
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،وزیراعظم آفس کے ساتھ
پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ملک کے نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں مہارت دینے، ملک میں اے آئی کے شعبے کی ترقی کے لئے ایک جامع منصوبہ بندی اور عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، اے آئی کے نصاب کی تیاری، پی ایچ ڈی کے لیے ایک ہزار وظائف، اور قومی سطح پر آئی ٹی و اے آئی کی تربیت دینے کے پروگرام کا آغاز شامل ہے۔ وزیراعظم نے یہ اعلان انڈس اے آئی ویک 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں پاکستان کے مختلف شعبوں کے وزراء، اعلیٰ حکام، اور عالمی سطح پر معروف شخصیات موجود تھیں۔
انڈس اے آئی ویک 2026 کا آغاز
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس اے آئی ویک پاکستان کے ٹیکنالوجی کے منظرنامے کو بدل کر اسے عالمی سطح پر ایک مضبوط اور جدید پارٹنر کے طور پر پیش کرے گا۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ انڈس اے آئی ویک میں عالمی سطح کے ماہرین، تاجر، اور حکومتی نمائندے شرکت کر رہے ہیں، اور یہ ایونٹ پاکستان کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 24 کروڑ آبادی میں سے 60 فیصد نوجوان ہیں اور اگر ان نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں تربیت دی جائے، تو وہ ملک میں زراعت، صنعت، تجارت، اور دیگر شعبوں میں ایک انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں قدم رکھنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے اور اس شعبے میں پاکستان کا کردار دنیا بھر میں نمایاں ہوگا۔
وزیرِ اعظم کا 2030 تک ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں 2030 تک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مقصد نہ صرف عالمی سطح پر اے آئی کے میدان میں اپنا مقام بنانا ہے، بلکہ اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ پاکستان کی نوجوان نسل کو جدید ترین ٹیکنالوجیز میں تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ نہ صرف ملکی ترقی میں حصہ ڈالیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک جدید ملک کے طور پر پہچان ملے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا یہ عزم ہے کہ دیہی علاقوں تک اے آئی کی تعلیم پہنچائی جائے اور وہاں کے نوجوانوں کو جدید علم و مہارت سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ بھی اس ترقی میں برابر کے شریک ہو سکیں۔
اے آئی میں پی ایچ ڈی کے لیے 1000 وظائف
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ حکومت مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں تحقیق و ترقی کے لئے بھی ایک جامع حکمتِ عملی مرتب کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں، انہوں نے ایک ہزار پی ایچ ڈی سکالرشپس دینے کا اعلان کیا تاکہ پاکستانی نوجوان اس جدید ترین ٹیکنالوجی کے شعبے میں دنیا بھر میں تحقیق اور ترقی کے لئے نمایاں کردار ادا کر سکیں۔
وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ یہ وظائف نہ صرف پاکستانی نوجوانوں کے لئے ایک سنہری موقع ہوں گے، بلکہ یہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک طاقتور اور جدید ترین تحقیق کے مرکز کے طور پر ابھارنے میں مدد دیں گے۔
کرپشن کے خاتمے کے لئے ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات
وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں پاکستان کی حکومت کے مختلف ڈیجیٹلائزیشن اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن کی مدد سے ملک میں شفافیت لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں ای لائبریریز کا آغاز، سیف سٹی منصوبہ اور آئی ٹی یونیورسٹی کی تاسیس جیسے اقدامات نے صوبے کی تعلیمی و ترقیاتی صورتحال میں انقلاب برپا کیا تھا۔ اسی طرح، ملک بھر میں ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن، سمگلنگ کے روک تھام کے لئے جدید سکینرز اور آلات کی تنصیب، اور لینڈ ریکارڈ کی اصلاحات نے کرپشن کو کم کرنے اور شفافیت لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ حکومت نے سمگلنگ اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے، جس کی بدولت ملکی معیشت کو مزید مستحکم کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔
ڈیجیٹل انقلاب اور جدید تعلیم کے لئے اقدامات
وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کا مقصد نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے نوجوانوں کو ان مہارتوں سے آراستہ کرنا بھی ہے جو انہیں عالمی سطح پر مواقع فراہم کر سکیں۔ اس کے لیے، انہوں نے ایک ملین غیر آئی ٹی پروفیشنلز کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تربیت دینے کا عزم کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے 2030 تک ملک بھر میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم و نصاب کو مکمل طور پر متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا۔
وزیرِ آئی ٹی کا خطاب
وفاقی وزیر آئی ٹی، شزا فاطمہ خواجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ڈیجیٹل انقلاب کی طرف قدم بڑھا رہا ہے اور اس مقصد کے لئے حکومت نے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کی تشکیل، نیشنل ڈیجیٹل کمیشن کا قیام، اور ڈیجیٹل ماسٹر پلان کی تیاری شامل ہیں۔ وزیرِ آئی ٹی نے کہا کہ پاکستان کی پہلی قومی اے آئی پالیسی ستمبر 2025 میں متعارف کرائی جائے گی اور اس پر عملدرآمد 2026 میں شروع کیا جائے گا۔
شزا فاطمہ نے مزید کہا کہ حکومت نے ڈیٹا، سائبر سکیورٹی، اور اے آئی کے لئے ایک واضح گورننس فریم ورک تشکیل دیا ہے تاکہ ان شعبوں میں ترقی اور جدیدیت لائی جا سکے۔
وزیرِ منصوبہ بندی کا بیان
وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ اے آئی آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور پاکستان کو چوتھے صنعتی انقلاب کے لئے مکمل طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے اے آئی سے متعلق نیشنل ٹاسک فورس قائم کی ہے، جس نے پاکستان کی پہلی قومی اے آئی پالیسی کو ترتیب دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اے آئی، سائبر سکیورٹی، اور آئی ٹی کے شعبے میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔
نتیجہ
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں انقلابی اقدامات کا اعلان پاکستان کے لئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ ان اقدامات کی بدولت نہ صرف ملک کی معیشت میں استحکام آئے گا بلکہ پاکستانی نوجوان عالمی سطح پر جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔ وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گا اور عالمی برادری میں اپنی جگہ بنائے گا۔ انڈس اے آئی ویک 2026 نہ صرف پاکستان کے ٹیکنالوجی منظرنامے میں انقلاب لانے کے لیے ایک اہم موقع ہے، بلکہ یہ ایونٹ ملک کو عالمی سطح پر ایک طاقتور اور جدید ترین پارٹنر کے طور پر پیش کرنے کی بنیاد فراہم کرے گا۔





