
اے ایف پی
یورپی یونین کے رہنماؤں کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس سے قبل متعدد یورپی اخبارات سے گفتگو کرتے ہوئے ماکروں نے کہا کہ تجارتی محاذ پر چین ایک ”سونامی‘‘ کی مانند ہے جبکہ امریکا کی جانب سے ہر لمحہ بدلتی ہوئی صورتحال یورپ کے لیے عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے۔ ان کے بقول یہ دونوں بحران یورپ کے لیے ایک گہرے دھچکے اور ایک واضح موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ماکروں نے کہا کہ وہ یورپی رہنماؤں پر زور دیں گے کہ وہ ”گرین لینڈ کے لمحے‘‘ کو بیرونی خطرات کے بارے میں ایک تنبیہی اشارہ سمجھیں اور اسے سنجیدگی سے لیں اور بالآخر معاشی اصلاحات پر عمل درآمد کرتے ہوئے امریکہ اور چین پر انحصار کم کریں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ حالیہ عرصے میں گرین لینڈ، ٹیکنالوجی اور تجارت کے معاملات پر تنازعات کے بعد امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں عارضی کمی کے باعث یورپی یونین کو کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے دھمکیاں اور دباؤ آتا ہے، پھر اچانک واشنگٹن پیچھے ہٹ جاتا ہے اور یورپ یہ سمجھ لیتا ہے کہ معاملہ ختم ہو گیا، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے مطابق ادویات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں روزانہ کی بنیاد پر نئے خطرات سامنے آ رہے ہیں۔
ماکروں نے خاص طور پر خبردار کیا کہ اگر یورپی یونین ٹیکنالوجی کمپنیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ استعمال کرتی ہے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے درآمدی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کھلی جارحیت ہو تو جھکنا یا سمجھوتہ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ حکمت عملی نہ صرف ناکام ثابت ہوئی ہے بلکہ اس سے یورپ کا انحصار بیرونی قوتوں پر مزید بڑھتا ہے۔

جمعرات کے اجلاس میں فرانس کی جانب سے ”میڈ اِن یورپ‘‘ حکمت عملی پر بھی بحث متوقع ہے، جس کے تحت یورپ میں تیار کی جانے والی مصنوعات میں یورپی ساختہ مواد کی کم از کم حد مقرر کی جائے گی۔ اس تجویز نے یورپی ممالک کو تقسیم کر دیا ہے اور کار ساز کمپنیوں کو بھی تشویش لاحق ہے جبکہ جرمنی، اٹلی اور شمالی یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ سخت یورپی پابندیاں سرمایہ کاری کو خوفزدہ کر سکتی ہیں۔
ماکروں نے کہا کہ یورپ کو ایک طاقت بنانے کی معاشی حکمت عملی اس تصور پر مبنی ہونی چاہیے جسے وہ ”تحفظ‘‘ کہتے ہیں، جو ان کے بقول تحفظ پسندی نہیں بلکہ یورپی ترجیح کا اصول ہے۔



