پاکستاناہم خبریں

سرحدی جھڑپیں، پاکستان کا 67 افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ افغان افواج نے سرحد کے جنوبی اور شمالی دونوں حصوں میں مربوط حملے کیے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق منگل کی صبح افغان افواج نے سرحدی علاقوں میں پاکستانی فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 67 افغان فوجی ہلاک جبکہ ایک پاکستانی سپاہی جان سے گیا۔ دوسری جانب کابل میں حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے الٹا پاکستان پر حملوں کا الزام عائد کیا ہے۔


پاکستان کا مؤقف: دو محاذوں پر حملے

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ افغان افواج نے سرحد کے جنوبی اور شمالی دونوں حصوں میں مربوط حملے کیے۔

جنوبی سرحد: بلوچستان میں جھڑپیں

حکام کے مطابق صوبہ بلوچستان کے اضلاع

  • قلعہ سیف اللہ

  • نوشکی

  • چمن

میں 16 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی فوج کے مطابق ان کارروائیوں میں 27 افغان فوجی ہلاک ہوئے اور متعدد حملے پسپا کر دیے گئے۔

شمالی سرحد: خیبر پختونخوا میں کشیدگی

شمالی سرحد کے ساتھ صوبہ خیبر پختونخوا میں 25 مقامات پر حملوں کی ایک اور لہر آئی، جہاں پاکستانی حکام کے مطابق 40 افغان سکیورٹی اہلکار مارے گئے۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے "دفاعی ردعمل” میں کارروائی کی اور اپنی سرحدی چوکیاں محفوظ رکھیں۔


کابل کا ردعمل: دعوے مسترد

افغانستان میں طالبان کی زیر قیادت وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے اسلام آباد کے بیانات کو "بے بنیاد” قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران افغان افواج نے پاکستانی حملوں کو پسپا کیا، ایک درجن کے قریب پاکستانی فوجی چوکیاں تباہ کیں اور چار پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا۔

کابل کا مؤقف ہے کہ سرحدی علاقوں میں کشیدگی کا آغاز پاکستان کی جانب سے کیا گیا۔


اسلام آباد کا دفاعی مؤقف

پیر کے روز پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے افغانستان کے ساتھ جاری جھڑپوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عسکری کارروائی سے قبل سفارتی سطح پر تمام ممکنہ راستے آزمائے تھے۔

ان کے مطابق پاکستان کی سرزمین پر حملوں میں ملوث گروہوں کے ٹھکانے افغان سرزمین پر موجود ہیں، اور کابل حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان عناصر کو غیر مسلح کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلام آباد اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔


پس منظر: سرحدی تنازعات اور عسکریت پسندی

پاک–افغان سرحد، جسے ڈیورنڈ لائن بھی کہا جاتا ہے، طویل عرصے سے تنازع اور عدم اعتماد کا مرکز رہی ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ کالعدم شدت پسند تنظیمیں افغان سرزمین کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتی ہیں، جبکہ طالبان حکومت اس دعوے کی تردید کرتی آئی ہے۔

حالیہ مہینوں میں سرحدی باڑ، کراسنگ پوائنٹس کی بندش اور فائرنگ کے تبادلے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ بڑھا ہے۔


انسانی اور علاقائی اثرات

  • سرحدی دیہاتوں میں رہنے والے شہری نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔

  • تجارتی سرگرمیاں، خصوصاً چمن بارڈر کے ذریعے ہونے والی تجارت، متاثر ہو رہی ہے۔

  • دونوں جانب سکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا ہے، جس سے مزید تصادم کا خدشہ موجود ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر فوری طور پر سفارتی سطح پر رابطہ بحال نہ کیا گیا تو یہ جھڑپیں وسیع تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔


آگے کا راستہ

دونوں ممالک کے بیانات میں شدید تضاد پایا جاتا ہے، جس سے زمینی حقائق کی تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔ تاہم واضح ہے کہ سرحدی کشیدگی ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

علاقائی امن کے لیے ضروری ہے کہ اسلام آباد اور کابل براہِ راست فوجی کشیدگی کم کرنے اور اعتماد سازی کے اقدامات پر غور کریں، ورنہ سرحدی جھڑپیں پورے خطے کے استحکام کو متاثر کر سکتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button