
پاکستان اور افغانستان کے حکام کی چین کی ثالثی میں ارمچی میں ملاقات: دہشت گردی کے خلاف کارروائی پر پاکستان کا اصرار
چین نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی کے باوجود اپنے خصوصی نمائندے کے ذریعے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ وہ ان تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک ضامن کے طور پر کام کرے گا۔
By www.vogurdunews.de
پاکستان اور افغانستان کے حکام نے بدھ کے روز چین کے شہر ارمچی میں ایک اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی پر بات چیت کی گئی۔ یہ ملاقات چین کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کا حصہ تھی، جنہوں نے اس تنازع کو حل کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا تھا، حالانکہ ماضی میں 18 مذاکراتی دور ناکام ہو چکے ہیں۔
چینی حکام نے اس ملاقات کو امن کے قیام کی کوششوں کا ایک حصہ قرار دیا ہے، جس میں پاکستان نے واضح طور پر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے کے اپنے بنیادی مطالبے کو دوبارہ دہرایا۔ ذرائع کے مطابق، پاکستان اس بات پر زور دے رہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ پاکستان کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف موثر اقدامات کے بغیر کوئی پائیدار امن ممکن نہیں۔
مذاکرات کا پس منظر: ناکام دور
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں کشیدہ ہوئے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کی بات کی، جو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں میں متعدد مذاکراتی دور ہوئے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں رہا۔ ان مذاکرات میں مختلف اسلامی ممالک جیسے سعودی عرب، ترکی، اور مصر نے بھی ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی، مگر یہ تمام کوششیں ناکام ہو چکیں۔
چین نے اس سلسلے میں اب خود کو ایک ثالث کے طور پر پیش کیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اس نے ایک نیا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ چین نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی کے باوجود اپنے خصوصی نمائندے کے ذریعے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ وہ ان تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک ضامن کے طور پر کام کرے گا۔
افغان وفد اور پاکستان کی تیاریاں
افغان ذرائع کے مطابق، چین کی ثالثی میں ہونے والی اس ملاقات میں افغان حکام کی چھ رکنی ٹیم نے شرکت کی، جس میں افغانستان کے دفتر خارجہ کے اہم عہدیدار محب اللہ وثیق اور عبدالحئی قنیت، وزارت دفاع کے روح اللہ عمر، جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (GDI) کے یحییٰ تکل، افغانستان کی قومی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی ایجنسی کے اہلکار، اور وزارت داخلہ کے عارف اللہ شامل تھے۔ یہ وفد اس ملاقات کے لیے پہلے ہی بدھ کو چین روانہ ہو چکا تھا۔
پاکستان نے ابھی تک اپنے وفد کے اراکین کے نام ظاہر نہیں کیے ہیں، کیونکہ اس ملاقات کو شروع میں تکنیکی سطح پر رکھا جائے گا اور اگر بات چیت اعلیٰ سطح تک پہنچتی ہے، تو پاکستان اپنا خصوصی نمائندہ بھی شامل کرے گا۔ پاکستانی حکام نے اس ملاقات کو انتہائی اہمیت دی ہے، کیونکہ اس میں پاکستان کے دفاعی اور انٹیلی جنس سروسز کے اہلکار بھی شامل ہوں گے، جن کی قیادت اسد گیلانی کریں گے، جو چین کے شہر بیجنگ میں پہلے ہی موجود ہیں۔
مذاکرات کا مقصد اور چین کا کردار
پاکستان کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ ایک سنگین مسئلہ رہا ہے، جس پر افغان طالبان حکومت نے واضح طور پر موقف اختیار کیا ہے کہ وہ پاکستان کے مطالبات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی جانب سے پاکستان کے فوجی آپریشنز اور فضائی حملوں پر اعتراضات سامنے آ چکے ہیں، جنہیں افغان حکومت نے "افغان سرزمین کی خلاف ورزی” قرار دیا۔
چین نے اس ملاقات کے دوران ایک اور اہم درخواست کی تھی کہ دونوں فریقین اس وقت تک جارحانہ میڈیا بیانات سے گریز کریں جب تک مذاکرات کا عمل منطقی انجام تک نہ پہنچ جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس کے بعد پاکستان نے افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو دوبارہ شروع کیا ہے، جسے افغان فریق کی یقین دہانی کے بعد ممکن بنایا گیا۔
پاکستانی حکام کی توقعات اور افغان ردعمل
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ چین کی ثالثی کا عمل ایک مثبت قدم ہے، اور پاکستان کو یقین ہے کہ چین کی مداخلت کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔ جنرل آر انعام یوسفزئی نے ایکسپریس ٹریبیون سے بات کرتے ہوئے کہا: "چین ایک برادر ملک ہے، اور ہم بیجنگ کی جانب سے اس طرح کے مثبت ردعمل کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن گیند افغان حکومت کے کورٹ میں ہے۔ اگر وہ حقیقت میں دانشمندی سے کام لیں تو ہمیں کسی بیرونی ثالث کی ضرورت نہیں ہوگی۔”
جنرل یوسفزئی نے مزید کہا کہ اگرچہ چین کے اقدام کو اہمیت دی جا رہی ہے، انہیں اس بات پر شک ہے کہ افغان حکومت اس ثالثی کو سنجیدگی سے لے گی، کیونکہ ان کے خیال میں افغان حکومت کے رویے میں زیادہ تعاون کا امکان کم ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی موجودہ صورتحال
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اس وقت انتہائی نچلی سطح پر ہیں۔ حالیہ برسوں میں، دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں شدت آئی ہے، خاص طور پر آپریشن غضب للحق کے بعد، جو فروری میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر تازہ جھڑپوں کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ افغانستان کے طالبان فورسز کی طرف سے متعدد مقامات پر فائرنگ اور پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہو گئے۔
ان جھڑپوں کے بعد، دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے ہیں اور سرحدی حدود میں مزید سختی بڑھا دی ہے۔ افغانستان کے لیے چین کے خصوصی ایلچی یو شیاؤونگ نے 8 مارچ کو کابل کا دورہ کیا اور طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی سے دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت کی۔
نتیجہ: چین کی ثالثی اور مستقبل کی امیدیں
اس وقت، دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی اپنی انتہا پر پہنچ چکی ہے، اور چین کی ثالثی کو ایک نئی امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی، سرحدی مسائل، اور افغان مہاجرین کی واپسی کے معاملات پر بات چیت کی ضرورت ہے، اور چین نے اس کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔
ماضی کے ناکام مذاکرات کے باوجود، چین کی مداخلت ایک نیا موقع فراہم کر سکتی ہے جس سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعے کا حل نکل سکتا ہے، بشرطیکہ دونوں فریقین کی طرف سے سنجیدہ ارادے ہوں۔ تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا چین واقعی اس پیچیدہ تنازعے کو حل کرنے میں کامیاب ہو سکے گا یا نہیں۔



