پاکستاناہم خبریں

آپریشن غضب للحق: فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے خلاف کارروائیاں تیز، بھاری نقصانات کی اطلاعات

کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کی 243 چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئیں جبکہ 42 پوسٹس کو قبضے میں لے لیا گیا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان.وائس آف جرمنی اردو نیوز، سیکورٹی فورسز کے ساتھ

پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گرد عناصر کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مزید تیز کرتے ہوئے آپریشن “غضب للحق” کے تحت فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کا مقصد سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو ختم کرنا، سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانا اور پاکستان میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

دہشت گردوں کو بھاری جانی و مالی نقصان

آپریشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 641 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 855 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے اور ان کے جنگی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

چیک پوسٹوں اور عسکری تنصیبات پر ضرب

کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کی 243 چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئیں جبکہ 42 پوسٹس کو قبضے میں لے لیا گیا۔ ان کارروائیوں سے دہشت گردوں کے کنٹرول اور نقل و حرکت کے اہم راستوں کو ختم کرنے میں مدد ملی ہے۔

بھاری ہتھیار اور عسکری سازوسامان تباہ

سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد گروہوں کے زیر استعمال بھاری ہتھیاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ کارروائیوں میں 219 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے تباہ کیے گئے، جس سے دہشت گردوں کی جنگی صلاحیت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

فضائیہ کی مؤثر کارروائیاں

رپورٹ کے مطابق پاکستان ایئر فورس نے بھی آپریشن میں کلیدی کردار ادا کیا۔ فضائی کارروائیوں کے دوران افغانستان بھر میں دہشت گردوں اور ان کے معاونت کے 65 ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں دہشت گردوں کے تربیتی مراکز، اسلحہ ڈپو اور لاجسٹک سپورٹ مراکز شامل تھے۔

سکیورٹی ذرائع کا مؤقف

سکیورٹی حکام کے مطابق آپریشن “غضب للحق” دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد دہشت گرد گروہوں کی تنظیمی صلاحیت کو ختم کرنا اور سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو بحال کرنا ہے۔

خطے کی سکیورٹی صورتحال

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیاں خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف مسلسل آپریشنز کر رہی ہیں تاکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

حکام کے مطابق آپریشن کی پیش رفت سے متعلق مزید اپڈیٹس وقتاً فوقتاً جاری کی جائیں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button