنیادی فوکس انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی سلامتی کو درپیش چیلنجز تھا۔ یہ مشق 1995 سے جاری پاکستان اور امریکہ کے دوطرفہ تربیتی سلسلے کی 13ویں کڑی ہے، جو دونوں ممالک کے دیرینہ دفاعی تعلقات کی عکاس ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، اس نوعیت کی مشترکہ مشقیں نہ صرف پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان جاری دفاعی تعاون اس بات کا مظہر ہے کہ دونوں ممالک علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اہداف رکھتے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ انسپائرڈ گیمبٹ جیسی مشقیں مستقبل میں دونوں افواج کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کریں گی اور باہمی اعتماد پر مبنی شراکت داری کو مزید فروغ دیں گی۔ یہ مشق اس امر کی بھی عکاس ہے کہ پاکستان اور امریکہ بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول میں مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔



