
رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں پیش آنے والے المناک سانحہ مگرمل باغ کو آج 35 برس مکمل ہو چکے ہیں، تاہم یہ دلخراش واقعہ آج بھی کشمیری عوام کے اجتماعی شعور میں ایک گہرے اور تازہ زخم کی مانند موجود ہے۔ 19 جنوری 1991 کو سری نگر کے علاقے مگرمل باغ میں پیش آنے والا یہ سانحہ نہ صرف بھارتی ریاستی جبر اور طاقت کے بے دریغ استعمال کی عکاسی کرتا ہے بلکہ کشمیری عوام کی جائز، پُرامن اور قانونی جدوجہد کو کچلنے کی ایک منظم پالیسی کا واضح ثبوت بھی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، اس روز بڑی تعداد میں کشمیری شہری اپنے بنیادی انسانی، سیاسی اور جمہوری حقوق کے حصول کے لیے پُرامن احتجاج میں شریک تھے۔ مظاہرین نہتے تھے اور ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ اپنی آواز عالمی برادری تک پہنچائیں اور اپنے حقِ خودارادیت کے مطالبے کو پرامن انداز میں اجاگر کریں۔ تاہم، بھارتی قابض افواج نے حالات کو سنبھالنے یا مظاہرین کو منتشر کرنے کے بجائے طاقت کے وحشیانہ استعمال کا راستہ اختیار کیا اور بلا اشتعال اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
اس بے رحمانہ کارروائی کے نتیجے میں کم از کم 16 کشمیری شہری موقع پر ہی شہید ہو گئے، جبکہ درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں نوجوان، بزرگ اور عام شہری شامل تھے، جن میں سے کئی آج بھی جسمانی معذوری اور گہرے ذہنی صدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ فائرنگ کے بعد مقامی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، تاہم محدود طبی سہولیات، کرفیو اور خوف کی فضا کے باعث متعدد زخمیوں کو بروقت اور مکمل طبی امداد نہ مل سکی، جس نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق، فائرنگ اچانک اور بغیر کسی پیشگی انتباہ کے کی گئی، جس سے پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ پرامن مظاہرین کو منتشر کرنے کے بجائے براہِ راست نشانہ بنایا گیا، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ قابض افواج کشمیری عوام کی آواز کو بندوق کے زور پر دبانا چاہتی تھیں۔ عینی شاہدین کے بقول، اس روز مگرمل باغ خون میں نہا گیا، فضا چیخ و پکار سے گونج اٹھی اور ہر طرف افراتفری کا عالم تھا، جس نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
ماہرین اور مبصرین کے مطابق، سانحہ مگرمل باغ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں برسوں سے جاری اس منظم اور سخت گیر پالیسی کا حصہ تھا، جس کے تحت ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اجتماعی سزائیں، طویل کرفیو، گھروں پر چھاپے اور سیاسی و شہری آزادیوں کو مسلسل محدود کیا جاتا رہا ہے۔ یہ سانحہ کشمیری تاریخ کے ان سیاہ ابواب میں شامل ہے جو بھارتی ریاستی جبر کی اصل تصویر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مگرمل باغ جیسے واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ طاقت، خوف اور جبر کے ذریعے کسی قوم کی آزادی اور حقِ خودارادیت کی خواہش کو ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔ ان کے مطابق، کشمیری عوام نے دہائیوں پر محیط قربانیوں، جان و مال کے نقصان اور بے شمار مشکلات کے باوجود اپنے جائز مطالبے سے کبھی دستبردار ہونے کا فیصلہ نہیں کیا اور آج بھی وہ اسی ثابت قدمی اور عزم کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، سانحہ مگرمل باغ کو 35 برس گزر جانے کے باوجود اس کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا جانا عالمی برادری کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس سانحے سمیت مقبوضہ کشمیر میں پیش آنے والی تمام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا غیر جانبدارانہ اور سنجیدہ نوٹس لیں، شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں اور متاثرین و لواحقین کو انصاف دلانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
آج، جب کشمیری عوام سانحہ مگرمل باغ کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں، اس موقع پر یہ عہد بھی دہرایا جا رہا ہے کہ آزادی اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد ہر قیمت پر جاری رکھی جائے گی۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے غیور اور باہمت عوام کا کہنا ہے کہ کوئی بھی طاقت انہیں اپنے جائز، قانونی اور اخلاقی مطالبے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتی، اور تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ظلم، جبر اور ناانصافی کے سائے کبھی بھی ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہتے۔




