
ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق اہداف: کیا حاصل کیا جا سکتا ہے؟
’’ہمارا مقصد ایرانی حکومت کی جانب سے لاحق فوری خطرات کو ختم کر کے امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔‘‘
شامل شمس
امریکہ کی ایران کے خلاف ‘بڑی فوجی کارروائیاں‘جاری ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک خطاب میں اپنے فوجی مقاصد بیان کیے۔
جون 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ نے ایران کی اہم جوہری تنصیبات کو ”مکمل طور پر تباہ‘‘ کر دیا ہے اور اسلامی جمہوریہ مستقبل قریب میں جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں رہے گی۔لبنان میں فریڈرش ایبرٹ اشٹفٹنگ کے ماہر مارکس شنائیڈر نے کہا، ’’امریکہ ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے، جس کا مقصد اس (جوہری) پروگرام کو دوبارہ تباہ کرنا ہے، لہٰذا میرے خیال میں یہ بڑی حد تک ایک بہانہ ہے۔‘‘انہوں نے بتایا، ’’امریکی حملوں کے باعث اس وقت ایران کا جوہری پروگرام پیچھے ضرور چلا گیا تھا، کچھ کہتے ہیں چند ماہ کے لیے اور کچھ کہتے ہیں چند سال کے لیے۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مہارت کا بھی سوال ہے، یعنی اگر ایران کے پاس سینٹری فیوج بنانے اور یورینیم افزودہ کرنے کی تکنیکی مہارت موجود ہے تو اسے فضائی حملوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔‘‘اٹلی میں مقیم سکیورٹی تجزیہ کار شاہین مدرّس کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران کو اسرائیل اور امریکہ ہمیشہ ’’ناقابلِ قبول‘‘ سمجھیں گے۔مدرّس نےبتایا، ’’جوہری ہتھیار سازی کو روکنا محض پالیسی کی ترجیح نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک مقصد ہے۔‘‘جرمن انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل اینڈ ایریا اسٹڈیز سے وابستہ دیبا مرزائی اسے ’’جنگ کو جائز قرار دینے کا ایک بہانہ‘‘ قرار دیتی ہیں اور دلیل دیتی ہیں کہ ”فی الحال ایران کی جانب سے کوئی عملی خطرہ پیدا نہیں ہو رہا۔‘‘

ہدف 2: ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا مکمل خاتمہ
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اور اسرائیل تہران کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو اس کے جوہری پروگرام سے بھی بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ گزشتہ سال کی 12 روزہ جنگ میں ایران نے یہ دکھایا کہ اس کے میزائل اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
شاہین مدرّس نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’آپریشنل طور پر تنصیبات، ذخیرہ گاہیں اور ٹھوس ایندھن کی فراہمی کی زنجیریں نشانہ بنائی جا سکتی ہیں، جیسا کہ حالیہ حملوں میں میزائل سے متعلق انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر دکھایا گیا ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے مزید کہا، ’’لیکن تکنیکی مہارت کو بمباری کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ ان کے مطابق اسلامی جمہوریہ کے میزائل پروگرام کا مکمل خاتمہ ’’امکان سے بعید ہے، تاہم اس کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچانا اور طویل مدتی حد تک محدود کرنا ممکن ہے۔‘‘
مارکس شنائیڈر بھی اس سے متفق ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’’یہ ایک مقامی صنعت ہے، یعنی یہ بیلسٹک میزائل درآمد نہیں کیے جاتے۔ ایران اس پوزیشن میں ہے، جیسا کہ اس نے گزشتہ جنگ کے اختتام کے بعد ثابت بھی کیا کہ وہ انہیں خود تیار کر سکتا ہے۔ یقیناً ہتھیاروں کے ذخیرے کو تباہ کرنا ممکن ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس میں کتنا وقت لگے گا اور اس عمل کے دوران کون متاثر ہو گا۔‘‘
ہدف 3: ایران کی بحری افواج کی تباہی
مارکس شنائیڈر کے نزدیک امریکہ کے لیے ایران کی بحریہ کو تباہ کرنا اس کے میزائل پروگرام کے مقابلے میں زیادہ قابلِ عمل ہے۔ ان کا کہنا ہے، ’’فوجی اعتبار سے یہ یقیناً ممکن ہے۔ لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایران کے پاس بہت سی چھوٹی کشتیاں بھی ہیں،جنہیں اسپیڈ بوٹس کہا جاتا ہے۔ لہٰذا میرے خیال میں یہ ایسا ہدف نہیں جو ایک ہفتے میں حاصل کیا جا سکے۔‘‘
بین الاقوامی تعلقات کی محقق سارہ کرمانیان بھی اس رائے سے اتفاق کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ”امریکہ قلیل مدت میں ایران کی فعال بحری افواج کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، جس سے سمندری آمدورفت میں خلل ڈالنے کی ان کی صلاحیت نمایاں طور پر کمزور ہو جائے گی۔‘‘

ہدف 4: حکومت کا تختہ الٹنا
یہ واضح نہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی تازہ فوجی مہم کے ذریعے اس ہدف کو کیسے حاصل کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ واشنگٹن نے ایران کے اندر زمینی کارروائیاں شروع کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ تاہم ایران کے اندر فوجی اور سرکاری اہداف پر اسرائیلی اور امریکی فضائی حملوں کی اطلاعات ظاہر کرتی ہیں کہ اس مہم کا مقصد حکومت کو نمایاں طور پر کمزور کرنا ہے۔
اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا، ’’جب ہم اپنا کام مکمل کر لیں گے تو آپ اپنی حکومت سنبھال لیں۔ یہ آپ کے لیے ہو گی۔ شاید نسلوں تک یہ آپ کا واحد موقع ہو۔ کئی برسوں سے آپ نے امریکہ سے مدد مانگی، لیکن آپ کو کبھی نہیں ملی۔‘‘
مارکس شنائیڈر کا ماننا ہے کہ حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے زمینی افواج درکار ہوں گی۔ ان کے بقول، ’’یہ تصور کرنا کہ ٹرمپ صرف فضائی طاقت کے ذریعے یہ مقصد حاصل کر لیں گے اور پھر جنگ کے دوران ایرانی عوام اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس سخت گیر حکومت کے خلاف کارروائی کریں گے، میرے نزدیک کافی حد تک خیالی بات ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اگر اصل ہدف حکومت کی تبدیلی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ جنگ زیادہ طویل ہو سکتی ہے، ممکنہ طور پر کئی ماہ تک۔ اور اصل بڑا سوال حکومت کی مضبوطی اور برداشت کا ہے۔‘‘
مدرّس کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے پاسداران انقلاب کے ارکان کو استثنیٰ کی پیشکش ’’ایک روایتی حکمتِ عملی ہے، جس کا مقصد اشرافیہ کو الگ ہونے پر آمادہ کرنا اور اندرونی تقسیم کو تیز کرنا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’اگر مسلسل فوجی اور معاشی دباؤ حکومت کی ہم آہنگی کو کمزور کریں تو یہ حکمتِ عملی موثر ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم پاسداران انقلاب کی ادارہ جاتی سطح پر ہتھیار ڈالنے کی صورت صرف اسی وقت ممکن ہو گی جب نظام کی سطح پر گہرا انہدام واقع ہو۔‘‘
اگر حکومت کے خاتمے کا ہدف حاصل نہ ہوا تو کیا ہو گا؟
سارہ کرمانیان کا خیال ہے کہ اگر ایرانی حکومت کے خاتمے کا مقصد پورا نہیں ہوتا تو قلیل مدت میں شہریوں کے لیے اس کے نتائج شدید ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ایک زخمی مگر برقرار ریاست مزید سخت جبر کا راستہ اختیار کر سکتی ہے، خاص طور پر اگر اسے یہ محسوس ہو کہ معاشرے کے کچھ حصوں نے بیرونی دباؤ کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس کے بعد بہت کچھ اس بات پر منحصر ہو گا کہ آیا کشیدگی کے بعد کوئی مذاکراتی معاہدہ ہوتا ہے جو تعلقات کی نئی تشکیل کرے اور کم از کم پابندیوں میں نرمی لائے، یا پھر محاذ آرائی پابندیوں، پراکسی تنازعات اور وقفے وقفے سے حملوں کے چکروں میں جاری رہتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی تصفیہ نہ ہوا تو ایران ایک طویل اور زیادہ سخت عسکریت پسندی اور معاشی کمزوری کے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔



