
کیا ٹرمپ ایران ٹیرف پر چین کے ساتھ تصادم کا خطرہ مول لیں گے؟
یہ ٹیرف بظاہر ان مظاہروں کے جواب میں امریکی ردِعمل کی علامت ہیں۔ بعد ازاں ٹرمپ نے خبردار بھی کیا کہ اگر تہران مظاہرین کو ہلاک کرتا ہے، تو ''انتہائی سخت اقدام‘‘ کیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اب سے، ”اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والا کوئی بھی ملک، امریکہ کے ساتھ ہونے والے ہر قسم کے کاروبار پر25 فیصد ٹیرف ادا کرے گا۔‘‘ تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کو حالیہ برسوں کی سب سے بڑی اور طویل المدت حکومت مخالف احتجاجی تحریک کا سامنا ہے۔ حکومت کا اس کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری ہے، جس میں رپورٹس کے مطابق تقریبا دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 10 ہزار سے زائد کو گرفتار کیا گیا۔
یہ ٹیرف بظاہر ان مظاہروں کے جواب میں امریکی ردِعمل کی علامت ہیں۔ بعد ازاں ٹرمپ نے خبردار بھی کیا کہ اگر تہران مظاہرین کو ہلاک کرتا ہے، تو ”انتہائی سخت اقدام‘‘ کیے جائیں گے۔
نئے ٹیرفس سب سے زیادہ چین کو کیوں متاثر ہو گا؟
چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، حالانکہ ایران کا جوہری پروگرام بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہے۔ برسلز میں قائم توانائی کی نگرانی کرنے والی کمپنی کلپر کے مطابق، گزشتہ سال چین نے ایران کی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 80 فیصد وصول کیا۔
پابندیوں کے باوجود تیل کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے ایران ایک پیچیدہ "شیڈو فلیٹ” نیٹ ورک پر انحصار کرتا ہے، جس میں ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں منتقلی شامل ہے، جو اکثر جنوب مشرقی ایشیا یا خلیجِ عرب کے پانیوں میں ہوتی ہے۔ اس میں بھی تیل کے کارگو کو دوسرے ممالک، مثلاً ملائیشیا یا متحدہ عرب سے آیا ہوا ظاہر کیا جاتا ہے۔
امریکی غیر منافع بخش ادارے ‘یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران’ کے ایک آئل ٹینکر ٹریکر کے مطابق، چین نے گزشتہ سال ایران سے ایک کروڑ 95 لاکھ بیرل تیل وصول کیا۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق اس طرح کے شیڈو ٹریڈ سے ایرانی حکومت کے لیے غیر رپورٹ شدہ آمدن میں سالانہ 43 بلین ڈالر کے جمع ہونے کا تخمینہ ہے۔

ایرانی معیشت کے لیے یہ آمدن زندگی کی ڈور کی حیثیت رکھتی ہے، جو پابندیوں، دائمی مہنگائی اور تیزی سے گرتی ہوئی کرنسی کے دباؤ میں ایک تنہا نظامِ حکومت کو سہارا دیتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ٹریڈ انٹیلیجنس اینڈ نیگوشی ایشن ایڈوائزر (ٹی آئی این اے) کے مطابق تیل کے علاوہ، ایران نے 2024 میں دنیا بھر کو 12.9 ارب ڈالر کی اشیا برآمد کیں، جن میں سے غیر تیل برآمدات کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ چین کو گیا۔ اسی عرصے میں ایران کی کل درآمدات کا تقریباً 40 فیصد (8.95 ارب ڈالر) بھی چین سے آیا، جو دونوں ممالک کے گہرے معاشی تعلقات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
ایران کے دیگر بڑے تجارتی شراکت دار، جو نئے 25 فیصد ٹیرف سے متاثر ہو سکتے ہیں، میں ترکی (جو ایران کی غیر تیل برآمدات کا تقریباً ایک چوتھائی وصول کرتا ہے)، بھارت، متحدہ عرب امارات اور پاکستان شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان چاروں ممالک کے ادارے ایران کی پابندی زدہ تیل تجارت میں سہولت کار کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔
تازہ ٹیرفس چین کے ساتھ کشیدگی کو کیسے بڑھا سکتے ہیں؟
اگرچہ یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کا نیا ٹیرف صرف اشیا پر لاگو ہوگا یا اس میں بینکاری اور شپنگ جیسی خدمات بھی شامل ہوں گی۔ اس سے بالواسطہ کاروباری تعلقات کو نشانہ بنایا جائے گا، یا ایران کے ساتھ ‘کاروبار‘ کے لیے کوئی کم از کم حد مقرر کی جائے گی۔ تاہم یہ ٹیرف چین کے لیے بڑے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
اس اقدام سے امریکی منڈی میں چینی برآمدات کی لاگت مزید 25 فیصد بڑھ جائے گی، جس سے مجموعی ڈیوٹی موجودہ شرحوں کے علاوہ 45 فیصد یا اس سے بھی زیادہ تک جا سکتی ہے، اور یوں چینی مصنوعات امریکی مارکیٹ میں کم مسابقتی ہو جائیں گی۔
یہ نیا محصول امریکہ اور چین کے درمیان اکتوبر میں طے پانے والی نازک تجارتی جنگ بندی کو بھی سبوتاژ کر سکتا ہے، جس کے تحت دونوں طاقتوں نے مکمل تجارتی جنگ سے پیچھے ہٹتے ہوئے نئے ٹیرف میں اضافے کو روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے تحت چین نے نایاب معدنیات کی برآمدات پر پابندیاں معطل کر دی تھیں اور امریکہ نے سویا بین کی بڑی خریداری دوبارہ شروع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
ٹرمپ کا یہ قدم بیجنگ کی جانب سے سخت جوابی کارروائی کو بھی جنم دے سکتا ہے، کیونکہ چین ان چند ممالک میں ایک تھا، جس نے گزشتہ سال امریکی درآمدات پر ترکی بہ ترکی ٹیرفس عائد کر کے ٹرمپ انتظامیہ کا مقابلہ کیا تھا۔

منگل کے روز بیجنگ نے نئے ٹیرف کو ”غیر قانونی اور یکطرفہ پابندیاں‘‘ قرار دیا اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا۔ ادھر تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ نیا ٹیرف عالمی سپلائی چینز اور تیل کی منڈیوں میں خلل ڈال سکتا ہے۔ اس خبر کے فوری بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
کیا بیجنگ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت خطرے میں پڑ سکتی ہے؟
یہ بات ابھی تک واضح نہیں کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ نئے ٹیرف سے چین کو مستثنیٰ قرار دے گی یا نہیں۔ تاہم بیجنگ کے لیے کسی قسم کی رعایت دینا ٹیرف کے اعلان کردہ مقصد کو کمزور کر دے گا، جس کا اہم مقصد ایران کو اس کے باقی ماندہ معاشی اتحادیوں سے الگ تھلگ کر کے دباؤ میں لانا ہے۔
تاہم، ٹیرف کا سختی سے نفاذ ایسے وقت میں بیجنگ کے ساتھ بڑے تصادم کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے جب امریکہ کے تجارتی مذاکرات پہلے ہی نازک مرحلے میں ہیں۔ امریکہ سب سے بڑی برآمدی منڈیوں میں سے ایک ہونے کے باعث، چین واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں نمایاں اثر و رسوخ رکھتا ہے، خاص طور پر زرعی اور صنعتی شعبوں میں۔
نایاب معدنیات (ریئر ارتھ منرلز) پر اپنی بالادستی کے علاوہ، جو برقی گاڑیوں اور جدید ٹیکنالوجی کی تیاری کے لیے ناگزیر ہیں، بیجنگ اہم صنعتی پرزہ جات کی سپلائی چینز پر بھی کنٹرول رکھتا ہے، اور اگر بات چیت خراب رخ اختیار کرے، تو اس کی مدد سے چینی مذاکرات کاروں کو دباؤ ڈالنے کے مؤثر ذرائع حاصل ہیں۔
امریکی تجارتی امور کی سابق مشیر وینڈی کٹلر نے خبردار کیا کہ نیا ٹیرف ”اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی جنگ بندی کتنی نازک ہے۔‘‘ انہوں نے خبر رساں ادارے بلومبرگ کو بتایا کہ اگر ٹرمپ پیچھے بھی ہٹ جائیں تو بھی ”دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کو کچھ نہ کچھ نقصان تو پہلے ہی پہنچ چکا ہے۔‘‘
جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں مشرقِ وسطیٰ کے ماہر محمد قائدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اصل مسئلہ ”نفاذ کی صلاحیت‘‘ ہو گا، کیونکہ چین نام نہاد ٹی پاٹ ریفائنریز، یعنی غیر سرکاری ملکیتی تنصیبات، کے ذریعے ایرانی تیل کو پراسیس کرتا ہے اور تیسرے ممالک میں قائم فرنٹ کمپنیوں کے ذریعے خریداری کرتا ہے۔
قائدی کے مطابق اگر یہ ٹیرف نافذ کر دیا گیا تو ٹرمپ کا یہ اقدام ”چین کے حساب کتاب کو سنجیدگی سے بدل سکتا ہے‘‘، کیونکہ بیجنگ اس بات پر نظرِثانی کر سکتا ہے کہ آیا سستے ایرانی تیل کے فوائد، امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کو پہنچنے والے نقصان سے زیادہ ہیں یا نہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سابق چیف اکنامسٹ مورس آبسٹ فیلڈ نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ایران پر عائد کیا جانے والا یہ ٹیرف چین کے بجائے ”امریکہ کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوگا‘‘ اور یہ کہ اس سے ”ایرانیوں کے رویّے میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں آئے گی۔‘‘



