
ژینس تھوراؤ
انہوں نے کہا، ”جوہری توانائی قابل اعتماد بھی ہے، پیداواری لاگت کے لحاظ سے مقابلتاﹰ کم قیمت بھی اور اس کی وجہ سے فضا میں شامل ہونے والی سبز مکانی گیسیں بھی کم خارج ہوتی ہیں۔‘‘
یورپی کمیشن کی صدر فان ڈئر لاین، جن کا تعلق جرمنی سے ہے، کے ان الفاظ کی گونج جرمنی میں بھی واضح طور پر سنائی دی، جس نے اپنے ہاں کام کرنے والا آخری جوہری بجلی گھر بھی 2023ء میں بند کر دیا تھا۔
فان ڈئر لاین کی ذات کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ ان کے والد ارنسٹ البریشٹ بھی اپنی بیٹی کی طرح جرمنی کی مرکز سے دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی قدامت پسند سیاسی جماعت، کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کے رکن تھے، جو 1970ء کی دہائی میں وفاقی جرمن صوبے لوئر سیکسنی میں سربراہ حکومت تھے اور جوہری توانائی کے پرامن شہری مقاصد کے لیے استعمال کے بہت بڑے حامی بھی تھے۔

لیکن خود ارنسٹ البریشٹ بھی صوبائی سربراہ حکومت ہونے کے باوجود اپنی ان کوششوں میں ناکام رہے تھے، جن کے تحت وہ وفاقی ریاست لوئر سیکسنی کے مشرق میں ایک ایسی محفوظ ذخیرہ گاہ تعمیر کیے جانے کے خواہش مند تھے، جہاں استعمال شدہ لیکن تابکار جوہری فاضل مادوں کو انتہائی طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکے۔ نیوکلیئر ویسٹ کی یہ مجوزہ ذخیرہ گاہ بعد میں بھی کبھی تعمیر نہیں کی جا سکی تھی۔
جرمنی میں اب کوئی جوہری بجلی گھر نہیں
جرمنی میں 2023ء سے کوئی ایک بھی جوہری بجلی گھر نہیں جو ابھی تک کام کر رہا ہو۔ لیکن فرانس میں نیوکلیئر سمٹ سے اپنے خطاب میں یورپی کمیشن کی صدر فان ڈئر لاین نے جتنی شدت سے ایٹمی توانائی کے شہری استعمال کے یورپ بھر میں احیا کی حمایت کی، اس پر برلن میں کافی ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا۔
1961ء کے بعد سے وفاقی جمہوریہ جرمنی میں جوہری توانائی کے استعمال کے عروج کے زمانے تک مجموعی طور پر 37 ایسے نیوکلیئر ری ایکٹرز تھے، جو بجلی پیدا کرتے اور ملکی ضروریات کا تقریباﹰ 30 فیصد تک پور اکرتے تھے۔

اب لیکن جرمنی میں نیوکلیئر پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار چند برسوں سے بالکل صفر ہو چکی ہے۔ جہاں تک یورپی یونین کے اس سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں ایٹمی بجلی گھروں کے استعمال کی بحالی کے امکان کا تعلق ہے، تو اس بارے میں سی ڈی یو نامی سیاسی پارٹی ہی سے تعلق رکھنے والے وفاقی چانسلر فریڈرش میرس کا یہ تازہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ وفاقی حکومتوں نے نیوکلیئر پاور پلانٹ بند اور پھر بالکل ختم کر دینے کے جو فیصلے کیے تھے، اس عمل کی تنسیخ اور جوہری بجلی گھروں کا دوبارہ استعمال اب ممکن نہیں ہیں۔
چانسلر میرس نے کہا، ”اب جو صورت حال ہے، وہ ہے اور ہم اب اپنی اس انرجی پالیسی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، جو ہم نے اپنا رکھی ہے۔‘‘
یہی نہیں بلکہ موجودہ وفاقی حکومت میں شامل سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی بھی اس امر کے خلاف ہے کہ جرمنی میں دوبارہ کوئی نئے جوہری بجلی گھر تعمیر کیے جانا چاہییں۔

فرانس کی قیادت میں یورپی سطح پر جوہری اتحاد
یورپی یونین میں کئی رکن ممالک ابھی تک اپنے ہاں نیوکلیئر پاور پلانٹ چلا رہے ہیں جبکہ کئی ممالک ایسے بجلی گھروں کا استعمال مستقل ترک کر چکے ہیں۔
فرانس ایک ایسا ملک ہےجو اپنے ہاں ابھی تک مجموعی طور پر 57 ایٹمی ری ایکٹر بجلی کی پیداوار کے لیے چلاتا ہے اور اس نے یورپی یونین کے رکن 27 میں سے 15 ممالک پر مشتمل ایک ایسا گروپ بھی قائم کر رکھا ہے جو غیر رسمی طور پر ایک جوہری اتحاد کہلاتا ہے۔
لیکن اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ پوری یورپی یونین میں آئندہ نئے ایٹمی بجلی گھر تعمیر کرنے سے متعلق کوئی اتفاق رائے ہو سکے گا۔ اس بلاک کے رکن دیگر ممالک آئندہ اپنے اپنے جو بھی فیصلے کریں، جرمنی کا اب ایٹمی توانائی کے سویلین استعمال کی طرف واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔



