بین الاقوامیتازہ ترین

بنگلہ دیش کے انتخابات اور ’مربوط بھارتی ڈس انفارمیشن مہم‘

جنوری 2025 میں جاری ہونے والے پولیس اعداد و شمار کے مطابق اقلیتی برادریوں سے متعلق 645 واقعات میں سے صرف 12 فیصد کو فرقہ وارانہ نوعیت کا قرار دیا گیا

اے ایف پی کے ساتھ

بنگلہ دیش کے ووٹر 12 فروری کو نئی حکومت کے انتخاب کے لیے پولنگ میں حصہ لیں گے، مگر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ غلط معلومات کی منظم یلغار ووٹرز کی رائے پر گہرا اثر ڈال رہی ہے، اس مہم کا بڑا حصہ بھارت سے پھیلایا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق آن لائن گمراہ کن مہمات، جن میں جدید اے آئی سے تیار شدہ تصاویر بھی شامل ہیں، اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ جھوٹے مواد کی روک تھام کے لیے ایک خصوصی یونٹ قائم کرنا پڑا ہے۔

عبوری رہنما اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس نے جنوری میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ فولکر ترک سے مدد کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابات کے حوالے سے ”غلط معلومات کا سیلاب‘‘ آیا ہوا ہے۔ ان کے بقول یہ مہم بیرونی میڈیا اور مقامی ذرائع، دونوں جانب سے چل رہی ہے۔

بنگلہ دیش: جماعت اسلامی اقتدار میں آ سکتی ہے؟

گمراہ کن معلومات کا ایک بڑا حصہ بنگلہ دیش  کی اقلیتوں پر مبینہ حملوں کے دعوؤں سے متعلق ہے۔ ملک کی 10 فیصد آبادی غیر مسلم ہے، جن میں سے بیشتر ہندو ہیں۔ سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر ”ہندو نسل کشی‘‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ دعوے گردش کر رہے ہیں۔

تاہم جنوری 2025 میں جاری ہونے والے پولیس اعداد و شمار کے مطابق اقلیتی برادریوں سے متعلق 645 واقعات میں سے صرف 12 فیصد کو فرقہ وارانہ نوعیت کا قرار دیا گیا۔

‘مربوط بھارتی ڈس انفارمیشن مہم‘

امریکہ میں قائم ادارے سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کے مطابق اگست 2024 سے جنوری 2026 تک سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر 170,000 سے زیادہ اکاؤنٹس نے ہندو نسل کشی کے دعووں پر مشتمل 7 لاکھ سے زائد پوسٹس پھیلائیں۔

بجرنگ دل کے کارکنان بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف احتجاج کرتے نظر آ رہے ہیں
شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں برسوں تک سیاسی پابندیوں اور اختلافی آوازوں کو دبانے کے بعد اب سوشل میڈیا پر جعلی مواد کی مقدار غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہےتصویر: Nitin Sharma/ANI

تھنک ٹینک کے سربراہ راقیب نائیک کے مطابق یہ ایک مربوطبھارتی ڈس انفارمیشن مہم ہے، جو جھوٹے طور پر دعویٰ کرتی ہے کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف بڑے پیمانے  پر تشدد ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق 90 فیصد سے زائد مواد بھارت سے پھیلا، جب کہ باقی حصہ برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا میں موجود ہندو قوم پرست نیٹ ورکس سے منسلک اکاؤنٹس سے آیا۔

اے ایف پی فیکٹ چیک نے ایسے متعدد جھوٹے مواد کی نشاندہی کی ہے، جن میں مندرجہ ذیل مواد شامل ہیں:

ایک اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو جس میں ایک خاتون اپنا بازو کھو دینے کے بعد عوام سے اپیل کرتی دکھائی گئی کہ وہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کو ووٹ نہ دیں۔

بھارتی ناقد اسٹوڈنٹ لیڈر کے قتل پر بنگلہ دیش میں مظاہرے

ایک اور جعلی کمپیوٹر تخلیقی ویڈیو میں ایک ہندو خاتون دعویٰ کرتی ہے کہ ہندوؤں کو جماعتِ اسلامی کو ووٹ دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے، ورنہ انہیں بھارت جلاوطن کر دیا جائے گا۔

یوٹیوب، فیس بک، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر اے ایف پی کی ٹیم نے سینکڑوں اے آئی سے تیار شدہ ویڈیوز کی نشاندہی کی ہے، جن میں سے بہت کم پر اے آئی ڈسکلیمر موجود تھا۔

شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں برسوں تک سیاسی پابندیوں اور  اختلافی آوازوں کو دبانے کے بعد اب سوشل میڈیا پر جعلی مواد کی مقدار غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔ ڈھاکہ کی تحقیقاتی تنظیم ڈیجیٹلی رائٹ کے سربراہ معراج احمد چودھری کے مطابق مفت اے آئی ٹولز نے ”انتہائی نفیس جعلی ویڈیوز‘‘ بنانا آسان بنا دیا ہے۔

سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے ہیں
جنوری 2025 میں جاری ہونے والے پولیس اعداد و شمار کے مطابق بنگلہ دیش میں اقلیتی برادریوں سے متعلق 645 واقعات میں سے صرف 12 فیصد کو فرقہ وارانہ نوعیت کا قرار دیا گیاتصویر: Anis Mahmud/AP Photo/picture alliance

ایک اور اے آئی سے تیار شدہ ویڈیو میں لوگوں کو شیخ حسینہ کی تعریف کرتے دکھایا گیا ہے۔

ایک بڑا خطرہ

بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے ترجمان محمد روح الامین ملک کے مطابق وہ فیس بک کی مدر کمپنی ”میٹا‘‘ کے ساتھ مل کر سوشل میڈیا نگرانی کے لیے ایک خصوصی یونٹ چلا رہے ہیں، مگر آن لائن مواد کی بے تحاشا مقدار سے نمٹنا ایک نہ ختم ہونے والا کام ہے۔

انہوں نے کہا، ”اگر ہماری ٹیم کسی مواد کو نقصان دہ یا گمراہ کن پاتی ہے، تو ہم فوراً اسے جعلی قرار دے دیتے ہیں۔‘‘

انتخابی امور کی ماہر اور الیکشن کمیشن کی سابق اہلکار جیسمن تُلی کے مطابق اے آئی سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز بنگلہ دیش کے لیے اضافی خطرہ ہیں۔

بنگلہ دیش: حقوق نسواں سے متعلق تجاویز، مذہبی حلقے ناخوش

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہری علاقوں میں 80 فیصد سے زائد گھروں میں کم از کم ایک اسمارٹ فون موجود ہے، اور دیہی علاقوں میں یہ شرح 70 فیصد کے قریب ہے، لیکن بہت سے لوگ اب بھی ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے نسبتاً نئے ہیں۔

تُلی کا کہنا ہے، ’’بنگلہ دیش جیسے ملک کے لیے یہ ایک بڑا خطرہ ہے، کیونکہ یہاں لوگوں میں معلومات کی جانچ پرکھ کا شعور بہت کم ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی سے تیار کردہ جعلی مناظر کی وجہ سے ووٹر گمراہ ہو جاتے ہیں اور ان کے فیصلے متاثر ہوتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button