
پوٹن کی الشراع سے کریملن میں ملاقات، شام میں روسی فوجی موجودگی پر بات چیت
روس شمال مشرقی شام کے شہر قامشلی کے ہوائی اڈے سے اپنی افواج واپس بلا رہا ہے
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بدھ کے روز کریملن میں اپنے شامی ہم منصب احمد الشراع سے ملاقات کی، جہاں بات چیت میں شام میں روس کی آئندہ فوجی موجودگی جیسے حساس معاملے پر بھی غور کیا گیا۔
دسمبر سن 2024 میں الشراع کی اسلام پسند اتحادی جماعت کی جانب سے روس کے اتحادی بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ماسکو نے الشراع کے ساتھ تعلقات استوار کرنے اور شام میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھا جا سکے۔
روئٹرز نے اس ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ روس شمال مشرقی شام کے شہر قامشلی کے ہوائی اڈے سے اپنی افواج واپس بلا رہا ہے تاہم توقع ہے کہ وہ بحیرہ روم کے ساحل پر واقع اپنے بڑے فضائی اڈے حمیمم اور طرطوس کی بحری تنصیب کو برقرار رکھے گا۔

شام کی وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ماسکو کے اس اقدام کو دمشق میں خیرسگالی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور یہ پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے کہ روس، الشراع کی جانب سے پورے ملک میں مرکزی اختیار قائم کرنے کی کوششوں کے دوران، شامی سرکاری افواج اور کرد قیادت والی شامی ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان لڑائی میں فریق نہیں بنے گا۔
ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے ابتدائی کلمات میں پوٹن نے الشراع سے کہا، ’’میں آپ کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ شام کی علاقائی سالمیت کی بحالی کا عمل رفتار پکڑ رہا ہے۔‘‘
2024ء میں بشار الاسد کی معزولی کے بعد روس کے دوسرے دورے پر آئے الشراع نے شام اور وسیع تر خطے میں صورتحال کو مستحکم کرنے میں مدد پر پوٹن کا شکریہ ادا کیا۔



