
ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
اسلام آباد: پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے ایک مشکوک ڈرون کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکارہ بنا کر مار گرایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون مقامی ساخت کا معلوم ہوتا ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس کے افغانستان کی جانب سے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جمعہ کی شام اسلام آباد اور راوالپنڈی کے سنگم پر واقع علاقےفیض آباد انٹر چینج کے قریب فضا میں ایک مشکوک ڈرون کی موجودگی کی اطلاع ملی۔ صورتحال کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈرون کو نشانہ بنایا اور اسے ناکارہ بنا کر گرا دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق ڈرون کو نشانہ بنائے جانے کے بعد فضا میں ایک زور دار دھماکے کی آواز بھی سنائی دی جس کے بعد علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ حکام کے مطابق ڈرون گرنے کے بعد علاقے کو کلیئر کر دیا گیا اور مزید کسی خطرے کے شواہد نہیں ملے۔
واقعے کے فوراً بعد احتیاطی تدابیر کے طور پراسلام آباد انٹرنیشنل ائر پورٹ پر پروازوں کی آمد و رفت کو کچھ دیر کے لیے عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔ تاہم سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن دوبارہ معمول کے مطابق بحال کر دیا گیا۔
اس حوالے سے پاکستان ائر پورٹس اتھارٹی کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشنل وجوہات کی بنا پر کچھ وقت کے لیے فلائٹ آپریشن میں معمولی ایڈجسٹمنٹ کی گئی تھی۔ ترجمان کے مطابق اب ایئرپورٹ پر تمام پروازیں معمول کے مطابق آپریٹ ہو رہی ہیں اور مسافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی پروازوں کی تازہ معلومات کے لیے متعلقہ ایئر لائنز سے رابطہ کریں۔
دوسری جانب جب اس معاملے پر اسلام آباد پولیس کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ڈرون گرنے کے واقعے سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں اور مکمل تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پاکستان اورافغانستان کے درمیان گزشتہ تین ہفتوں سے سرحدی کشیدگی جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ روز پاکستان ائر فورس نے افغانستان کے مختلف شہروں میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا، جبکہ افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کے خلاف ڈرون حملوں کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
یاد رہے کہ رواں برس فروری 2026 میں بھی افغانستان کی جانب سے پاکستانی علاقوں کی سمت چند ڈرونز بھیجے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جنہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مار گرایا تھا۔
حکام کے مطابق سیکیورٹی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ وفاقی دارالحکومت اور ملک کے دیگر حساس علاقوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔



