
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی ،سیکورٹی ذرائع کے ساتھ
دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور قبائلی اضلاع میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پاک فوج کی جانب سے جاری آپریشن “غضب للحق” کے تحت شمالی وزیرستان اور پاک افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں اہم اور فیصلہ کن کارروائیاں جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کا مقصد سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنا، دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنا اور پاکستان کی سرحدی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران دہشت گرد عناصر، ان کے سہولت کاروں اور سرحد پار سے انہیں فراہم کی جانے والی مدد کے خلاف بھرپور اور منظم کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان کارروائیوں میں جدید انٹیلی جنس معلومات، زمینی نگرانی اور جدید عسکری حکمت عملی کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو مؤثر انداز میں ختم کیا جا سکے۔
انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائی شمالی وزیرستان کے حساس علاقے شوال سے ملحقہ پاک افغان سرحدی پٹی میں کی گئی جہاں ایک چوکی کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اس مقام سے مبینہ طور پر دہشت گرد عناصر کو سہولت فراہم کی جا رہی تھی اور اسے سرحد پار سے دراندازی اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
پاک فوج نے کارروائی کے دوران انتہائی درست نشانہ بندی اور پیشہ ورانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے مذکورہ چوکی کو کامیابی سے تباہ کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے دہشت گرد نیٹ ورک کو بڑا دھچکا پہنچا ہے اور سرحد پار سے دہشت گردی کے امکانات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ذرائع کے مطابق اس کارروائی کا بنیادی مقصد پاکستان کے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو یقینی بنانا اور ایسے عناصر کا خاتمہ کرنا ہے جو سرحد پار سے دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروپوں کی موجودگی پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں کے دوران شمالی وزیرستان اور دیگر قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان واقعات میں سرحد پار سے دراندازی، دہشت گردوں کو لاجسٹک سپورٹ اور مختلف حملوں کی منصوبہ بندی شامل رہی ہے۔ ان خطرات کے پیش نظر پاک فوج نے سرحدی علاقوں میں نگرانی، گشت اور کارروائیوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق آپریشن غضب للحق ایک وسیع اور مرحلہ وار عسکری حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت دہشت گردی کے تمام نیٹ ورکس، ان کے ٹھکانے، اسلحہ ڈپو اور سہولت کاروں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس آپریشن میں زمینی دستوں کے ساتھ ساتھ فضائی نگرانی اور جدید ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران مقامی آبادی کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے اور تمام کارروائیاں انتہائی احتیاط، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ پاک افغان سرحد پر قائم باڑ اور سیکیورٹی انفراسٹرکچر کو بھی مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی دراندازی کو روکا جا سکے۔
دفاعی مبصرین کے مطابق شمالی وزیرستان، خاص طور پر شوال اور اس سے ملحقہ پہاڑی علاقے ماضی میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران پاک فوج کے مسلسل آپریشنز اور سرحدی نگرانی کے سخت اقدامات کے باعث دہشت گرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ آپریشن غضب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس کے تمام مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہو جاتے اور سرحدی علاقوں سے دہشت گردی کے خطرات کا مستقل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
حکام کے مطابق پاکستان اپنی سرزمین، عوام اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا اور کسی بھی قسم کی دہشت گردی، دراندازی یا ملک کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔



