پاکستاناہم خبریں

چاروں صوبوں کی ترقی سے ہی پاکستان آگے بڑھے گا،دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک قوم چین سے نہیں بیٹھے گی،وزیراعظم شہباز شریف

خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 800 ارب روپے دیے گئے، وزیراعظم شہباز شریف

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،وزیراعظم آفس کے ساتھ

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کا دار و مدار چاروں صوبوں کی یکساں ترقی پر ہے۔ اگر کوئی ایک صوبہ آگے بڑھے اور باقی پیچھے رہ جائیں تو یہ پاکستان کی ترقی نہیں کہلا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ اور پراپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر گھولنا بدقسمتی ہے اور سوشل میڈیا پر شہداء کی قربانیوں کی توہین کر کے دشمن کے بیانیے کو تقویت دی جا رہی ہے۔

وزیراعظم ان خیالات کا اظہار قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کر رہے تھے۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، عطاء اللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔


خیبرپختونخوا ایک اہم اور اسٹریٹجک صوبہ ہے، وزیراعظم

وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کو پاکستان کا نہایت اہم اور اسٹریٹجک صوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس صوبے کے عوام غیرت، جرات اور بہادری میں اپنی مثال آپ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں اور فرنٹ لائن صوبے کے طور پر ملک کا دفاع کیا۔


افغان جنگ، مہاجرین اور دہشت گردی کا پس منظر

وزیراعظم نے کہا کہ افغان جنگ کے نتیجے میں 40 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان آئے، جن کی خیبرپختونخوا اور پاکستان کے عوام نے دل کھول کر میزبانی کی۔ یہ بطور مسلمان اور ہمسایہ ہمارا فرض تھا، تاہم اس کے نتیجے میں پاکستان میں کلاشنکوف کلچر فروغ پایا اور دہشت گردی نے جنم لیا، جس میں ہزاروں بے گناہ شہری شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اس جنگ میں فرنٹ لائن پر رہا، جہاں سیاستدانوں، ڈاکٹروں، انجینئرز، پاک فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔


سانحہ اے پی ایس کے بعد فیصلہ کن کارروائیاں

وزیراعظم نے یاد دلایا کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد سیاسی قیادت نے متفقہ فیصلہ کیا کہ اب گڈ اور بیڈ طالبان کی کوئی تفریق نہیں ہوگی۔ ایک لاکھ سے زائد جوانوں، افسروں اور شہریوں کی قربانیوں کے نتیجے میں 2018ء تک دہشت گردی کا خاتمہ کیا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ 2018ء کے بعد دہشت گردی نے دوبارہ سر کیوں اٹھایا؟ وزیراعظم نے کہا کہ سوات سے سینکڑوں دہشت گردوں کی رہائی اور افغانستان سے ہزاروں دہشت گردوں کو واپس لا کر آباد کرنا ایک فاش غلطی تھی، جس کے نتیجے میں دہشت گردی دوبارہ شروع ہوئی اور ملک کی ترقی کو نقصان پہنچا۔


شہداء کی قربانیاں اور سوشل میڈیا پراپیگنڈا

وزیراعظم نے کہا کہ ہر روز ہمارے بہادر جوان اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں، جو اپنے بچوں کو یتیم کر کے قوم کے بچوں کو محفوظ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بڑی قربانی کوئی نہیں ہو سکتی، مگر افسوس کہ سوشل میڈیا پر شہداء کی توہین کی جاتی ہے اور دشمن کی آواز میں آواز ملائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس طرزِ عمل کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔


دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے

وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے اندر اور باہر سے حملہ آور تمام دہشت گرد عناصر کا مکمل قلع قمع کیے بغیر قوم چین سے نہیں بیٹھے گی۔


این ایف سی ایوارڈ اور خیبرپختونخوا کو وسائل کی فراہمی

وزیراعظم نے بتایا کہ 2010ء میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب نے پہل کرتے ہوئے اپنے حصے سے ایک فیصد خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے دینے کا فیصلہ کیا۔ گزشتہ 15 برسوں میں خیبرپختونخوا کو 800 ارب روپے فراہم کیے گئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لیے بھی پنجاب نے اپنے حصے سے اضافی وسائل فراہم کیے اور صوبے کے حصے میں 100 فیصد اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر پنجاب ترقی کرے اور باقی صوبے پیچھے رہ جائیں تو یہ پاکستان کی ترقی نہیں۔


بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبے

وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں 850 کلومیٹر طویل خونی سڑک کے لیے 400 ارب روپے مختص کیے گئے، جبکہ صوبے کے کسانوں کے لیے سولر پینلز کی فراہمی کے 75 ارب روپے کے منصوبے میں سے 50 ارب روپے وفاق نے فراہم کیے۔

انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا جال بچھایا جا رہا ہے، طلبہ کو میرٹ پر لیپ ٹاپس اور وظائف دیے جا رہے ہیں اور لاکھوں طلبہ ان سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔


زرعی انقلاب کے لیے نوجوانوں کی تربیت

وزیراعظم نے بتایا کہ ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو چین کی اعلیٰ جامعات میں اعلیٰ تعلیم اور تربیت کے لیے بھیجا گیا ہے، جن میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے طلبہ شامل ہیں۔ یہ نوجوان مستقبل میں زرعی انقلاب میں اہم کردار ادا کریں گے۔


خیبرپختونخوا کی کارکردگی پر سوال

وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے 1947ء میں پاکستان کے حق میں ووٹ دیا اور 1971ء کی جنگ میں رضاکارانہ طور پر افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ بند کی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا معدنی وسائل سے مالا مال ہے، مگر دیگر صوبوں سے موازنہ کیا جائے تو گزشتہ دس برسوں کی کارکردگی پر سوالات اٹھتے ہیں، جن کا جواب خود صوبے کو دینا ہوگا۔


بھارت کی جارحیت اور پاکستان کا مؤثر جواب

وزیراعظم نے کہا کہ 6 مئی کو بھارت کی جارحیت میں 53 بے گناہ پاکستانی شہید ہوئے، جس کے جواب میں پاکستان نے دشمن کے 7 لڑاکا طیارے مار گرائے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دشمن کو ایسا سبق سکھایا گیا جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد گرین پاسپورٹ کی عزت میں اضافہ ہوا ہے، ملک میں معاشی استحکام آ چکا ہے اور اب پائیدار ترقی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ محنت، دیانت اور ٹیم ورک سے پاکستان جلد اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرے گا۔


افغانستان سے تعلقات پر وزیراعظم کا مؤقف

افغانستان سے تعلقات پر سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی ہو رہی ہے۔ دوحہ اور چین میں بات چیت کے باوجود افغان عبوری حکومت نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا، جس کے بعد پاکستان کو سخت فیصلے کرنا پڑے۔ اب یہ افغان حکومت پر منحصر ہے کہ وہ پرامن ہمسائے کے طور پر رہنا چاہتی ہے یا نہیں۔


خیبرپختونخوا حکومت سے تعلقات

وزیراعظم نے وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان سرد جنگ کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بننے پر انہوں نے سہیل آفریدی کو فون کر کے مبارکباد دی، مگر مثبت جواب نہیں ملا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جھوٹ اور پراپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔


وزیراعظم صحت پروگرام کا دوبارہ اجراء

وزیراعظم نے بتایا کہ وزیراعظم صحت پروگرام دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے، جو 2016ء میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے متعارف کرایا تھا۔ اس پروگرام کے تحت وفاقی دارالحکومت، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے مفت علاج کے لیے 40 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button