
لندن / واشنگٹن: فنانشل ٹائمز کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر یقینی خارجہ پالیسی اور برطانوی اپوزیشن رہنما کیئر اسٹارمر پر مسلسل تنقید کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط قریبی تعلقات میں دراڑیں پڑتی نظر آ رہی ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔
یہ رپورٹ دونوں ممالک کے درمیان جاری تناؤ کی تفصیلات فراہم کرتی ہے اور اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ کس طرح امریکی خارجہ پالیسی کی تبدیلیاں اور برطانیہ کی سیاسی صورتحال نے تاریخی تعلقات میں اختلافات کو جنم دیا ہے۔
امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات میں اب تک کا تناؤ
امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات تاریخ کے بیشتر حصے میں انتہائی مضبوط اور قریبی رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے عالمی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا، خاص طور پر جنگوں، تجارتی معاہدوں اور بین الاقوامی فورمز میں۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ "خصوصی تعلقات” ماضی میں ایک کامیاب سفارتکاری اور حکمت عملی کے طور پر سمجھے جاتے تھے۔
لیکن اب، دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح تناؤ اور عدم اعتماد کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔ برطانوی حکومت میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ امریکہ جیسے دیرینہ اتحادی پر اب پہلے جیسا بھروسہ نہیں رہا۔ امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع اور اکثر غیر روایتی خارجہ پالیسیوں نے اس کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
گرین لینڈ اور یورپی سیاست میں مداخلت: امریکہ کی جانب سے غیر متوقع بیانات
ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں سب سے زیادہ تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب 2019 میں انہوں نے گرین لینڈ کو خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ گرین لینڈ، جو ڈنمارک کا حصہ ہے، اس تجویز کے بعد عالمی سطح پر ایک مذاق بن گیا، اور اس پر مختلف ممالک نے تنقید کی۔ برطانیہ نے بھی اس پر حیرت کا اظہار کیا اور اسے غیر ضروری اور غیر سنجیدہ اقدام سمجھا۔
اس کے علاوہ، امریکہ کی یورپی سیاست میں مداخلت کی خواہش نے بھی برطانوی حکومت کو تشویش میں مبتلا کیا۔ خاص طور پر 2016 کے بریگزٹ ریفرنڈم کے دوران، ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے کی قیادت پر کھل کر تنقید کی اور برطانوی عوام کو مشورہ دیا کہ وہ یورپی یونین سے مکمل طور پر نکل جائیں۔ برطانوی حکومت نے اس مداخلت کو ناپسند کیا اور اسے اپنے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت کے طور پر دیکھا۔
اس کے بعد، امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں برطانیہ کی عدم شمولیت پر بھی ٹرمپ نے ردعمل دیا۔ جب برطانیہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیا، تو ٹرمپ نے برطانوی حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ "برطانیہ کا موقف قابل فہم نہیں ہے۔” اس موقف سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید تلخی آئی۔
کیئر اسٹارمر پر مسلسل تنقید
کیئر اسٹارمر، جو برطانیہ کے اپوزیشن پارٹی لیبر پارٹی کے رہنما ہیں، کو بھی ٹرمپ کی جانب سے مسلسل تنقید کا سامنا ہے۔ ٹرمپ نے اسٹارمر کی قیادت پر شک کا اظہار کیا ہے اور انہیں "کمزور” اور "غیر موثر” قرار دیا ہے۔ اس تنقید کا مقصد نہ صرف اسٹارمر کو سیاسی طور پر ہزیمت میں ڈالنا تھا، بلکہ یہ برطانوی سیاست میں ایک پیغام بھی تھا کہ ٹرمپ امریکہ کے اتحادیوں کے ساتھ صرف وہی تعلقات چاہتے ہیں جو ان کے مفادات کے مطابق ہوں۔
اس تنقید کا اثر برطانیہ کی سیاسی فضا پر بھی پڑا ہے، خاص طور پر اس وقت جب اسٹارمر نے امریکہ کی خارجہ پالیسی پر مختلف اختلافات کا اظہار کیا تھا۔ ان اختلافات نے برطانوی سیاستدانوں میں امریکی حکمت عملی کے بارے میں تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکی ردعمل اور برطانیہ کے سرکاری دفاتر کی تشویش
برطانوی حکام کی جانب سے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ امریکہ کی موجودہ قیادت کی جانب سے کیے جانے والے غیر متوقع اقدامات اور بیانات نے اس تاریخی تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ برطانوی دفتر خارجہ اور دیگر سرکاری دفاتر میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ آیا امریکہ کی جانب سے اس طرح کی خارجہ پالیسی کو سامنے رکھتے ہوئے برطانیہ کو اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
ایران کے حوالے سے بھی برطانیہ کا موقف مختلف رہا ہے۔ برطانیہ نے امریکہ کے ساتھ ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل ہونے کی بجائے ایک سفارتی راستہ اپنانا پسند کیا تھا، جس پر امریکہ نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ اس موقف نے برطانیہ کے اندر امریکہ کے بارے میں بڑھتی ہوئی مایوسی کو مزید بڑھا دیا۔
امریکہ کی خارجہ پالیسی کا اثر
ٹرمپ کی غیر روایتی اور اکثر متنازعہ خارجہ پالیسیوں نے نہ صرف برطانوی حکام کو مایوس کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی امریکہ کے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ ٹرمپ کی اس طرز سیاست میں اسٹریٹجک وضاحت کی کمی اور غیر متوقع فیصلے برطانوی حکام کے لیے ایک سنگین چیلنج بن گئے ہیں۔
ٹرمپ نے کبھی بھی عالمی اتحادوں کی اہمیت کو تسلیم نہیں کیا، اور وہ اپنے مفادات کے تحت امریکہ کی قیادت میں تبدیلی لانے کے خواہشمند رہے ہیں۔ ان کی جانب سے نیٹو کے حوالے سے کھل کر ناپسندیدگی کا اظہار اور عالمی تجارتی تنظیموں کے ساتھ تعلقات میں تناؤ نے برطانیہ کے لیے ایک سنگین سفارتی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
نتیجہ: دونوں ممالک کے تعلقات میں مستقبل کا راستہ
امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات میں دراڑیں آنا ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری اس قریبی تعلقات میں سیاسی اختلافات اور پالیسی کی تبدیلیاں ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہیں۔
برطانیہ کے سرکاری دفاتر میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ آیا امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو برقرار رکھا جائے یا اس کی پالیسیوں میں تبدیلی کے اثرات کو نظر انداز کیا جائے۔ خاص طور پر ایران، گرین لینڈ اور یورپی سیاست میں امریکہ کی مداخلت جیسے مسائل برطانیہ کے لیے ایک چیلنج بن چکے ہیں۔
اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کچھ مسائل درپیش ہیں، لیکن یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کی تاریخی دوستی اب بھی ایک مضبوط بنیاد پر قائم ہے۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ ان تعلقات میں مزید پیچیدگیاں آ سکتی ہیں، اور برطانیہ کو اپنے عالمی تعلقات میں ایک نیا توازن قائم کرنے کی ضرورت ہو گی۔
یقیناً، دونوں ممالک کے تعلقات کی نوعیت اور ان کی خارجہ پالیسی کی سمت کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ مستقبل میں امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات کس رخ پر جائیں گے، لیکن موجودہ صورتحال نے واضح طور پر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے بحران کو جنم دیا ہے۔


