
جنگوں سے کیا حاصل ؟…..ناصف اعوان
امریکا جو خود کو جمہوریت کا چیمپئین قرار دیتا ہے اپنے مفادات کے حصول کے لئے ہر وہ کام کر رہا ہے جو جمہوریت سے متصادم ہے مگر اس نے تمام اصول پس پشت ڈال دئیے ہیں
اس وقت دنیا کو امن کی بے حد ضرورت ہے کیونکہ سماجی مسائل میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے جس پر قابو پانے کے لئے پُر امن ماحول کا ہونا ضروری ہے تاکہ پوری یکسوئی سے فلاح و بہبود کے کاموں کو سر انجام دیا جاسکے مگر افسوس کہ چند بڑے ممالک کسی نہ کسی صورت جنگ کی کیفیت کو جنم دے رہے ہیں ان میں امریکا سر فہرست ہے.
امریکا جو خود کو جمہوریت کا چیمپئین قرار دیتا ہے اپنے مفادات کے حصول کے لئے ہر وہ کام کر رہا ہے جو جمہوریت سے متصادم ہے مگر اس نے تمام اصول پس پشت ڈال دئیے ہیں اور کمزور ممالک جہاں اسے کچھ اپنے فائدے کا سامان نظر آتا ہے پر چڑھ دوڑتا ہے آڑ یہ لیتا ہے کہ وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے جبکہ اس کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس نے جہاں یہ سمجھا کہ ڈکٹیٹروں کو عوام پر مسلط کرکے اس کو مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں تو اس نے جمہوری اقدار اور عوام کی خواہشات کو یکسر رد کردیا ۔حکومتیں تبدیل کرنا یا بنانا اس کا مشغلہ رہا ہے اور یہ بات عیاں ہے کہ اس کی پالیسیاں عوام دوست نہیں رہیں ہمیشہ اس نے خواص کو ترجیح دی ۔وطن عزیز میں جب بھی طالع آزمائی ہوئی اس نے اس کو تھپکی دی بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اسے اس کا پہلے سے علم ہوتا ۔ انتظامی معاملات کے علاوہ بعض ملکوں کے مابین جنگی صورت حال کو پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔اب وہ براہ راست جنگ کرنا چاہتا ہے جبکہ موجودہ امریکی قیادت نے امن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ کہا تھا کہ وہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی جنگ ہوتی ہے تو اس کو رکوانے کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کرے گی مگر دیکھ لیجئے پوری دنیا سہم سی گئی ہے کہ کب کیا ہوجائے ؟
در اصل امریکا کا مطمع نظر یہ ہے کہ سارے ممالک اس کی تابع داری کریں اور وہ سماجیات سے لے کر معاشیات تک کو کنٹرول کرے اور اپنے نظام کو محفوظ بنائے ۔
یہ اس کی خوش فہمی ہے کیونکہ یہ شعوری دور ہے لہذا ترقی پزیر ملکوں کے لوگ جان گئے ہیں کہ بڑی طاقتوں نے کس طرح ان کا استحصال کیا ان کے قومی اثاثوں کو ہتھیایا گیا ان کے سر پر غیر منتخب حکومتوں کو بٹھایا گیا۔ ان کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے والوں کو آشیر باد دی گئی اب آ کر انہیں یہ سب معلوم ہوا ہے تو وہ کسی کی مداخلت اور ڈکٹیشن کو تسلیم نہیں کر رہے لہذا دوسری عالمی جنگ کے بعد تیسری جنگ کا امکان پیدا ہو گیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ ان جنگوں سے سبق حاصل کیوں نہیں کیا گیا کہ جن ملکوں کو فتح کرنے کی خواہش نے میدان جنگ سجایا وہ ناصرف موجود ہیں بلکہ وہ طاقتور ہو چکے ہیں ان کے پاس جدید ہتھیار اور مضبوط معیشتیں بھی ہیں ۔
اب تو چھوٹی چھوٹی ریاستیں بھی سر اٹھانے لگی ہیں ان کے عوام کسی طور بھی اپنی آزادی کو سلب ہونے نہیں دینا چاہتے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ دن گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے اب زمانہ بدل گیا ہے سوشل میڈیا نے تو بال کی کھال اتار کر رکھ دی ہے لہذا بیداری کی لہر ہر ملک میں ابھر رہی ہے ابھر چکی ہے جس کو زور بازو سے دبایا نہیں جا سکتا لہذا ہونا یہ چاہیے کہ تمام ملکوں کے سربراہان ایک میز پر بیٹھیں اور امن کے قیام کے لئے اپنی تجاویز پیش کریں۔ یہ درست ہے کہ ہر ملک کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ قومی خزانہ کو بھرے تاکہ اس کے لوگ پُر آسائش زندگی بسر کر سکیں مگر دوسرے لوگوں کا استحصال کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے لہذا گفتگو ہی سے معاملات طے کیے جائیں ۔ امن پیار کی فضا قائم کرکے آگے بڑھا جائے ایک دوسرے کے مسائل حل کرنے میں تعاون کیا جائے ۔یہ جو جنگ کا جنون ہے اس سے کوئی بھی سکھ کی نیند نہیں سو سکتا ۔
لوگ امن چاہتے ہیں چند خاندان
جو سرمایہ داری نظام کے حامی ہیں انہیں اس امر سے قطعی کوئی سروکار نہیں وہ اپنے پروگرام کو مزید تقویت دے رہے ہیں جس کے لئے وہ نت نئے قوانین بنا رہے ہیں اور طرح طرح کے حربے استعمال کر رہے ہیں۔ ہم نے اوپر عرض کیا ہے کہ دنیا میں بیداری کی لہر ابھری چکی ہے لہذا تادیر موجودہ طرز عمل ہو یا طرز سیاست باقی نہیں رہ سکتا کیونکہ اب مزاحمت ہونے لگی ہے آوازیں اٹھ رہی ہیں اور باقاعدہ احتجاج ہونے لگا ہے لہذا دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے اس کے بغیر امن آسکتا ہے نہ ہی خوش حالی آسکتی ہے لہذا جب غربت بڑھتی ہے تو بے چینی بھی بڑھتی ہے ہمارے ایسے ملکوں میں آگرچہ عارضی طور سے اس کو دبا دیا جاتا ہے مگر یورپ و مغرب کے عوام کو خاموش نہیں کیا جا سکتا یہی وجہ ہے کہ وہاں نظام کی تبدیلی کے لئے تحریکیں چل رہی ہیں ۔ امریکا کے اندر یہ تحریک دھیرے دھیرے پیش قدمی کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ امریکا کی معیشت اب توانا نہیں رہی جس سے عوام کو بہت سے مسائل درپیش ہیں۔اسی لئے ڈونلڈ ٹرمپ بپھرا ہوا ہے اور قدرتی پیداواری زرائع پر قبضہ کرکے اپنی معیشت کو مستحکم بنانا چاہتا ہے جو آسان کام نہیں اسے چین کی طرح ترقی کرنی چاہیے اور غربت کو کم یا ختم کرنا چاہیے مگر اس کے سر پر طاقت کا بھوت سوار ہے کہ اس کے پاس جدید ترین اسلحہ ہے ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے کہ وہ ہر کسی کو روند سکتا ہے جب کہ ایسا نہیں ۔ چین بہت آگے جا چکا ہے یہ تو اس وقت علم ہوگا جب اس کا مخالف پہلوان اکھاڑے میں اترے گا اگرچہ امریکا اس کی فوج کے سربراہ کو اپنے مقصد کے لئے تھوڑا بہت استعمال کر چکا ہے مگر اس کا مشن ادھورا رہ گیا ہے کیونکہ وہ گرفتار ہو چکا ہے دیگر کو بھی پابند سلاسل کر دیا گیا ہے اس طرح ایران میں جو اسرائیل کا نیٹ ورک تھا اسے توڑا جا چکا ہے
یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اہل اختیار دکھوں کے خاتمے کے لئے متحد نہیں ہوتے اگرچہ وہ قدرتی آفات کے دوران متاثرین کی مدد بھی کرتے ہیں تو کیا غربت جہالت بیماری اور افلاس کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا نہیں کر سکتے ایسا ہو سکتا ہے مگر بات وہی چند بڑے عالمی خاندان جنہیں لوگوں پر حکمرانی کرکے دلی تسکین ملتی ہے وہ استحصالی نظام کو نہیں بدل رہے مگر کب تک ؟ آخر کار انہیں سوچنا پڑے گا کہ ان کی بقا اسی میں ہے کہ وہ اس نظام کو اس سرمایے کو آزاد کردیں جو تجوریوں میں بند ہے پھر کسی جنگ کی بھی نوبت نہیں آئے گی کیونکہ ہر طرف امن ہو گا خوشحالی ہوگی اور فاختہ بلا خوف نغمہ سرا ہو گی !


