
اسکاریا پارا میلیزا
لیکن یورپ ابھی تک نہ تو عسکری طور پر اور نہ ہی سیاسی طور پر اس قابل ہے کہ کسی بڑے حملے کی صورت میں نیٹو کے معیار کے مطابق مضبوط اور مؤثر اجتماعی ردِعمل دے سکے۔
موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ یورپی یونین میں اجتماعی دفاع کے بارے میں ایک مضبوط قانونی تقاضا موجود ہے تاہم فوجی تیاری غیرمتوازن ہے اور حقیقی دفاع کے لیے یورپی یونین کے رکن ممالک کا نیٹو پر انحصار برقرار ہے۔
نتیجتاً، یورپ کا باہمی دفاع کا نظام کاغذ پر تو موجود ہے، مگر عملی طور پر یہ ابھی ترقی کے مراحل میں ہے۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی سخت تجارتی پالیسیوں سے لے کر گرین لینڈ کی ”ملکیت‘‘ تک کی بیان بازی نے یورپ کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی پر مجبور کر دیا ہے۔ برسلز میں سفارت کار، حکام اور تھنک ٹینکس اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا امریکہ اب بھی نیٹو کے آرٹیکل 5 کا احترام کرے گا یا نہیں — یہ وہ شق ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

لیکن اس بحث سے ہٹ کر ایک اور کم معروف دفاعی عہد بھی موجود ہے جو بیشتر یورپی ممالک کو باندھتا ہے۔ یورپی یونین کا آرٹیکل 42.7 رکن ممالک کو پابند کرتا ہے کہ اگر کسی ایک یورپی ملک پر حملہ ہو، تو وہ اپنی بھرپور طاقت کے مطابق اس کی مدد کریں۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ باہمی دفاعی شق کیا تقاضا کرتی ہے اور کیا یورپی ممالک واقعی اس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہوں گے؟
یورپی یونین ٹریٹی کا آرٹیکل 42.7 کیا ہے؟
یورپی یونین نے 2009 میں معاہدہ لزبن کے آرٹیکل 42.7 کے تحت ایک باہمی دفاعی شق متعارف کرائی، جس کے مطابق اگر کسی رکن ملک پر اس کے علاقے میں مسلح حملہ ہو تو دوسرے رکن ممالک اس کی مدد اپنی پوری طاقت کے مطابق کرنے کے پابند ہوں گے۔
مذکورہ شق میں یہ وضاحت بھی شامل ہے کہ یہ تقاضا اُن ممالک کی منفرد دفاعی و سکیورٹی پالیسیوں سے متصادم نہیں ہوگا، خصوصاً اُن ریاستوں کے لیے جن کی دفاعی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون نیٹو ہے۔
برسلز کے یورپی پالیسی سینٹر کے سکیورٹی تجزیہ کار Juraj Majcin کے مطابقیورپی یونین اور نیٹو کی دفاعی شقوں میں اصل فرق امداد کے فراہم کیے جانے کے طریقہ کار میں ہے۔ یورپی یونین کی شق بین الحکومتی اور دوطرفہ مدد پر مبنی ہے، جبکہ نیٹو کا آرٹیکل 5 ایک زیادہ جامع اور منظم دفاعی ڈیٹرینس کا اصول رکھتا ہے۔

جرمن سوشل ڈیموکریٹ لیڈر اور سابق رکنِ پارلیمان اور دفاعی ماہر کرسٹیان کلِنک کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 42.7 بظاہر نیٹو کے آرٹیکل 5 سے بھی زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے، کیونکہ ”اپنی پوری طاقت‘‘ سے مدد کی شرط کو اکثر ”اپنی آخری حد تک‘‘ مدد کرنے کے معنی میں لیا جاتا ہے۔
2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد کئی یورپی ممالک نےنیٹو کے دفاعی اخراجات بڑھانے اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر توجہ دی ہے۔ کلِنک کا کہنا ہے کہ یورپ نے پیش رفت تو کی ہے، مگر مضبوط دفاعی صلاحیتیں حاصل کرنے کے لیے ابھی طویل سفر باقی ہے۔
انہوں نے جرمن اور ڈچ زمینی افواج کے مکمل انضمام اور ڈچ۔بیلجیئم بحری تعاون کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر یورپ اسی جذبے سے کام جاری رکھے جیسا داووس میں یورپی رہنماؤں نے ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے دکھایا تھا، تو یورپ یہ ذمہ داری نبھا سکتا ہے۔
تاہم نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کا پیغام مختلف ہے: وہ کہتے ہیں، ”اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یورپی یونین یا مجموعی طور پر یورپ امریکا کے بغیر اپنا دفاع کر سکتا ہے، تو یہ محض خواب ہے۔‘‘
برسلز کے سکیورٹی تجزیہ کار Juraj Majcin بھی اس سے متفق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یورپ کی دفاعی صلاحیت کا سوال صرف یوکرین پر روس جیسے بڑے حملوں تک محدود نہیں۔ روس کا مقصد نیٹو کو سیاسی طور پر کمزور کرنا اور یہ دکھانا ہے کہ آرٹیکل 5 بے وقعت ہے اور دفاعی اتحاد کمزور ہو چکا ہے۔



