کاروبار

پاکستانی نوجوانوں میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ زراعت سمیت دیگر شعبوں میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں،وزیراعظم محمد شہباز شریف

ملک بھر سے میرٹ کی بنیاد پر منتخب کیے گئے ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کو چین کی ممتاز زرعی جامعات اور تحقیقی مراکز میں تربیت کے لیے بھجوایا گیا

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان چین کے تجربات، مہارت اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرکے سالوں نہیں بلکہ مہینوں میں غیرمعمولی ترقی کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب استحکام کے مرحلے سے نکل کر پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہو چکی ہے اور حکومت چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے، سی پیک 2.0، کو عملی حقیقت اور بڑی کامیابی میں بدلنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم ان خیالات کا اظہار پیر کے روز اسلام آباد میں منعقدہ پاک چین ایگری انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کر رہے تھے۔ تقریب میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین، جام کمال خان، اویس لغاری، عطاء اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، وزرائے مملکت، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ، بیجنگ میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، پاکستانی و چینی کمپنیوں کے نمائندگان اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے زراعت کو پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں بے پناہ مواقع موجود ہیں، تاہم جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیداوار میں اضافے کے لیے جدید کاشتکاری، پانی کے مؤثر استعمال، ویلیو چین، کولڈ چین اور ویلیو ایڈیشن کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ اگرچہ اس سمت میں کچھ کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین زراعت، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں دنیا کے لیے ایک مثالی ماڈل بن چکا ہے اور پاکستان ان شعبوں میں چین کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنی معیشت کو تیزی سے مضبوط بنا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ 2024 اور 2025 کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان بی ٹو بی اور جی ٹو جی سطح پر متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں، جنہیں اب دونوں ممالک کے کاروباری ادارے عملی معاہدوں میں تبدیل کر رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ ملک بھر سے میرٹ کی بنیاد پر منتخب کیے گئے ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کو چین کی ممتاز زرعی جامعات اور تحقیقی مراکز میں تربیت کے لیے بھجوایا گیا، جہاں انہوں نے جدید زرعی مہارتیں اور عملی تجربہ حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان وطن واپس آ کر کسانوں کی رہنمائی کریں گے اور ان کی مہارتوں سے زرعی معیشت کی تقدیر بدلنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے چین کے سفیر کی تقریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین کی زرعی تکنیک، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں ترقی بے مثال ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں اور رواں سال دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں، جو دونوں اقوام کی گہری دوستی کا ثبوت ہے۔
وزیراعظم نے پاکستانی کسانوں، زرعی ماہرین اور اداروں پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ زراعت سمیت دیگر شعبوں میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں اور ملک کی معیشت کو سالوں کے بجائے مہینوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم نے افراطِ زر میں نمایاں کمی، پالیسی ریٹ میں کمی، برآمدات میں اضافے اور دیگر مثبت معاشی اشاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام عوامل اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین زراعت سمیت ہر شعبے میں پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کے لیے تیار ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کا دوسرا گھر ہیں۔ انہوں نے پاکستان چین دوستی کو فولاد سے مضبوط اور شہد سے زیادہ میٹھی قرار دیا۔

انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کو وژنری رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف چین کی ترقی بلکہ کثیرالجہتی تعاون اور مشترکہ مستقبل کے تصور پر یقین رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ سی پیک 2.0 کے تحت نئے منصوبے دونوں ممالک کے لیے ترقی اور خوشحالی کا باعث بنیں گے۔
قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ نے کہا کہ پاک چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ان کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی تعاون پر گفتگو دونوں ممالک کے لیے نہایت اہم ہے اور چین عالمی اقتصادی ترقی میں تقریباً 30 فیصد حصہ ڈال رہا ہے، جس سے دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
چینی سفیر نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معاشی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال ملکی معیشت کی شرح نمو 3 فیصد سے زائد رہی جبکہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ شرح 3.71 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مہنگائی کی شرح 4 فیصد پر برقرار ہے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 2.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.2 ارب امریکی ڈالر ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2026 میں چین اپنا 15واں پانچ سالہ منصوبہ تیار کرے گا اور وزیراعظم کے حالیہ دورہ چین کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر تیزی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
چینی سفیر نے زرعی تعاون کو دوطرفہ تعلقات کی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہدف دوطرفہ زرعی تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانا ہے۔ انہوں نے جدید زراعت، ٹیکنالوجی کے استعمال، فصلوں کی پیداوار میں اضافے اور زرعی ٹیلنٹس ٹریننگ پروگرامز میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

تقریب کے اختتام پر پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی، سفارتی، تجارتی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی، جسے شرکاء نے بھرپور سراہا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button