
ناصف اعوان پاکستان گورنمنٹ کے ساتھ
پاکستان کے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے گزشتہ روز شیخوپورہ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی صحت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔ وزیر قانون کا کہنا تھا کہ عمران خان کی دونوں آنکھوں کی بینائی کی حالت بہتر ہے، اور ان کی ایک آنکھ کی بینائی 6 بائے 6 ہے جبکہ دوسری 70 فیصد تک ٹھیک ہے۔
عمران خان کی آنکھوں کی صحت: وزیر قانون کی وضاحت
اعظم نذیر تارڑ نے کہا، "آج کل بہت شور مچا ہوا ہے کہ عمران خان کی صحت کے بارے میں کچھ ہو گیا ہے۔ تاہم، مجھے اس پر واضح کر دینا چاہیئے کہ میں نے آج یہاں آنے سے پہلے اٹارنی جنرل صاحب سے عمران خان کی آنکھوں کی حالت کے حوالے سے تفصیلی بات کی ہے۔” انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کی آنکھوں کا معائنہ کیا گیا تھا، اور اس معائنے کے مطابق ان کی دونوں آنکھوں کی حالت ٹھیک ہے۔
وزیر قانون نے مزید کہا کہ اگر عمران خان نظر والی عینک استعمال کر رہے ہیں تو ایک آنکھ کی بینائی 70 فیصد ٹھیک ہے اور دوسری 6 بائے 6 ہے، اس میں کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔
آئین و قانون کی پاسداری پر زور
اعظم نذیر تارڑ نے اپنے خطاب میں وفاقی حکومت کی جانب سے شہریوں کے حقوق کی حفاظت اور آئین کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "ہم سب کو آئین اور قانون کے تحت ملک چلانا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ریاستی سطح پر شہریوں کے حقوق سلب کرنے کے اقدامات کی اجازت نہیں دے سکتا۔
وزیر قانون نے کہا کہ "آئین کے آرٹیکل 15 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ آپ کی نقل و حمل پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ سرکاری سطح پر موٹر ویز اور جی ٹی روڈز کی بندش غیر آئینی اقدام ہے اور اس کا فوری نوٹس لینا ضروری ہے۔”
پنجاب حکومت کی طرف سے نازیبا اقدامات کی مخالفت
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا سمیت تمام صوبوں کو آئین کی حدود میں رہ کر کام کرنے کی ہدایت دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین تمام صوبوں اور اسلام آباد کو ایک ہی دائرے میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے اور اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ کسی ایک صوبے کی حکومت آئین کے خلاف اقدامات کرے۔
عمران خان کی صحت کی رپورٹس اور سپریم کورٹ کا مداخلت
اس سے قبل، جمعرات کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں عمران خان کی صحت سے متعلق ایک رپورٹ جمع کرائی گئی تھی، جسے بیرسٹر سلمان صفدر نے فرینڈ آف دی کورٹ کے طور پر پیش کیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے، جو ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا باعث بنی۔
اس رپورٹ کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے فوری طور پر عمران خان کی صحت کے حوالے سے تحقیقات کا حکم دیا تھا، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کی طبی حالت ان کی سیاسی سرگرمیوں پر اثرانداز ہو رہی ہے یا نہیں۔
وزیر قانون کا تنبیہہ: وفاقی حکومت کا کردار
اعظم نذیر تارڑ نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ اگر کسی بھی صوبے کی حکومت آئین کی خلاف ورزی کرتی ہے اور شہریوں کے حقوق کو سلب کرنے کے اقدامات کرتی ہے تو وفاقی حکومت کو مداخلت کرنی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ "میں امید کرتا ہوں کہ رپورٹ دیکھنے کے بعد وہ خود ہی اپنی غلطی درست کر لیں گے، ورنہ وفاقی حکومت کو اس معاملے پر ایکشن لینا پڑے گا، اور اس صورت میں کوئی شکایت نہیں کرنی چاہیے۔”
وفاقی حکومت کا عزم
وزیر قانون نے اس موقع پر وفاقی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آئین و قانون کی پاسداری کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی، اور کسی بھی غیر آئینی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات کا بھی عزم ظاہر کیا کہ پاکستان کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت ہمیشہ آگے آئے گی، اور شہریوں کے حقوق کی حفاظت میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گی۔
نتیجہ
اس تقریب میں وزیر قانون نے نہ صرف عمران خان کی صحت کے بارے میں واضح معلومات فراہم کیں بلکہ آئین کی پاسداری اور شہریوں کے حقوق کے حوالے سے وفاقی حکومت کی پوزیشن کو بھی واضح کیا۔ ان کے بیانات نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ وفاقی حکومت آئین کی پاسداری اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر تیار ہے۔



