
سید عاطف ندیم-پاکستان سیکورٹی فورسز کے ساتھ
صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل گرام کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پولیس، ایلیٹ فورس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے تین دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں تین پولیس اہلکار بھی شہید ہو گئے۔
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن
سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جن میں بتایا گیا تھا کہ کالعدم شدت پسند گروہ کے اہم کارندے کبل گرام کے پہاڑی علاقے میں روپوش ہیں اور ممکنہ طور پر کسی بڑی دہشتگردی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اطلاعات ملنے پر پولیس، ایلیٹ فورس اور سی ٹی ڈی کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا۔
جیسے ہی فورسز نے مشتبہ مقام کی جانب پیش قدمی کی، دہشتگردوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں تین دہشتگرد مارے گئے۔
مطلوب دہشتگرد نور اسلام ہلاک
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں نور اسلام نامی دہشتگرد بھی شامل ہے، جو انتہائی مطلوب تھا اور اس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نور اسلام شدت پسند تنظیم کے مقامی نیٹ ورک کا سرغنہ تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متعدد سنگین وارداتوں میں مطلوب تھا۔
کارروائی کے دوران ایک اور دہشتگرد نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جبکہ تیسرے دہشتگرد کو فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔
تین اہلکاروں کی شہادت
آپریشن کے دوران دہشتگردوں کی فائرنگ سے تین پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔ شہداء میں مقبول احمد، فدا حسین اور سعید الرحمان شامل ہیں۔ حکام کے مطابق شہداء کی میتیں ضابطے کی کارروائی کے بعد آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں، جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہید اہلکاروں نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور دہشتگردوں کو اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔
اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد
ذرائع کے مطابق کارروائی کے بعد علاقے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔ بم ڈسپوزل سکواڈ نے علاقے کو کلیئر قرار دینے سے قبل مزید تلاشی لی تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
دفاعی ماہرین کی رائے
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق کبل گرام جیسے پہاڑی علاقوں میں دہشتگردوں کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شدت پسند گروہ دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹارگٹڈ آپریشن انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے شدت پسند نیٹ ورک کو مؤثر دھچکا پہنچا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہلاک ہونے والے عناصر ماضی میں غیر ملکی باشندوں، بالخصوص چینی شہریوں پر ہونے والے حملوں میں بھی ملوث رہے ہیں، اور ان کی سرگرمیوں پر سکیورٹی ادارے کافی عرصے سے نظر رکھے ہوئے تھے۔
علاقے میں سرچ آپریشن جاری
کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن کا دائرہ وسیع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ سہولت کار یا فرار ہونے والے دہشتگرد کو گرفتار کیا جا سکے۔ داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی سخت کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور ریاست دشمن عناصر کو ہر صورت انجام تک پہنچایا جائے گا۔
قومی عزم کا اعادہ
حکام اور سکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ شہید اہلکاروں کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی اور امن کے قیام تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔



