صحتاہم خبریں

پاکستان کی پہلی بین الاقوامی معیار کی ڈرگ، فوڈ اور ایگریکلچر ٹیسٹنگ لیب: ایک دہائی پر محیط سفر کی تکمیل

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

 رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

لاہور کے نواحی علاقے ٹھوکر نیاز بیگ میں واقع ایک وسیع و عریض عمارت میں قدم رکھتے ہی سائنسی حیرت اور نظم و ضبط کا ایک منفرد احساس غالب آ جاتا ہے۔ خاموشی سے کام کرتی جدید مشینیں، منظم لیبارٹریز اور جدید انفراسٹرکچر دیکھ کر پہلا سوال ذہن میں یہی ابھرتا ہے کہ کیا واقعی یہ پاکستان ہے؟
یہی وہ جگہ ہے جہاں پاکستان کی پہلی بین الاقوامی معیار کی ڈرگ، فوڈ اور ایگریکلچر ٹیسٹنگ لیب قائم کی گئی ہے، جسے پنجاب ایگریکلچر فوڈ ڈرگ اتھارٹی (PAFDA) کا نام دیا گیا ہے۔

یہ منصوبہ بظاہر ایک جدید لیبارٹری کا قیام ہے، تاہم اس کے پس منظر میں ایک المناک سانحہ اور ایک دہائی پر محیط جدوجہد کی داستان پوشیدہ ہے۔

ایک سانحہ جس نے نظام بدلنے کی بنیاد رکھی

اس لیبارٹری کی کہانی کا آغاز 2012 کے ایک اندوہناک واقعے سے ہوتا ہے، جب پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (PIC) سے دوا لینے والے سینکڑوں مریض اچانک شدید بیمار پڑ گئے۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ’آئیسو ٹوپ‘ نامی دوا کے ایک بیچ میں ایک غیر متعلقہ اور زہریلا کیمیائی جز شامل ہو گیا تھا، جس نے دوا کو شفا کے بجائے جان لیوا بنا دیا۔
اس واقعے کے نتیجے میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور پنجاب بھر میں ایک سنگین انسانی بحران نے جنم لیا۔

اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف تھے۔ واقعے کے بعد دواساز کمپنی کے مالکان کو گرفتار کیا گیا، تحقیقات کا آغاز ہوا اور صوبائی حکومت کو اس تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑا کہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان میں ایسی کوئی جامع اور جدید سہولت موجود نہیں تھی جو دواؤں، خوراک اور زرعی مصنوعات کے اجزا کی کیمیائی سطح پر جانچ کر سکے۔

ایک بڑے فیصلے کی بنیاد

اسی بحران کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب نے ماہرین کی ایک ٹیم طلب کی اور ایک ایسی لیبارٹری کے قیام کا فیصلہ کیا جو عالمی معیار کے مطابق ہو اور مستقبل میں انسانی صحت کے تحفظ کو یقینی بنا سکے۔
ابتدائی منصوبہ بندی اور قانونی و انتظامی خاکہ تیار ہونے میں کئی سال لگے، اور بالآخر 2016 میں ٹھوکر نیاز بیگ کے مقام پر، نیب بلڈنگ اور پنجاب فرانزک سائنس لیب کے درمیان، اس منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔

ابتدا میں اس منصوبے کو پانچ سال میں مکمل کیا جانا تھا، تاہم سیاسی عدم استحکام، انتظامی رکاوٹوں اور دیگر مسائل کے باعث اس کی تکمیل میں تقریباً دس سال لگ گئے۔

لیب کی صلاحیتیں کیا ہیں؟

فوڈ ٹیسٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر محمد ناصر کے مطابق،

’یہ لیب کسی بھی خوراک، دوا یا زرعی مصنوعات کے اجزا کو کیمیائی سطح پر جانچنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ ہم یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ کسی خوراک میں انسانی صحت کے لیے مضر یا مفید عناصر موجود ہیں یا نہیں، گوشت کے ڈی این اے کے ذریعے اس کی اصل جانچ سکتے ہیں، اور کسی بھی پراڈکٹ میں شامل اجزا کی مکمل تفصیل فراہم کر سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب کسی بھی دوا، خواہ وہ دیسی ہو یا کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی تیار کردہ، اس کے اجزا کی درست جانچ ممکن ہو گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فوڈ اتھارٹی اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سمیت تمام متعلقہ ادارے کسی بھی سرٹیفکیٹ کے اجرا سے قبل عالمی معیار کے مطابق ٹیسٹنگ اسی لیب سے کروائیں گے۔

’یہ ایک گیم چینجر ہے‘

زراعت کے شعبے میں بھی اب یہ جانچ ممکن ہو گئی ہے کہ زرعی ادویات اور مصنوعات انسانی صحت کے لیے کس حد تک محفوظ ہیں۔

’میں اسے گیم چینجر کہوں گا۔ اب پاکستان میں کاروبار کے نئے اصول طے ہوں گے اور انسانی صحت کو پہلی ترجیح دی جائے گی۔ یہی اس لیب کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔‘

برآمدات کے لیے نئی راہیں

اس منصوبے پر تقریباً 14 ارب روپے لاگت آئی ہے۔ اس کے اثرات صرف ملک کے اندر معیار کی بہتری تک محدود نہیں بلکہ برآمدات کے شعبے میں بھی نمایاں تبدیلی کی توقع کی جا رہی ہے۔

لیب کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر طلعت پاشا کے مطابق،

’قانون کے تحت ہماری پہلی ذمہ داری شہریوں کی حفاظت ہے، لیکن اس کے ساتھ ہم نے ایک اضافی کردار بھی ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور وہ ہے ایکسپورٹرز کی سہولت۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستانی ایکسپورٹرز کو اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں میں بھیجنے سے قبل یورپ، امریکہ یا لکسمبرگ کی لیبارٹریوں سے مہنگی رپورٹس حاصل کرنا پڑتی ہیں۔

’اب وہی رپورٹس ہم پاکستان میں تیار کر سکیں گے۔ اس طرح سالانہ اربوں روپے کی بچت ہو گی۔ یہ وہی جدید مشینری ہے جو یورپ اور امریکہ کی لیبارٹریوں میں استعمال ہو رہی ہے۔‘

ملک بھر تک توسیع کا منصوبہ

ڈاکٹر طلعت پاشا کے مطابق اس نظام کو پورے ملک میں پھیلانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

’پاکستان کے تمام شہری اس بات کے حقدار ہیں کہ وہ خالص اور محفوظ اشیا استعمال کریں۔ جو تجربہ ہم نے دس سال میں حاصل کیا ہے، اب اسے ملک کے دیگر حصوں تک لے جانا ہو گا۔‘

سائنسدانوں کی نئی نسل

لیبارٹری کی تعمیر کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ ملک بھر سے سینکڑوں سائنسدان بھرتی کیے گئے، جن میں کشمیر سے کراچی تک کے نوجوان شامل ہیں۔
ناصر کے مطابق،

’ہم نے زیادہ تر فریش گریجویٹس کو موقع دیا، جن میں گولڈ میڈلسٹ اور انتہائی ذہین طلبہ شامل تھے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ان میں تقریباً 70 فیصد خواتین ہیں، جو اس لیب کی شناخت کو منفرد بناتی ہیں۔‘

منتخب سائنسدانوں کو چھ ماہ کی سخت تربیت دی گئی، جس کے بعد صرف انہی افراد کو مستقل ذمہ داریاں دی گئیں جو عملی اور نظری دونوں سطح پر معیار پر پورا اترے۔

باضابطہ افتتاح

لیبارٹری اب مکمل طور پر فعال ہو چکی ہے اور آئندہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف اس کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ لیبارٹری پاکستان میں خوراک، ادویات اور زرعی مصنوعات کے معیار کے حوالے سے ایک مضبوط حفاظتی حصار فراہم کرے گی اور مستقبل میں انسانی صحت کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button