
اے ایف پی
طالبان حکام نے نومبر میں اعلان کیا تھا کہ پاکستان سے ادویات کی دہائیوں پر محیط درآمدی وابستگی ختم کی جائے گی۔ یہ فیصلہ دونوں پڑوسی ممالک کے مابین اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد کیا گیا تھا۔ تاہم رواں ماہ اس پابندی کے نفاذ کے بعد افغان وزارت خزانہ کے ترجمان عبدالقیم نصیر نے اے ایف پی کو بتایا کہ حکومت نے درآمد کنندگان سے کہا ہے کہ وہ پاکستانی سپلائی کی جگہ ”متبادل اور قانونی‘‘ ذرائع تلاش کریں۔

اگرچہ موجودہ معاہدے ختم کرنے اور کسٹم کلیئرنس کے لیے تین ماہ کی مہلت دی گئی تھی تاہم یہ تبدیلی افغانستان کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے، جو اپنی نصف سے زیادہ ادویات پاکستان سے درآمد کرتا تھا۔
کابل کے ایک فارماسسٹ مجیب اللہ افضلی نے کہا، ”کچھ ادویات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، کچھ مارکیٹ میں دستیاب نہیں، اس سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔‘‘
ادویات اب دیگر ممالک سے منگوائی جا رہی ہیں، جس سے ترسیل کا وقت، لاگت اور لاجسٹکس میں پیچیدگیاں بڑھ گئی ہیں۔ افضلی کے مطابق انہوں نے ایران کی سرحد پر واقع اسلام قلعہ کراسنگ کے ذریعے ادویات منگوانا شروع کی ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ کی لاگت میں 10 سے 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
فارماسیوٹیکل صنعت سے وابستہ ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پہلے ٹرانسپورٹ اخراجات ادویات کی مجموعی لاگت کا 6 سے 7 فیصد ہوتے تھے، جو اب بڑھ کر 25 سے 30 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔ ان کے مطابق کاروباری افراد کو پہلے ہی لاکھوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا، ”اگر پہلے کسی دوا کی قلت ہوتی تو پاکستان فون کیا جاتا اور دو سے تین دن میں دوا پہنچ جاتی تھی۔‘‘ چاہے قانونی طور پر ہو یا غیر قانونی طور پر، سپلائی تیزی سے ہو جاتی تھی۔

جعلی ادویات کا مسئلہ
وزارت صحت کے ترجمان شرافت زمان نے کہا کہ اصلاحات کی ایک بڑی وجہ جعلی اور نقلی ادویات تھیں۔ ان کے مطابق پاکستانی ادویات کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا کہ مارکیٹ میں جعلی مصنوعات آ رہی تھیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ مارکیٹ کو نئے نظام پر منتقل ہونے میں وقت لگے گا تاہم ان کے بقول ایران، بھارت، بنگلہ دیش، ازبکستان، ترکی، چین اور بیلاروس کے ساتھ سپلائی کے لیے رابطے جاری ہیں۔ ان کے بقول بھارت پہلے ہی مارکیٹ میں دوسرا بڑا سپلائر تھا اور اب اس کے ذریعے ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔
زمان نے کہا کہ افغانستان میں 600 اقسام کی ادویات کی مقامی پیداوار نے کئی مریضوں کے مسائل حل کیے ہیں۔ مقامی کمپنی ملی شفا فارماسیوٹیکل روزانہ ایک لاکھ سیرم کی بوتلیں تیار کرتی ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنی صلاحیت دوگنی کر سکتی ہے۔
تاہم ادویہ سازی کی صنعت سے وابستہ ذرائع کے مطابق خام مال کی درآمد، توانائی کی بلند قیمتوں اور محدود انفراسٹرکچر کے باعث افغانستان مکمل طور پر خود کفیل نہیں بن سکتا۔

قلت اور مہنگائی کا خدشہ
ملک بھر میں اس صنعت کی ازسرنو تشکیل تین ماہ میں ممکن نہیں۔ بعض مقامی ادویات پاکستانی مصنوعات کے مقابلے میں مہنگی ثابت ہو رہی ہیں، جن پر صارفین کو برسوں سے اعتماد تھا۔ ایک ذریعے کے مطابق کچھ لوگ اب بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستانی دوا مؤثر ہے جبکہ بھارت یا دیگر ممالک کی ادویات پر انہیں اتنا یقین نہیں۔
کابل میں ادویات اور طبی آلات فراہم کرنے والے ایک شخص نے کہا کہ ڈاکٹرز کو نسخے تبدیل کرنا پڑ رہے ہیں، متبادل ادویات تلاش کرنا اور علاج کے منصوبوں میں ردوبدل کرنا پڑ رہا ہے، جس میں اضافی وقت اور محنت درکار ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان پر انحصار ختم کرنے کی یہ کوشش قلیل مدت میں علاج کے عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے، جس سے ادویات کی قلت، بار بار متبادل استعمال اور بعض اوقات زیادہ قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔



