
دہشت گردی کا نیا ابھار اور قومی اتحاد کی ناگزیر ضرورت……..سید عاطف ندیم
یہ وقت اس بحث کا نہیں کہ ماضی میں کس کی کوتاہی یا پالیسیوں نے دہشت گردی کو پنپنے کا موقع دیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے افغانستان کی موجودہ صورتحال کو 11 ستمبر 2001 سے تشبیہ دینا ایک سنجیدہ اور بروقت انتباہ ہے۔ ان کا کہنا کہ آج افغانستان میں دہشت گرد گروہ اسی طرح آزادانہ سرگرم ہیں جیسے طالبان کے پہلے دورِ اقتدار میں القاعدہ اور دیگر تنظیمیں تھیں، پاکستان کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ بالخصوص تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند گروہوں کا افغان سرزمین سے بلا روک ٹوک کام کرنا علاقائی سلامتی کے لیے سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔
اگرچہ داعش خراسان (IS-K) افغان طالبان کی مخالف سمجھی جاتی ہے، تاہم یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں مؤثر نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ اسلام آباد جیسے حساس اور محفوظ سمجھے جانے والے شہر میں دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی اور مبینہ افغان شہری کی گرفتاری نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ اس پر مستزاد، خود داعش کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنا صورتِ حال کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
صدر زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے بھارت پر طالبان حکومت کی معاونت اور دہشت گردوں کی فنڈنگ میں اضافے کے الزامات بھی ایک سنجیدہ سفارتی اور سلامتی بحث کا تقاضا کرتے ہیں۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
ایسے نازک وقت میں داخلی سیاسی محاذ آرائی نہایت افسوسناک ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات کی جانب سے دہشت گردی کے احیاء کا الزام کسی سیاسی جماعت پر ڈالنا قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ دہشت گردی جیسے ہمہ گیر خطرے کا مقابلہ الزام تراشی سے نہیں بلکہ مشترکہ حکمتِ عملی سے کیا جا سکتا ہے۔
اس تناظر میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت اور مرکز، صوبوں اور فوج کے مابین تعاون پر زور ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اسی طرح اسلام آباد حملے کے ملزمان کی گرفتاری میں کے پی سی ٹی ڈی کے کردار کی تحسین بھی بین الصوبائی تعاون کی ایک مثال ہے جسے مزید فروغ دیا جانا چاہیے۔
یہ وقت اس بحث کا نہیں کہ ماضی میں کس کی کوتاہی یا پالیسیوں نے دہشت گردی کو پنپنے کا موقع دیا۔ یہ ایک طویل اور پیچیدہ بحث ہے جس کے لیے مناسب فورم موجود ہیں۔ اس وقت اصل ضرورت ایک نکاتی ایجنڈے کی ہے: دہشت گردی کا مکمل خاتمہ۔
داعش جیسے خونخوار گروہ کی جانب سے ملک کے قلب میں حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خطرہ نہ صرف موجود ہے بلکہ بدلتی ہوئی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ریاست پہلے ہی ٹی ٹی پی کے خلاف برسرِ پیکار ہے، اور وہ کسی نئی دہشت گرد قوت کو پنپنے کی اجازت دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ مزید مؤثر انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں، بہتر سرحدی نگرانی اور سب سے بڑھ کر سیاسی اتفاقِ رائے ہی اس چیلنج کا واحد جواب ہے۔
قوم کو درپیش اس سنگین خطرے کے مقابلے کے لیے تمام ریاستی اور سیاسی اداروں کو بالغ نظری، اتحاد اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا — کیونکہ دہشت گردی کسی ایک جماعت یا حکومت کا نہیں، پوری قوم کا مسئلہ ہے۔



