
ڈیووس کلوسٹرز، سوئٹزرلینڈ: ورلڈ اکنامک فورم 2026 میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی اعلیٰ سطحی شرکت
ورلڈ اکنامک فورم کا سالانہ اجلاس دنیا کا ایک نمایاں عالمی پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے، جہاں سیاسی قیادت، عالمی کاروباری اداروں کے سربراہان، بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے اور سول سوسائٹی کے اہم کردار ایک ساتھ جمع ہو کر عالمی معیشت، جغرافیائی سیاست، ماحولیاتی تبدیلی، ٹیکنالوجی اور سماجی ترقی جیسے اہم موضوعات پر غور و خوض کرتے ہیں۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف 20 سے 22 جنوری 2026 تک سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس کلوسٹرز میں منعقد ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کے سالانہ اجلاس میں شرکت کریں گے، جہاں وہ ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ اس اہم عالمی اجتماع میں پاکستان کی شرکت کو عالمی سفارتی، معاشی اور تجارتی سطح پر نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، اہم وفاقی وزراء، سینئر سرکاری حکام، پالیسی سازوں اور ممتاز اقتصادی ماہرین شامل ہوں گے۔ وفد کا مقصد عالمی رہنماؤں، سرمایہ کاروں اور پالیسی اداروں کے ساتھ براہِ راست روابط استوار کرنا اور پاکستان کے اقتصادی وژن کو مؤثر انداز میں پیش کرنا ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کا سالانہ اجلاس دنیا کا ایک نمایاں عالمی پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے، جہاں سیاسی قیادت، عالمی کاروباری اداروں کے سربراہان، بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے اور سول سوسائٹی کے اہم کردار ایک ساتھ جمع ہو کر عالمی معیشت، جغرافیائی سیاست، ماحولیاتی تبدیلی، ٹیکنالوجی اور سماجی ترقی جیسے اہم موضوعات پر غور و خوض کرتے ہیں۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے دورۂ ڈیووس کے دوران متعدد اہم اور بامعنی مصروفیات شیڈول ہیں۔ وہ ورلڈ اکنامک فورم کے زیر اہتمام عالمی اقتصادی رہنماؤں کے غیر رسمی اجتماع (Informal Gathering of World Economic Leaders – IGWEL) میں شرکت کریں گے، جہاں وہ “منقسم دنیا میں مکالمے کی روح کی بحالی” کے عنوان سے منعقد ہونے والے خصوصی سیشن سے خطاب کریں گے۔
اس سیشن میں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سیاسی و معاشی تقسیم، علاقائی و بین الاقوامی تنازعات، عالمی تعاون کے فقدان اور اعتماد کے بحران جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئیں گے۔ وزیر اعظم اپنے خطاب میں عالمی اور علاقائی امن کے قیام، باہمی احترام، کثیرالجہتی تعاون، مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیں گے۔ وہ ترقی پذیر ممالک، بالخصوص پاکستان کو درپیش معاشی، سماجی اور ماحولیاتی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان کا مؤقف بھی تفصیل سے پیش کریں گے۔
دورے کا ایک نمایاں اور کلیدی جزو پاکستان کے لیے مخصوص “اعلیٰ سطحی بزنس گول میز کانفرنس” ہے، جس کی وزیر اعظم محمد شہباز شریف خود میزبانی اور صدارت کریں گے۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے ممتاز کارپوریٹ رہنما، بین الاقوامی سرمایہ کار، مالیاتی اداروں کے نمائندے اور بزنس ایگزیکٹوز شرکت کریں گے۔
وزیر اعظم اس موقع پر پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات، حالیہ حکومتی اصلاحات، کاروبار دوست پالیسیوں، سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری، اور معاشی استحکام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر روشنی ڈالیں گے۔ وہ توانائی، انفراسٹرکچر، آئی ٹی، زراعت، معدنیات، قابلِ تجدید توانائی اور صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کریں گے۔
اس کے علاوہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی عالمی کاروباری رہنماؤں، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سربراہان اور مختلف ممالک کے سیاسی قائدین سے متعدد دو طرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ان ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی جیسے شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزیر اعظم کے دورۂ ڈیووس کے اہم پیغامات میں پاکستان کے معاشی بحالی کے سفر، اصلاحاتی ایجنڈے، برآمدات کے فروغ، علاقائی روابط، ڈیجیٹل معیشت کی ترقی، اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع کی تخلیق شامل ہوں گے۔ وہ عالمی برادری کو پاکستان کی ابھرتی ہوئی معیشت، مستحکم پالیسی سمت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول سے آگاہ کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کا سالانہ اجلاس عالمی پالیسی سازی اور اقتصادی رجحانات پر اثر انداز ہونے والا ایک انتہائی مؤثر فورم ہے، اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی شرکت کو پاکستان کے عالمی تشخص کے استحکام، سفارتی روابط کے فروغ اور طویل المدتی معاشی مفادات کے حصول کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔




