
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
وفاقی حکومت نے وادیٔ تیراہ سے متعلق پھیلائی جانے والی گمراہ کن خبروں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فوج کے احکامات پر یہ علاقہ خالی کروایا جا رہا ہے۔ حکومت نے ان دعووں کو بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور مخصوص سیاسی مفادات کے لیے کی جانے والی سازش قرار دیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وادیٔ تیراہ کو خالی کرنے کے حوالے سے نہ تو وفاقی حکومت اور نہ ہی مسلح افواج کی طرف سے کوئی حکم جاری کیا گیا ہے۔ حکومت نے ان دعووں کو جھوٹا اور غلط معلومات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش ہے۔
غلط معلومات کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا ہے
حکومتی بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ گمراہ کن خبریں مخصوص مقاصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں، جن کا مقصد نہ صرف سیکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات پھیلانا ہے بلکہ عوام میں بے چینی اور خوف کا ماحول پیدا کرنا بھی ہے۔ ان دعووں کا مقصد بعض حلقوں کے سیاسی مفادات کا حصول ہے، جو سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امن کی بحالی کے لیے کارروائیاں جاری ہیں
وفاقی حکومت نے واضح کیا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کے دوران مقامی آبادی کی زندگی کو مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ سیکیورٹی ادارے صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں اور اس دوران پُرامن شہریوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچ رہا۔ حکومت نے مزید وضاحت کی کہ اس طرح کی کارروائیوں کے لیے نہ تو کسی قسم کی آبادی کی منتقلی کی ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کوئی عمل جاری ہے۔
مقامی آبادی کی تشویش اور امن کی خواہش
حکومت نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ مقامی آبادی خود دہشت گرد گروپوں اور خوارج کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور وہ تیراہ میں امن و استحکام چاہتی ہے۔ مقامی افراد کی یہ خواہش ہے کہ اس علاقے میں امن قائم ہو تاکہ وہ اپنے روزمرہ کے کاموں میں سکون سے مصروف ہو سکیں۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے یہ بھی کہا کہ سیکیورٹی ادارے مقامی آبادی کے مفادات کا تحفظ کرنے میں اپنے تمام وسائل استعمال کر رہے ہیں۔
جھوٹے بیانات کی مذمت
صوبائی حکومت یا اس کے کسی عہدیدار کی جانب سے میڈیا کو دیے گئے وہ بیانات جو وادیٔ تیراہ میں فوجی کارروائیوں کو نقل مکانی سے جوڑتے ہیں، حکومت نے انہیں بھی من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔ حکومت نے واضح کیا کہ یہ بیانات صرف سیاسی فائدے حاصل کرنے کے لیے دیے جا رہے ہیں اور ان کا مقصد سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنا ہے، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔
حکومت نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان گمراہ کن خبروں پر دھیان نہ دیں اور ایسی اطلاعات کی تصدیق کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔ سیکیورٹی ادارے ہمیشہ عوام کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہیں اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہیں۔
اختتام
وفاقی حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وادیٔ تیراہ اور دیگر علاقوں میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس میں عوامی تعاون بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ہر ممکن طریقے سے ان کے حقوق کی حفاظت کرے گی اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی تاکہ علاقے میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔
پاکستان کی حکومت اور سیکیورٹی ادارے ملک بھر میں عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں اور ان گمراہ کن خبروں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔




