
کیا متحدہ عرب امارات یمن میں خفیہ جیلیں چلا رہا ہے؟
اماراتی وزارت دفاع نے کہا، ''جن سہولیات کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ محض فوجی رہائش گاہیں
سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے پیر کے روز متحدہ عرب امارات پر بندرگاہی شہر المکلا کے قریب ایئربیس میں ایک خفیہ جیل چلانے کا الزام عائد کیا۔ ایسے الزامات خلیجی تیل برآمد کرنے والے دو ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔
یہ تازہ الزامات حضرموت صوبے کے گورنر سالم الخنبشی نے لگائے۔ یہ بیانات سعودی حکومت کی جانب سے ترتیب دیے گئے ایک میڈیا دورے کے دوران دیے گئے، جس میں بین الاقوامی صحافیوں بشمول روئٹرز کی ایک ٹیم کو ریاض سے یمنی شہر المکلا کے قریب واقع ریان ایئربیس تک لے جایا گیا تھا۔
الخنبشی نے ایک ٹیلی ویژن پریس کانفرنس میں کہا کہ متحدہ عرب امارات اور یمن کے مرکزی علیحدگی پسند گروپ جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کے سربراہ عیدروس الزبیدی کے خلاف ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے الزام لگایا ہے کہ ایس ٹی سی کے سربراہ کو متحدہ عرب امارات نے خفیہ طریقے سے یمن سے باہر نکال لیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”تمام اقدامات کیے جائیں گے تاکہ خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جائے، خواہ وہ عیدروس الزبیدی ہوں یا متحدہ عرب امارات، حکام ہوں یا ان کے لیے کام کرنے والے دیگر افراد، تاکہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کو انصاف مل سکے۔‘‘
متحدہ عرب امارات کی طرف سے تردید
متحدہ عرب امارات نے منگل کو جاری ایک بیان میں گورنر کے اس الزام کو ”جان بوجھ کر جھوٹ اور غلط معلومات‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ اماراتی وزارت دفاع نے کہا، ”جن سہولیات کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ محض فوجی رہائش گاہیں، آپریشن رومز اور مضبوط پناہ گاہیں ہیں، جن میں سے کچھ زیر زمین واقع ہیں۔ یہ ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات کی ایک عام اور معروف خصوصیت ہے اور ان کا فوجی سیاق و سباق سے ہٹ کر کوئی مطلب نہیں ہے۔‘‘

بیان میں یہ بھی دہرایا گیا کہ اس خلیجی ملک کی افواج نے دسمبر 2025ء میں یمن سے باضابطہ طور پر انخلا کر لیا تھا۔
دونوں امیر ملکوں کے مابین الفاظ کی جنگ
ایس ٹی سی کے ایک عہدیدار نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ان کا گروپ انسانی حقوق کی پاسداری اور انصاف کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے سعودی حمایت یافتہ حکومت کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گروپ نے اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مسلسل تعاون کیا ہے تاکہ جنوبی یمن کے عوام کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
الخنبشی کے یہ تازہ بیانات سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین سب سے شدید الزامات میں سے ایک ہیں۔ یہ تنازع گزشتہ سال اُس وقت کھل کر سامنے آیا تھا، جب متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ ایس ٹی سی کے جنگجوؤں نے سعودی حمایت یافتہ افواج کو، جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے ساتھ ہم آہنگ تھیں، اہم صوبوں سے باہر دھکیل دیا تھا۔
اس کے بعد دسمبر کے آخر میں سعودی عرب نے المکلا بندرگاہ پر متحدہ عرب امارات کی طرف سے ایس ٹی سی کے لیے جانے والی اسلحے اور سامان کی ایک کھیپ کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد سعودی حمایت یافتہ ایک حملے کے نتیجے میں ایس ٹی سی کا زوال ہوا اور متحدہ عرب امارات نے تقریباً ایک دہائی بعد یمن سے اپنے تمام فوجیوں کو نکال لیا۔
سعودی حمایت یافتہ یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے پیر کے روز سعودی قیادت والے اتحاد کی مشترکہ افواج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد بن حمد السلمان سے ملاقات کی اور فوجی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

یمن کی خبر رساں ایجنسی سبا کے مطابق العلیمی نے یمن کے لیے سعودی عرب کی اُس حمایت کی تعریف کی، جس میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد، ترقیاتی منصوبوں اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مالی امداد شامل ہے۔
ریاض اور ابوظہبی کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات
ریاض اور ابوظہبی کے درمیان اختلافات پورے خطے میں پھیلے ہوئے ہیں اور جغرافیائی سیاست سے لے کر تیل کی پیداوار تک مختلف موضوعات پر محیط ہیں۔ دونوں ممالک شدید معاشی مقابلے میں بھی مصروف ہیں، بشمول غیر ملکی سرمایہ، سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور عالمی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے عروج میں سب سے بڑا حصہ حاصل کرنے کے معاملے پر۔
سوشل میڈیا پر ‘لفظوں کی جنگ‘
گزشتہ چند ہفتوں میں سعودی اور اماراتی مبصرین نے سوشل میڈیا پر غیر معمولی طور پر ”کھلے انداز میں ایک دوسرے پر حملے‘‘ کیے ہیں۔ خلیجی بادشاہتیں ماضی میں اپنے اختلافات کو عوامی سطح پر ظاہر نہیں کرتی تھیں۔
سعودی ریاستی ٹی وی نے اتوار کو ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، ”ابوظہبی کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف اکسانے کی وجہ سے بادشاہت (ریاض حکومت) اس کے خلاف ضروری اقدامات اٹھانے میں ہچکچاہٹ نہیں دکھائے گی۔‘‘
یمنی حکومت نے ماضی میں بھی الزام لگایا تھا کہ متحدہ عرب امارات یمن کے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں متعدد خفیہ جیلیں چلا رہا ہے۔



