پاکستاناہم خبریں

پاکستان کے صوبہ سندھ میں گل پلازہ میں ہولناک آتشزدگی، فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی، عمارت زمین بوس ہونے کے خدشات

مکمل عمارت کے زمین بوس ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر ریسکیو اہلکار انتہائی احتیاط کے ساتھ امدادی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

شہرِ قائد کے مصروف ترین علاقے صدر میں واقع ایم اے جناح روڈ پر قائم گل پلازہ میں گزشتہ شب لگنے والی خوفناک آگ تاحال مکمل طور پر قابو میں نہیں آ سکی، جس کے باعث علاقہ شدید خوف و ہراس کی لپیٹ میں ہے۔ ریسکیو 1122 سندھ کے مطابق اتوار کی صبح تک آگ پر تقریباً 77 فیصد قابو پا لیا گیا ہے، تاہم عمارت کے کمزور ہو جانے اور دراڑیں پڑنے کے باعث کسی بھی وقت مکمل انہدام کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس تیسرے درجے کی آتشزدگی کے نتیجے میں اب تک ایک فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 30 سے زائد افراد زخمی ہیں، جن میں سے 11 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 40 سالہ کاشف، 55 سالہ فراز، 30 سالہ عامر، 28 سالہ عامر اور ایک نامعلوم شخص شامل ہیں، جبکہ شہید ہونے والے فائر فائٹر کی شناخت فرقان علی کے نام سے ہوئی ہے، جنہوں نے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جان قربان کی۔

عمارت کو شدید نقصان، ایک حصہ منہدم

آگ کی شدت کے باعث گل پلازہ کی عمارت میں گہری دراڑیں پڑ چکی ہیں اور اس کا ایک حصہ منہدم بھی ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل حرارت اور دھوئیں کے باعث عمارت کی ساخت انتہائی کمزور ہو چکی ہے، جس کے باعث مکمل عمارت کے زمین بوس ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر ریسکیو اہلکار انتہائی احتیاط کے ساتھ امدادی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔

گل پلازہ کے باہر اضطراب اور بے یقینی

اتوار کی صبح گل پلازہ کے باہر اضطراب اور بے یقینی کی فضا بدستور قائم رہی۔ اگرچہ سیاہ دھوئیں کی بو اب کچھ حد تک کم ہو چکی تھی، مگر وہاں جمع افراد کے چہروں پر خوف اور بے چینی نمایاں تھی۔ متاثرہ خاندانوں کے افراد رات بھر عمارت کے باہر کھڑے رہے، کسی معجزے، کسی خبر کے منتظر۔

قیصر علی بھی انہی افراد میں شامل تھے، جو پوری رات جائے حادثہ پر موجود رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کے بعد سے ان کی اہلیہ، بہن اور بیٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ وہ انتظامیہ اور ریسکیو اہلکاروں سے بار بار اپیل کرتے رہے کہ کسی طرح انہیں اپنے پیاروں کے بارے میں اطلاع دی جائے، مگر ہر گزرتا لمحہ ان کی تشویش میں اضافہ کرتا رہا۔

امید اور مایوسی کے درمیان معلق خاندان

گل پلازہ کے باہر موجود کئی خاندانوں کی کیفیت قیصر علی جیسی ہی تھی۔ کوئی موبائل فون ہاتھ میں لیے کال آنے کا منتظر تھا، تو کوئی اسپتالوں میں لگائی گئی فہرستوں میں اپنے پیاروں کے نام تلاش کرتا نظر آیا۔ ہر ایمبولینس کے پہنچنے پر امید کی ایک کرن جاگتی، مگر چند لمحوں بعد وہ مایوسی میں بدل جاتی۔ ان خاندانوں کے لیے یہ سانحہ محض ایک عمارت میں لگنے والی آگ نہیں بلکہ زندگی کا سب سے کڑا امتحان بن چکا تھا۔

متاثرہ تاجروں کی جمع پونجی خاکستر

آتشزدگی نے نہ صرف قیمتی انسانی جانیں لیں بلکہ درجنوں تاجروں اور مزدوروں کی برسوں کی محنت بھی راکھ کر دی۔ یاسمین بی بی، جو اپنی بیٹی کے ساتھ بیسمنٹ میں موجود تھیں، نے بتایا کہ آگ اچانک بھڑکی اور چند ہی لمحوں میں لوگ چیختے چلاتے باہر نکلنے لگے۔ ان کے مطابق صرف پندرہ منٹ کے اندر شعلے پوری عمارت میں پھیل گئے۔ وہ اپنی جان تو بچانے میں کامیاب ہو گئیں، مگر ان کی دکان اور ساری جمع پونجی اسی آگ کی نذر ہو گئی۔ اب وہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں کہ آئندہ زندگی کیسے گزرے گی۔

ریسکیو آپریشن میں مشکلات

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ترجمان دانیان علی کے مطابق آگ کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ اور ریسکیو عملہ موقع پر پہنچ گیا تھا، تاہم ایم اے جناح روڈ پر جاری ترقیاتی کام، سڑک کی کھدائی، تنگ راستوں اور ٹریفک کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شدید گرمی، گنجان دھواں اور عمارت کی بگڑتی ہوئی حالت نے فائر فائٹرز اور ریسکیو اہلکاروں کے لیے صورتحال کو نہایت خطرناک بنا دیا۔

حکومتی ردِعمل اور انکوائری کا اعلان

اتوار کی رات وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں کے ایم سی کا ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے، جبکہ 22 افراد زخمی ہیں جنہیں اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 58 سے 60 کے قریب افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔

سندھ حکومت نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا ہے اور متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ صدرِ مملکت اور وزیراعظم نے بھی واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کے بہترین علاج اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

تاہم گل پلازہ کے باہر موجود متاثرہ افراد کے لیے سرکاری بیانات سے زیادہ اہم وہ ایک خبر ہے، جو انہیں اپنے پیاروں کے بارے میں مل سکے—ایک ایسی خبر، جس کا انتظار اب بھی جاری ہے اور جس پر کئی زندگیوں کی امیدیں ٹکی ہوئی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button