صحتتازہ ترین

یورپ اور وسطی ایشیا میں خسرے کا پھیلاؤ 75 فیصد کم، ڈبلیو ایچ او

جب تک ہر بچے کو ویکسین نہیں ملتی اور غلط معلومات کے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والی ہچکچاہٹ کا خاتمہ نہیں ہوتا

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے کہ یورپ اور وسطی ایشیا میں گزشتہ سال خسرہ کے پھیلاؤ میں 75 فیصد کمی واقع ہوئی تاہم اس وبا کے دوبارہ پھیلنے کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔

گزشتہ سال دونوں خطوں کے 53 ممالک میں خسرہ کے 33,998 مریض سامنے آئے جبکہ 2024 میں یہ تعداد 127,412 تھی۔ اقوام متحدہ کے مطابق، خسرہ سے نمٹنے کے اقدامات اس بیماری کے پھیلاؤ میں کمی کا بڑا سبب ہیں جبکہ ایسے افراد کی تعداد میں بھی بتدریج کمی آئی ہے جو خسرہ کا شکار ہونے کے لیے حساس تھے۔
Tweet URL

یورپ اور وسطی ایشیا کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی ریجنل ڈائریکٹر ریجینا ڈی ڈومینیکس نے کہا ہے کہ اگرچہ اس بیماری کے مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے لیکن وہ حالات اب بھی موجود ہیں جو حالیہ برسوں میں اس مہلک بیماری کے دوبارہ ابھرنے کا سبب بنے اور انہیں دور کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ہر بچے کو ویکسین نہیں ملتی اور غلط معلومات کے پھیلاؤ سے پیدا ہونے والی ہچکچاہٹ کا خاتمہ نہیں ہوتا اس وقت تک بچے خسرہ اور دیگر قابل انسداد بیماریوں کے سبب صحت و زندگی کے خطرات سے دوچار رہیں گے۔

مستند معلومات کی ضرورت

اگرچہ یورپ اور وسطی ایشیا میں گزشتہ سال خسرہ کے مریضوں کی تعداد میں کم آئی لیکن یہ اب بھی 2000 کے بعد بیشتر برسوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ بعض ممالک میں 2024 کے مقابلے میں زیادہ مریض سامنے آئے اور اب بھی آ رہے ہیں۔

ڈاکٹر کلوگے نے کہا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران یورپی خطے میں دو لاکھ سے زیادہ افراد خسرہ کا شکار ہوئے۔ جب تک ہر علاقے میں ویکسینیشن کی شرح 95 فیصد تک نہیں پہنچتی، تمام عمر کے افراد میں قوت مدافعت پیدا نہیں ہوتی، بیماری کی نگرانی کو مضبوط نہیں کیا جاتا اور بروقت اقدامات یقینی نہیں بنائے جاتے اس وقت تک یہ مرض پھیلتا رہے گا۔

یورپ کے لیے ‘ڈبلیو ایچ او’ کے علاقائی ڈائریکٹر ہینز کلوگے نے کہا ہے کہ قومی اور علاقائی صحت کے تحفظ کے لیے خسرہ کا خاتمہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ ایسے معاملات میں ڈبلیو ایچ او، یونیسف اور قومی صحت کے اداروں سے تصدیق شدہ معلومات پر انحصار کریں۔

انتہائی متعدی وائرس

خسرہ دنیا کا ایک انتہائی متعدی وائرس ہے جس سے متاثرہ فرد 18 ایسے افراد کو یہ بیماری منتقل کر سکتا ہے جنہوں نے ویکسین نہ لگوائی ہو۔

خسرہ انفلوئنزا کے مقابلے میں تقریباً 12 گنا زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ یہ بیماری نہ صرف ہسپتال میں داخلے اور موت کا سبب بن سکتی ہے بلکہ جسم میں طویل المدتی اور کمزور کر دینے والی پیچیدگیاں بھی پیدا کر سکتی ہے۔

یہ وائرس مدافعتی نظام کو بھی نقصان پہنچاتا اور انفیکشن کا مقابلہ کرنےکے لیے اس کی یادداشت مٹا دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خسرہ سے صحت یاب ہونے والے افراد کئی مہینوں بلکہ برسوں تک دیگر بیماریوں کے لیے زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔

خسرہ سے بچاؤ کی ویکسین کی دو خوراکیں عمر بھر کے لیے تقریباً 97 فیصد تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

اس مرض کی وبا کو روکنے اور اجتماعی مدافعت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر علاقے میں ہر سال کم از کم 95 فیصد بچوں کو ویکسین کی دو خوراکیں دی جائیں۔ اس سے ان شیر خوار بچوں کی حفاظت بھی ہوتی ہے جو ویکسین لگوانے کے قابل نہیں ہوتے اور ایسے افراد بھی تحفظ پاتے ہیں جنہیں طبی وجوہات کی بنا پر ویکسین نہیں دی جا سکتی۔

صحت عامہ کی ترجیحات

خسرہ کے خاتمے کے ہدف کے ساتھ اس وبا سے مقابلے کی تیاری اور روک تھام کے بروقت اقدامات صحت عامہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔

یونیسف اور ‘ڈبلیو ایچ او’ حکومتوں اور شراکت داروں بشمول گاوی (ویکسین الائنس) اور یورپی یونین کے تعاون سے خسرہ کی روک تھام اور اس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے متعدد اقدامات اٹھا رہے ہیں جن میں درج ذیل خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

  • مقامی سطح پر بیماری کے بارے میں آگاہی اور رابطہ سازی کا فروغ
  • خسرہ سے بچاؤ کے لیے طبی عملے کی تربیت
  • ویکسینیشن پروگرام اور بیماری کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات
  • خسرہ پر قابو پانے کے لیے ویکسینیشن مہمات کا انعقاد

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button