پاکستاناہم خبریں

پاکستان میں وادی تیراہ سے رضاکارانہ نقل مکانی، کے پی حکومت کے بیانیے پر سنگین سوالات، سرکاری خط نے حقائق بے نقاب کر دیے

ذرائع اور دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر جان بوجھ کر جھوٹ، مبالغہ آرائی اور غلط معلومات پر مبنی بیانیہ تشکیل دیا گیا

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

وادی تیراہ سے مقامی آبادی کی رضاکارانہ نقل مکانی کے معاملے پر خیبر پختونخوا حکومت، بالخصوص وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت، شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ ذرائع اور دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر جان بوجھ کر جھوٹ، مبالغہ آرائی اور غلط معلومات پر مبنی بیانیہ تشکیل دیا گیا، جس سے عوامی سطح پر کنفیوژن اور شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔

یہ معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بن گیا جب کے پی حکومت کا 26 دسمبر 2025 کا ایک سرکاری خط منظرِ عام پر آیا، جس کی بنیاد پر وادی تیراہ سے آبادی نے علاقہ خالی کیا۔


26 دسمبر 2025 کا خط: اصل بنیاد

ذرائع کے مطابق، مذکورہ سرکاری خط واضح طور پر اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وادی تیراہ سے نقل مکانی کسی ہنگامی یا فوجی کارروائی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک انتظامی اور رضاکارانہ فیصلہ تھا۔

خط میں درج نکات کے مطابق:

  • نقل مکانی کا فیصلہ کے پی حکومت اور خیبر ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر کیا

  • یہ عمل اکتوبر 2025 میں ضلعی انتظامیہ کی قیادت میں ہونے والے جرگوں کے ایک سلسلے کے بعد طے پایا

  • نقل مکانی کو باقاعدہ طور پر رضاکارانہ قرار دیا گیا

  • فیصلے کی بنیاد مقامی آبادی کی رائے، خدشات اور ترجیحات تھیں

دستاویز میں کسی بھی مقام پر فوج، فوجی آپریشن یا فوجی قیادت کے کسی فیصلے کا ذکر موجود نہیں۔


چار ارب روپے کہاں گئے؟

خط کے بعد کے پی حکومت کی جانب سے اس نام نہاد رضاکارانہ نقل مکانی کے لیے چار ارب روپے کے فنڈز جاری کیے گئے۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خطیر رقم شفاف طریقے سے خرچ نہیں کی گئی اور اس کا بڑا حصہ یا تو ضائع ہو گیا یا مبینہ طور پر غلط استعمال کا شکار ہوا۔

تاحال صوبائی حکومت کی جانب سے اس رقم کے استعمال پر کوئی جامع آڈٹ رپورٹ یا عوامی وضاحت سامنے نہیں آ سکی۔


فوجی آپریشن کا دعویٰ: حقیقت یا سیاسی بیانیہ؟

حالیہ بیانات میں کے پی حکومت کے بعض نمائندوں نے نقل مکانی کو بالواسطہ طور پر فوجی آپریشن سے جوڑنے کی کوشش کی، تاہم دستیاب سرکاری دستاویزات میں:

  • کسی فوجی آپریشن کا ذکر موجود نہیں

  • نقل مکانی کے لیے فوجی قیادت کے کسی فیصلے یا حکم کی نشاندہی نہیں کی گئی

سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ بیانیہ دانستہ طور پر تشکیل دیا گیا تاکہ:

  • فوج پر الزام ڈال کر عوامی ہمدردی حاصل کی جا سکے

  • صوبائی حکومت کی بدانتظامی اور ناقص منصوبہ بندی کو چھپایا جا سکے


انخلاء میں بدانتظامی: ذمہ دار کون؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ انخلاء کے پورے عمل میں شدید بدانتظامی دیکھنے میں آئی:

  • متاثرہ خاندانوں کے لیے بروقت سہولیات کا فقدان

  • شدید سرد موسم میں ناکافی انتظامات

  • امدادی سامان کی غیر منصفانہ تقسیم

یہ تمام امور صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں آتے تھے، تاہم ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے الزام تراشی کو ترجیح دی گئی۔


فوج کا کردار: انسانی خدمت کی مثال

اس تمام صورتحال کے باوجود، فوج نے اپنے پیشہ ورانہ اور اخلاقی فرائض کے تحت:

  • شدید موسم کی پروا کیے بغیر

  • تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے

  • متاثرہ آبادی کے انخلاء اور مدد میں بھرپور کردار ادا کیا

ذرائع کے مطابق، فوج کی یہ معاونت کسی آپریشن یا حکم کے تحت نہیں بلکہ خالصتاً عوامی خدمت کے جذبے کے تحت تھی۔


نتیجہ: حقائق بمقابلہ بیانیہ

وادی تیراہ کی صورتحال سے متعلق دستیاب دستاویزات اور حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ:

  • نقل مکانی ایک انتظامی فیصلہ تھا، فوجی نہیں

  • اس کی ذمہ داری براہِ راست کے پی حکومت پر عائد ہوتی ہے

  • بعد ازاں ایک غلط معلوماتی مہم کے ذریعے حقائق کو مسخ کیا گیا

عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ:

  • چار ارب روپے کے فنڈز کا شفاف آڈٹ کیا جائے

  • غلط بیانی کے ذمہ داران کا تعین ہو

  • متاثرہ آبادی کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو فوری پورا کیا جائے

یہ ہے تیراہ کے حالات کی اصل حقیقت—جو سرکاری بیانیے سے کہیں مختلف نظر آتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button