بین الاقوامیاہم خبریں

فرانس نے ہندوستان کی درخواست کو مسترد کر دیا: IAF کو ڈیسالٹ رافیل کے سافٹ ویئر رسائی کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ، ماخذ ڈیفنس سیکیورٹی ایشیا

یہ ایک حساس معاملہ ہے اور اس میں بین الاقوامی تحفظات اور تجارتی رازداری کے مسائل شامل ہیں۔

By www.vogurdunews.de

پیرس: فرانس نے ہندوستان کی درخواست کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں بھارتی فضائیہ  نے ڈیسالٹ رافیل فائٹر جیٹس کے سافٹ ویئر کے کلیدی اجزاء، بشمول سورس کوڈ تک رسائی کی خواہش ظاہر کی تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب ہندوستان اپنے جدید دفاعی ہتھیاروں جیسے Astra BVR اور BrahMos کروز میزائلوں کو رافیل طیاروں میں ضم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

فرانس کی جانب سے اس درخواست کے مسترد ہونے کے بعد بھارت کو رافیل جیٹس کے ریڈار، مشن کمپیوٹر، اور الیکٹرانک وارفیئر (EW) سسٹمز جیسے اہم اجزاء پر کام کرنے کے لیے فرانسیسی حکام کی منظوری کا انتظار کرنا پڑے گا، حتیٰ کہ بھارت 114 نئے رافیل طیارے خریدنے کے بعد ان کی تعیناتی اور استعمال کے لیے تیار ہو جائے گا۔

رافیل طیارے اور بھارت کا دفاعی پروگرام

بھارت نے فرانس سے 2016 میں 36 رافیل طیارے خریدنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد 2019 میں پہلا رافیل طیارہ بھارتی فضائیہ کو موصول ہوا۔ اس کے بعد، بھارت نے مزید 114 رافیل طیارے خریدنے کے لیے معاہدے کی بات چیت کا آغاز کیا۔ بھارت کی یہ خواہش تھی کہ وہ اپنے ملک میں ان طیاروں کے سافٹ ویئر اور دیگر اہم دفاعی اجزاء پر مکمل کنٹرول حاصل کرے تاکہ ان طیاروں کو بھارت کے اپنے ہتھیاروں، جیسے Astra بی وی آر (Beyond Visual Range) میزائل اور BrahMos کروز میزائل کے ساتھ یکجا کر سکے۔

Astra BVR ایک بھارتی ساختہ بی وی آر میزائل ہے جو دشمن کے طیاروں کو دور سے ہٹانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جب کہ BrahMos دنیا کے سب سے تیز رفتار کروز میزائلوں میں سے ایک ہے۔ ان میزائلوں کی رافیل طیاروں میں انضمام سے بھارت کی فضائی طاقت میں مزید اضافہ ہوتا اور یہ طیارے ہندوستانی دفاعی حکمت عملی کا ایک اہم جزو بن سکتے تھے۔

فرانس کا ردعمل: حساسیت اور حکومتی تحفظات

فرانس نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ رافیل کے سافٹ ویئر سورس کوڈ تک بھارت کی رسائی ممکن نہیں ہو سکتی۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور اس میں بین الاقوامی تحفظات اور تجارتی رازداری کے مسائل شامل ہیں۔

فرانس کی دفاعی کمپنی ڈیسالٹ ایوی ایشن، جو رافیل طیارے تیار کرتی ہے، نے وضاحت کی کہ طیارے کے سافٹ ویئر اور دوسرے اہم سسٹمز کا سورس کوڈ صرف فرانسیسی حکام کی نگرانی میں ہی فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ان سسٹمز میں ریڈار، مشن کمپیوٹر، اور الیکٹرانک وارفیئر (EW) سویٹ جیسے انتہائی اہم اجزاء شامل ہیں جنہیں کسی بھی حالت میں مقامی سطح پر تبدیل یا اپ ڈیٹ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ فیصلہ فرانس کے لیے ایک اہم اقدام ہے کیونکہ یہ اس کی دفاعی صنعت کی حفاظت اور عالمی سطح پر اس کے تجارتی مفادات کو بھی یقینی بناتا ہے۔ فرانس اور بھارت کے درمیان دفاعی تعلقات ہمیشہ سے مضبوط رہے ہیں، لیکن یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان ایک پیچیدہ نقطہ بن گیا ہے۔

ہندوستان کی حکمت عملی اور ردعمل

بھارت کے لیے یہ انکار ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ وہ اپنے دفاعی سسٹمز کو خودکفیل بنانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ ہندوستانی حکام نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ وہ فرانس سے بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔

بھارتی وزارت دفاع نے اس سلسلے میں ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے: "ہم فرانسیسی حکام سے اس فیصلے پر مزید بات چیت کریں گے تاکہ رافیل طیاروں میں ہمارے مقامی دفاعی سسٹمز کی یکجائی کو ممکن بنایا جا سکے۔ بھارت اپنی فضائی طاقت کو مزید مضبوط کرنے کے لیے عالمی سطح پر جدید ٹیکنالوجیز اور دفاعی شراکت داری کو اہمیت دیتا ہے۔”

ہندوستانی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا مقصد اپنی خودمختاری کو یقینی بنانا ہے اور اس کے لیے ملک میں تیار کردہ سسٹمز کو عالمی معیار کے طیاروں میں ضم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ اس سے نہ صرف بھارت کی فضائی طاقت میں اضافہ ہوتا بلکہ دفاعی صنعت کی خودکفالت کے لیے بھی ایک اہم قدم ہوگا۔

دفاعی معاہدے اور مستقبل کی توقعات

فرانس کی جانب سے سورس کوڈ تک رسائی کے انکار کا یہ فیصلہ دو ممالک کے دفاعی تعلقات کو ایک نیا موڑ دے سکتا ہے۔ فرانس اور بھارت کے درمیان یہ تعلقات تجارتی اور تکنیکی سطح پر ہمیشہ سے مضبوط رہے ہیں، اور اس وقت دونوں ممالک دفاعی معاہدوں کے تحت مختلف پروگراموں پر کام کر رہے ہیں۔

مستقبل میں، یہ سوالات اٹھ سکتے ہیں کہ آیا بھارت مزید دفاعی معاہدوں میں شامل ہو گا اور فرانسیسی کمپنیوں سے دیگر ٹیکنالوجیز حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ ہندوستان کی دفاعی حکمت عملی میں یہ ایک سنگین مسئلہ بن سکتا ہے کیونکہ ملک نے خودکفالت کی کوششوں میں اضافہ کیا ہے اور اپنی جدید دفاعی صنعت کو مستحکم کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔

نتیجہ

فرانس کی جانب سے بھارت کی درخواست کو مسترد کرنا ایک اہم دفاعی فیصلہ ہے جس کا اثر دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات اور عالمی سطح پر دفاعی حکمت عملی پر پڑے گا۔ اس کے باوجود، بھارت اپنی دفاعی خودکفالت کو یقینی بنانے کے لیے فرانس کے ساتھ مزید بات چیت جاری رکھے گا۔ اس بات کا امکان ہے کہ بھارت اپنے دفاعی نظام کو مزید خودمختار بنانے کے لیے دیگر ممالک سے بھی سافٹ ویئر اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے بارے میں بات کرے گا، تاکہ عالمی سطح پر مضبوط اور مؤثر دفاعی نظام قائم کیا جا سکے۔

یہ انکار اس بات کا بھی عکاس ہے کہ عالمی سطح پر دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی ہمیشہ تجارتی، تکنیکی اور حکومتی تحفظات کے زیر اثر ہوتی ہے، اور اس سے ممالک کو اپنے دفاعی مفادات کی حفاظت کے لیے توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button