
ایک ایسی پر اسرار کتاب جو عقل کو مات دیتی ہے ۔ دنیا میں ہزاروں کتابیں لکھی گئیں ، اور گمشدہ ہوئیں بہت ساری کتابیں محفوظ ہیں ۔ لیکن یہ ایک ایسی کتاب ہے جس نے پوری دنیا کے ذہین لوگوں کو بھی چکرا کر رکھ دیا ہے ۔ ایسی کتاب جو صدیوں سے ہمارے درمیان ہے ، مگر کوئی آج تک یہ نہیں جان پایا کہ اس میں کیا لکھا ہے ۔ ہم بات کر رہے ہیں ووئنچ مخطوط ( Voynich Manuscript) کی ایک ایسی کتاب جو بظاہر ایک جادوئی نسخہ لگتی ہے ، لیکن دراصل یہ اتنی پراسرا ہے کہ گویا کسی اور ہی دنیا کی تخلیق ہو جو چھ سو سال پرانی ہے ۔ اس میں لکھی ہوئی تحریر زبان بڑے بڑے زبان دانوں کی سمجھ سے بالاتر ہے ۔ جس میں بنے ہوئے نقش و نگار دماغ کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ اس کتاب کو دنیا کے بہت بڑے سائنس دان لینگویسٹک Linguistics) ، Code Breaker ) آج تک ڈی کوڈ ( Decode ) نہیں کر پائے ، اس کی کچھ تاریخ کو سمجھتے ہیں ، یعنی 1912 میں Wilfred- Voynich نایاب کتابوں کا بہت بڑا ڈیلر تھا ۔ اس کو یہ کتاب اٹلی کے ایک ( Jesuit – College) Villa Modrangone کے اندر ملی ۔ کتاب چمڑے کی جلد میں لپٹی ہوئی تھی ، صفحات ہاتھ سے لکھے گئے تھے ، اور ان میں رنگین تصاویر موجود تھیں ۔ یہ کتاب ایک ایسی زبان میں لکھی گئ ہے ، جو دنیا کی کسی زبان سے نہیں ملتی۔ یہ 240 صفحات پر محیط ہے جو اس میں لکھا ہوا ہے مکمل زبان میں موجود ہے ۔ جس طرح مونزم زبان میں کتاب لکھی جاتی ہے ۔ حیران کن طور پر وہ زبان نہ تو لاطینی ، عربی ، ہبرو ( Hebrew) , انگلش ، اٹالین ، آرامی ، فرنچ زبان میں نہیں ہے۔ اس کتاب میں کچھ تصویریں اور نقوش بنے ہوئے ہیں ۔ وہ کیا ہیں ان کا کس چیز تعلق ہے ؟ یہ آج تک پردائے راز ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے یہ کتاب Jesuit تک پہنچی کیسے ہے۔ ؟ جو پرانی تاریخ بتاتی ہے کہ تقریباً سولہویں صدی میں ایک رائل بادشاہ رومن Rudol کے پاس کتاب تھی ۔ اس نے یہ چھ سو اشرفیوں بھاؤ (Gold Ducats) 600 میں خریدیں ۔ کیوں کہ اسے لگتا تھا یہ کتاب ایک مشہور انگریزی فلاسفر Roger Bacon کی کتاب ہے ۔ Voynich نے کہا یہ اس کی کتاب نہیں ہے ۔ اس کے پاس یہ کتاب مختلف کیمادانوں اور الکیمسٹ (Alchemist) کے ذریعے پہچی ، اور الکیمسٹ کا مطلب تاریخ دان نہیں ہے ۔ بلکہ کیمیا گری یعنی سونا بنانا ہے ۔ ایک پراسرار راز سمجھا جاتا ہے ۔ الکیمسٹ کے ہاتھوں یہ کتاب گھومتی ہوئی سترھویں صدی کے قریب یہ کتاب Jesuit کے ہاتھوں پہچی ہے ۔ جو بعد میں Voynich کے نام سے مشہور ہوئی ۔ آج یہ کتاب Yale University کی Baynakey لائیبریری میں موجود ہے ۔ MS 408 کے نام سے ریکارڈ نمبر ہے ۔ اس کتاب کی سب سے بڑی مسٹری اس کی زبان ہے۔ یہ دنیا بڑی نون لینگویج یا چھوٹی نون لینگویج میں نہیں لکھی ہوئی اگرچہ اس کتاب کے اندر جو لکھنے کا انداز ہے ، باقاعدہ ایک Organize لینگویج کی طرح ہے ۔ مگر جو Linguistic کے جو ماہر ہیں آج تک اس کو ڈی کوڈ نہیں کر پائے ۔ Voynich Manuscript کو عموماً مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ، جن کی بنیاد اس کے تصویری مواد ( illustrations) پر محیط ہے ۔
نباتاتی ۔ ایسے پودے ، جڑی بوٹیوں کی تصویریں، جن کی شناخت نہیں ہو سکتی ۔
فلکیاتی / نجومی ۔
آسمانی نقشے ، ستارے ، زودیاک کے نشان ، سورج اور چاند وغیرہ ۔
حیاتیاتی۔
کتاب میں کرینہ عورتوں کی تصاویر بھی ہیں جو ٹب ( tub) میں موجود Astorgly کے گرد بیٹھی ہوئی ہیں ۔ جسمانی ننگی عورتیں ، مائع میں نہائی ہوئی خواتین ، سرنگ یا نالی نما ڈھانچے ۔ ممکنہ طور پر عضو یا جسمانی نظام کی نمائندگیاں ۔
کہانی / کائناتی دائرے ، منڈل نما نقشے ، ممکنہ طور پر آسمانی یا جغرافیائی نمائندہ مناظر ۔
دوا سازی / فارماسیوٹیکل ۔
کڑی بوٹیاں ، ادویہ ، جڑیں ، بوتلیں یا برتن وغیرہ ، شاید دوائی بنانے یا علاج کے نسخے ۔
طریقہ ترکیب / نسخے ۔
متواتر متن جس میں مارجن میں ستارہ نما نشانات ہیں ۔ غالباً نسخے یا ترکیبیں ہوں: ہر لفظ کے شروع کا آغاز نشان کے ساتھ رسم الخط نا معلوم ہیں کہ یہ قدرتی زبان ہے مصطنع ( Constructed ) زبان ہے ۔ یا کوئی رمزی encrypted متن ہے۔
لفظوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ، اندازہ 170,000 حروف اور قریب 35,000 لفظ نما گروپ ہیں۔ رسم و املاء ( orthography ) میں کچھ اصول معلوم ہوتے ہیں ۔ مثلاً کچھ علامات صرف الفاظ کے شروع یا آخر میں آتی ہیں ۔ کچھ علامات بعض حالتوں میں دگنی یا تیگنی ہو سکتی ہیں ۔ تصاویر رنگین ہیں ۔ اکثر ” خام” انداز سے رنگ کیے گئے اور یورپی مواد اور رنگ پگمنٹس استعمال ہوئے ہیں۔ اس کتاب کے صفحات پر زیادہ تر پودے بنے ہوئے ہیں ۔یہ ایسے پودے ہیں جو ماڈرن پودے باٹنی بھی سرچ نہیں کر سکی ، کہ اس طرح کے پودے دنیا میں نہیں پائے جاتے اور ان کی جڑیں جنجر جیسی لگتی ہیں کوئی اسے سورج کے پھول سے ملاتے ہیں کسی پودے کا بھی ملاپ مکمل طور پر نہیں ہوتا ۔ یونیورسٹی کے ماہرین کہتے ہیں کہ سب پودے دوسری یونیورس کے پودوں کو ملا کر کوئی ایک نقش بنایا گیا ہے ۔ عجیب کمیکل نقش و نگار بھی بنے ہوئے ہیں ۔ اس کتاب کو اگر کسی مزہب کے حوالے سے دیکھے ہندو ، عیسائی یا دیگر مزاہب میں دیکھا جائے تو کسی قسم کی کوئی معلومات نہیں ملتیں لیکن parallel نکالنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کچھ ماہرین کہتے ہیں ۔ کہ یہ کرسچن mistecizen کی کتاب ہے ۔ جو جیزوٹ سے ملتی ہے ۔ ظاہری بات ہے جیزوٹ (Jesuit) سے ملی کتاب اس چیز کی دلیل بناتے ہیں Christian Mysticism کی کوئی کتاب ہے یہ چھپا ہوا الکیمی ٹیکسٹ ہے جو یورپ کے زمانے کا خفیہ علم ہوا کرتا تھا ۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ کتاب صرف میڈیا ایبل یورپ کی ہے یا پھر کہیں اور سے آئی ہے سائنس اس بات پر خاموش ہے یہ صرف ایک کاپی ہے جو دنیا میں موجود ہے اس کا اصلی علم چھ سو سال پرانا ہے ۔ دنیا کے ذہین و فطین دماغ ، کوڈ بریکر ، سائنس دان اے آئی کے ماہر ,Linguistics کے ماہرین سب کتاب کا کوڈ توڑنے میں ناکام رہے ۔ آج بھی یہ راز محض راز ہی ہے ۔



