
اے ایف پی، روئٹرز کے ساتھ
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ابتدائی طور پر امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں برطانوی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ اسٹارمر ’’مددگار ثابت نہیں ہوئے۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے ایسا دیکھنا پڑے گا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ برطانیہ کا ایسا رویہ دیکھوں گا۔ ہم برطانیہ سے محبت کرتے ہیں۔‘‘
ٹرمپ نے کہا، ’’یہ سب سے مضبوط تعلقات تھے اور اب ہمارے یورپ کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی بہت مضبوط تعلقات ہیں۔‘‘ انہوں نے خاص طور پر فرانس اور جرمنی کا ذکر کیا۔
پیر کی شام وائٹ ہاؤس سے ٹیلی فونک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا، ’’درحقیقت یہ ایک مختلف دنیا ہے۔ یہ آپ کے ملک کے ساتھ ہمارے پہلے کے تعلقات سے بالکل مختلف نوعیت کا رشتہ ہے۔‘‘
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ تعلقات واضح طور پر ویسے نہیں رہے جیسے پہلے تھے۔‘‘
یہ سخت بیانات اس وقت سامنے آئے جب ایک روز قبل ہی ٹرمپ نے ’دی ڈیلی ٹیلی گراف‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اسٹارمر کے ردِعمل کو ’’بہت مایوس کن‘‘ قرار دیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعد میں مخصوص شرائط کے تحت برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینا ”کارآمد‘‘ تھا لیکن یہ فیصلہ ’’بہت زیادہ وقت برباد ہونے کے بعد‘‘ کیا گیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کا معاملہ برطانیہ میں سیاسی طور پر حساس سمجھا جاتا ہے، خصوصاً سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی جانب سے امریکہ کی قیادت میں عراق پر حملے کی حمایت کے منفی نتائج کے بعد۔

’قومی مفاد‘
وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کے روز پارلیمنٹ میں اپنے مؤقف کا دفاع کیا۔
انہوں نے قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’صدر ٹرمپ نے ابتدائی حملوں میں شامل نہ ہونے کے ہمارے فیصلے سے اختلاف کا اظہار کیا ہے، لیکن یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں یہ طے کروں کہ برطانیہ کے قومی مفاد میں کیا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’میں نے یہی کیا ہے اور میں اپنے فیصلے پر قائم ہوں۔‘‘
ابتدائی طور پر حملوں میں کسی بھی کردار سے انکار کرنے کے بعد، اسٹارمر نے اتوار کو اعلان کیا کہ انہوں نے امریکہ کی اس درخواست سے اتفاق کر لیا ہے کہ برطانوی فوجی اڈوں کو ’’ایک مخصوص اور محدود دفاعی مقصد‘‘ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ان کے دفتر ڈاؤننگ اسٹریٹ نے کہا کہ اسٹارمر نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب ایران نے ہفتے کے اختتام پر میزائل داغے، جن سے برطانوی مفادات اور شہریوں کو ’’خطرہ لاحق‘‘ ہو گیا تھا۔
پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہم سب کو عراق کی غلطیاں یاد ہیں اور ہم نے ان سے سبق سیکھا ہے۔ برطانیہ کی کسی بھی کارروائی کی ہمیشہ قانونی بنیاد اور اچھی طرح سوچا سمجھا قابلِ عمل منصوبہ ہونا چاہیے۔‘‘
وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ قبرص میں برطانوی فوجی اڈے ’’امریکہ کے بمبار طیاروں کے استعمال میں نہیں ہیں‘‘ جو ایران کے خلاف جنگ کے دوران کارروائی کر رہے ہوں۔
قبرص میں برطانیہ کے اکروتیری فضائی اڈے پر پیر کی صبح ایک ایرانی ڈرون حملہ ہوا جس نے رن وے کو نشانہ بنایا۔
اسٹارمر نے کہا کہ ایران کا طرزِ عمل ’’مزید لاپرواہ اور زیادہ خطرناک‘‘ ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ’’وہ بے رحمی اور دانستہ منصوبہ بندی کے تحت نہ صرف فوجی اہداف بلکہ خطے میں اقتصادی اہداف کو بھی نشانہ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں اور انہیں شہری ہلاکتوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ یہی وہ صورتحال ہے جس کا آج ہمیں سامنا ہے اور جس کا ہمیں جواب دینا ہو گا۔‘‘



