پاکستاناہم خبریں

عمران خان کی آنکھوں کے علاج سے متعلق حکومتی وضاحت

خصوصی طبی مرکز میں ماہرینِ چشم کے ذریعے مزید معائنہ، تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی

سید عاطف ندیم-پاکستان گورنمنٹ کے ساتھ

حکومت نے سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی آنکھوں کے جاری علاج کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ ان کے مزید چیک اپ اور علاج کا عمل ملک کے بہترین ماہرینِ چشم کے ذریعے ایک خصوصی اور جدید طبی سہولت میں مکمل کیا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس طبی عمل کی نگرانی متعلقہ ماہرین کریں گے تاکہ تشخیص، علاج اور فالو اَپ بین الاقوامی طبی معیارات کے مطابق ہو۔

حکام کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق تمام اقدامات قواعد و ضوابط کے تحت کیے جا رہے ہیں اور علاج کے ہر مرحلے کو باقاعدہ دستاویزی شکل دی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں ان کے علاج اور طبی معائنے سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی پیش کی جائے گی تاکہ عدالتِ عظمیٰ کو علاج کی نوعیت، پیش رفت اور آئندہ لائحۂ عمل سے مکمل طور پر آگاہ رکھا جا سکے۔

قیاس آرائیوں سے گریز کی اپیل

حکومت نے اس معاملے پر قیاس آرائیوں، مفروضوں اور اسے سیاسی بیان بازی میں بدلنے کی کوششوں سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق صحت سے متعلق معاملات کو سیاسی مقاصد یا ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ اس سے عوام میں غیر ضروری تشویش بھی پھیلتی ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ عمران خان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی یا تاخیر کا ارادہ نہیں اور ریاست اپنی قانونی و آئینی ذمہ داریوں کے مطابق قیدی کی صحت و سلامتی کو یقینی بنا رہی ہے۔

علاج کے انتظامات اور طبی نگرانی

سرکاری بیان کے مطابق خصوصی طبی سہولت میں کیے جانے والے معائنے میں جدید تشخیصی ٹیسٹس، ماہرین کی آراء اور ضرورت پڑنے پر مزید طبی اقدامات شامل ہوں گے۔ اس عمل کا مقصد عمران خان کی آنکھوں کی موجودہ حالت کا جامع جائزہ لینا اور ممکنہ علاج کے بہترین آپشنز کا تعین کرنا ہے تاکہ بینائی سے متعلق خدشات کو مؤثر طور پر حل کیا جا سکے۔

سیاسی ماحول اور عوامی ردِعمل

عمران خان کی صحت سے متعلق پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں سیاسی ماحول پہلے ہی خاصا کشیدہ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ طبی معاملے کو سیاست سے الگ رکھتے ہوئے پیشہ ورانہ اور انسانی بنیادوں پر نمٹایا جا رہا ہے، جبکہ اپوزیشن حلقے علاج کی شفافیت اور بروقت اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

نتیجہ

حکومتی وضاحت کے مطابق عمران خان کے آنکھوں کے علاج میں ماہرینِ چشم کی شمولیت، خصوصی طبی سہولت کا انتخاب اور سپریم کورٹ میں رپورٹ کی پیشی اس بات کی علامت ہے کہ معاملے کو سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت نے ایک بار پھر اس امر پر زور دیا ہے کہ صحت جیسے حساس معاملے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے حقائق اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button