
اے ایف پی کے ساتھ
آسٹریلیا سمیت دنیا کے چند ممالک میں تو نوجوانون کی جسمانی، ذہنی اور سماجی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی ملک گیر پابندیاں یا تو نافذ ہو چکی ہیں یا ان پر کام جاری ہے۔
فرانسیسی ماہرین کی کمیٹی کی طرف سے جائزہ
آسٹریلیا حال ہی میں دنیا کا ایسا پہلاملک بن گیا تھا، جہاں 16 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی دسمبر میں نافذ العمل ہو گئی تھی۔ ان پلیٹ فارمز میں انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب شامل ہیں۔ اس کے بعد دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی اپنے ہاں ایسی ممکنہ پابندیوں پر غور کرنا شروع کر دیا تھا۔

فرانس میں اس مقصد کے لیے حکومت نے ذمے داری سائنسی ماہرین کی ایک ایسی ٹیم کو سونپی تھی، جسے یہ سفارشات دینا تھیں کہ آیا فرانس میں بھی کم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگا دی جانا چاہیے؟
فرانس میں ملکی ماہرین کی ایک کمیٹی بھی دراصل گزشتہ پانچ برسوں سے اس بارے میں تحقیق کر رہی تھی کہ آیا سوشل میڈیا استعمال کرنے کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر کوئی منفی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں؟
اب سائنسی ماہرین کی ٹیم اور صحت عامہ پر نظر رکھنے والے فرانسیسی واچ ڈاگ ANSES نے اپنی تفصیلی رائے میں لکھا ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے سے نوجوانوں کے لیے صحت کے کئی طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں۔

پبلک ہیلتھ واچ ڈاگ کے اخذ کردہ نتائج
فرانس میں صحت عامہ پر نظر رکھنے والے ادارے اے این ایس ای ایس نے اپنی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ فرانسیسی ٹین ایجرز کی ذہنی صحت کے زوال کے اسباب میں سے سوشل میڈیا کوئی واحد وجہ تو نہیں، تاہم ایسے میڈیا کے استعمال سے نوجوانوں میں ”منفی اثرات” بلاشبہ پیدا ہوتے ہیں اور ان کے بیسیوں تحقیقی مطالعات سے اخذ کردہ ”باقاعدہ دستاویزی شواہد‘‘ بھی موجود ہیں۔
اس فرانسیسی ادارے کی یہ رائے اس وجہ سے بھی بڑی اہم ہے کہ یورپی یونین کے رکن اس ملک میں پہلے ہی دو ایسے قانونی مسودوں پر باقاعدہ بحث جاری ہے، جن میں 15 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کی ممانعت تجویز کی گئی ہے۔

ان دو قانونی مسودوں میں سے ایک تو فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کا حمایت یافتہ بھی ہے۔ اس لیے ماہرین کے مطابق امکان ہے کہ فرانس جلد ہی ایسے ممالک میں شامل ہو سکتا ہے، جہاں نوجوانوں کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے انہیں سوشل میڈیا استعمال کرنے سے قانوناﹰ روک دیا گیا ہو۔
ایسے میں فرانسیسی ماہرین کی یہ رائے بھی باعث تشویش ہے کہ ایسی نوجوان لڑکیاں، جو اپنے ہم عمر لڑکوں کے مقابلے میں سوشل میڈیا زیادہ استعمال کرتی ہیں، انہیں ”صنفی تشخص سے جڑے ایسے سماجی دباؤ کا زیادہ سامنا‘‘ کرنا پڑتا ہے، جو بالآخر ان کی نفسیاتی صحت کو لڑکوں سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔



