مشرق وسطیٰتازہ ترین

خلیج میں کشیدگی کی نئی لہر: قطر اور متحدہ عرب امارات کا ایران پر ’’ریڈ لائنز‘‘ عبور کرنے کا الزام

دوحہ کا الزام ہے کہ ایران صرف فوجی اہداف کو نہیں بلکہ شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنا رہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

دوحہ

خلیجی خطے میں سکیورٹی صورتحال ایک بار پھر شدید تناؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ قطر کی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران کی جانب سے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے میں ’’ریڈ لائنز‘‘ عبور کر لی ہیں۔ دوحہ میں منگل کے روز پریس بریفنگ کے دوران قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ اس وقت تہران سے کوئی براہِ راست رابطہ نہیں اور حکومت اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ پر مکمل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔


100 سے زائد بیلسٹک میزائلوں کا دعویٰ

قطری حکام کے مطابق ہفتے کے روز سے اب تک ایران 100 سے زائد بیلسٹک میزائل قطر کی طرف داغ چکا ہے۔ اگرچہ بیشتر حملوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا، تاہم کئی میزائلوں اور ڈرونز کا ملبہ مختلف علاقوں میں گرا۔

قطر کا کہنا ہے کہ 39 ڈرون اور دو جنگی طیارے بھی مار گرائے گئے۔ حکام کے مطابق بعض حملے دارالحکومت دوحہ کے اہم تنصیبات کے قریب ہوئے، جبکہ حمد بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی حملوں کی زد میں آیا۔ ہوائی اڈے کی عارضی بندش کے باعث کئی بین الاقوامی پروازیں متاثر ہوئیں، تاہم حکام نے دعویٰ کیا کہ بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان سے بچا لیا گیا۔

دوحہ کا الزام ہے کہ ایران صرف فوجی اہداف کو نہیں بلکہ شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنا رہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔


امارات کی فضائی حدود میں سیکڑوں ڈرون

اسی دوران متحدہ عرب امارات نے بھی اپنی فضائی حدود میں بڑے پیمانے پر دراندازی کی تصدیق کی ہے۔ اماراتی وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق ہفتے سے اب تک 812 ڈرون اماراتی فضائی حدود میں داخل ہوئے، جن میں سے 755 کو مار گرایا گیا۔

علاوہ ازیں 186 بیلسٹک میزائل بھی امارات کی طرف داغے گئے۔ حکام کے مطابق میزائلوں کے ملبے کے گرنے سے تین افراد ہلاک اور 68 زخمی ہوئے۔ شہری دفاع کے ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اماراتی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی نے کہا کہ ان کا ملک کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا۔ ان کے بقول، ’’ہم محاذ آرائی کے دائرے کو وسیع کرنے کے خواہاں نہیں۔ مذاکرات کی میز پر واپسی ہی واحد دانش مندانہ راستہ ہے۔‘‘


خطے میں فضائی دفاع کی آزمائش

دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ حملوں نے خلیجی ریاستوں کے فضائی دفاعی نظام کی بڑی آزمائش لی ہے۔ قطر اور امارات دونوں جدید میزائل شکن نظام رکھتے ہیں، تاہم اتنی بڑی تعداد میں بیک وقت ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں کا سامنا غیر معمولی چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف توانائی تنصیبات بلکہ عالمی ہوائی اور بحری ٹریفک بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔


سفارتی رابطے منقطع، کشیدگی برقرار

قطری وزارت خارجہ کے مطابق فی الحال ایران کے ساتھ کوئی سفارتی رابطہ نہیں ہو رہا۔ خلیجی تعاون کونسل کے بعض رکن ممالک ہنگامی مشاورت میں مصروف ہیں، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے تحمل اور مذاکرات پر زور دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب تہران کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ایرانی حکام ماضی میں ایسے اقدامات کو ’’دفاعی کارروائی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔


خطے کے لیے ممکنہ مضمرات

  1. توانائی کی سپلائی خطرے میں: خلیج دنیا کی تیل و گیس رسد کا اہم مرکز ہے۔ کسی بھی بڑے تصادم سے عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔

  2. فضائی آمدورفت متاثر: دوحہ اور دبئی جیسے بڑے ٹرانزٹ مراکز میں پروازوں کی بندش عالمی سفری نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔

  3. سفارتی صف بندی: خلیجی ریاستیں ایک طرف دفاعی تیاری بڑھا رہی ہیں، تو دوسری جانب سفارتی حل کی بھی کوشش کر رہی ہیں۔


آگے کیا؟

قطر اور متحدہ عرب امارات دونوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کے تحفظ میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے، تاہم وہ کشیدگی کو وسیع علاقائی جنگ میں بدلنے سے بھی گریز چاہتے ہیں۔

موجودہ صورتحال اس سوال کو جنم دے رہی ہے کہ آیا خطہ ایک محدود فوجی تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے یا سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کی جا سکے گی۔ آئندہ چند دن اس بحران کی سمت کا تعین کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button