
سوچ بدلے گی تو عوام کے دن پھر جائیں گے !……..ناصف اعوان
رمضان کے مہینہ میں انتظامی اداروں کی کارکردگی بہتر رہی انہوں نے سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی نہیں ہونے دی جس کسی نے بھی کی اسے چند روز کے لئے اپنی دکان پر تالا دیکھنا پڑا
زندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل اور پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے کیونکہ بے روزگاری ناانصافی اور مہنگائی کسی آکاس بیل کی طرح بڑھتے چلے جا رہے ہیں اگرچہ حکومت اپنی تئیں اقدامات بھی کرتی ہوئی نظر آتی ہے مگر اسے کامیابی موہوم سی ہی حاصل ہو رہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا نظام عدل مصلحت کا شکار ہو چکا ہے ذرائع پیداوار میں کمی آچکی ہے اور مافیاز طاقتور ہو چکے ہیں لہذا جب تک نظام حیات تبدیل نہیں کر دیا جاتا مسائل حل نہیں ہو سکتے لہذا یہ جو محکموں کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس میں کامیابی ممکن نہیں ۔ وقتی طور سے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ کر عوام کو مطمئن تو کیا سکتا ہے مگر اس کا کیا فائدہ کیونکہ جتنے بھی عارضی پروگرام بنائے جاتے ہیں ان کے لئے بنیادی باتوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ پھر ان کے لئے جو سرمایہ چاہیے ہوتا ہے اسے عالمی اداروں سے بطور قرضہ لیا جاتا ہے اور وہ قرضہ اتنا لیا جا چکا ہے کہ جسے اتارنا مشکل بلکہ ناممکن ہو سکتا ہے؟ باوجود اس کے کہ حکومت ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری کا آغاز ہو مگر فی الحال یہ راستہ مسدود دکھائی دیتا ہے کیونکہ سیاسی عدم استحکام سے بیرونی سرمایہ کاروں کو ماحول پُر سکون چاہیے ہوتا ہے مگر ایسا کچھ نہیں لہذا حکومت کے مشیر اور آئی ایم ایف کے کرتا دھرتا ٹیکس اکٹھا کرنے کے لئے طرح طرح کے فارمولے بتا رہے ہیں جس سے غریب عوام کی سانسیں بے ترتیب ہو رہی ہیں ۔ ان کے آمدنی کے ذرائع بڑھنے کے بجائے سکڑ رہے ہیں ۔ صنعتوں کو اٹھہتر برس کے بعد قطار در قطار نظر آنا چاہیے تھا مگر پہلے والی بھی دیگر ممالک میں جا رہی ہیں کہ انہیں حکومتی محکمے نت کوئی نہ کوئی قانون پڑھا دیتے ہیں جس سے ٹیکسوں کی گویا بھر مار ہو جاتی ہے لہذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہمارا نظام تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے جسے دانستہ نہیں بدلا جا رہا کہ چند لوگ اس خوف میں مبتلا ہیں کہ اگر لوگوں نے بے فکر ہو کر سوچنا شروع کر دیا تو وہ حق حکمرانی کا بھی اعلان کر سکتے ہیں لہذا ان کو مسائل اور قسم قسم کے استحصالی قوانین کی زد میں الجھایا جائے ۔ اس وقت بھی یہی کچھ ہو رہا ہے وگرنہ حکومت کے لئےسب ٹھیک کرنا قطعی مشکل نہیں۔
رمضان کے مہینہ میں انتظامی اداروں کی کارکردگی بہتر رہی انہوں نے سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی نہیں ہونے دی جس کسی نے بھی کی اسے چند روز کے لئے اپنی دکان پر تالا دیکھنا پڑا ۔محترمہ سلمٰی بٹ صاحبہ نے اشیائے خورونوش مہنگا کرنے والوں کو جرمانے بھی کیے اور ان کی دکانیں بھی سیل کیں ۔لوگوں نے اس پر انہیں شاباش دی اس طرح سے مہنگائی نہیں ہوئی مگر یہ سب وقتی تھا اب پھر خوانچے والوں اور دکانداروں کو کسی کا کوئی خوف نہیں ۔ پیرا فورس والے شروع میں کافی متحرک تھے مگر اب سست پڑ گئے دروغ بر گردن راوی کہ وہ نمک کی کان میں نمک ہو گئے ہیں لہذا بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں ۔
اب تو حکومت کو یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ چونکہ ایران امریکا اور اسرائیل جنگ ہو رہی ہے جس کی وجہ سے تیل مہنگا ہو گیا ہے نتیجتاً ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے جبکہ اُس کا یہ بھی کہنا ہے کہ تیل وافر مقدار میں موجود ہے کیونکہ ایران نے پاکستان پر کوئی پابندی نہیں لگائی بلکہ اس کا جھنڈا لہرا کر کچھ ملکوں کے تیل کے جہاز آبنائے ہرمز میں سے گزر رہے ہیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں تیل کی قیمت کو دس بیس روپے نہیں اکٹھا پچپن روپے بڑھا دیا گیا لہذا لوگوں کا کہنا درست ہے کا مہنگائی مافیا کے ساتھ حکومت خود بھی زمہ دار ہے ۔اب جب روس نے ایک بار پھر سستے تیل کی پیشکش کی ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے مگر آشیر بادیوں کی ناراضی مول نہیں لی جا سکتی ۔ اگر ہمارے حکمران عوام کے دکھوں اور تکالیف کو محسوس کریں تو کوئی ایسی وجہ نہیں کہ ہم ایک خوشحال ریاست کے طور سے ابھر کر سامنے نہ آجائیں مگر اہل اقتدار کو اپنے اقتدار اور اختیارات سے غرض ہے سو وہ اس کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں عوامی ضروریات ان کی مشکلات اور ان کی خواہشات کا خیال کیسے ہوسکتا ہے۔؟
ہمارے دوست جاوید خیالوی کا کہنا ہے کہ ”حکومت کو چاہیے کہ وہ روایتی سیاست اور روایتی دوستوں کے حوالے سے غور کرے کیونکہ اٹھہتر برس گزرنے پر بھی ہم اپنے پاؤں پر نہیں کھڑے ہو سکے اور یہ تشویشناک صورت حال ہے۔ حکومت اگر چاہے تو موجودہ صورت حال سے بھر پور طور سے مستفید ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستان اس وقت انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی بھی معتدل دکھائی دیتی ہے“
خیالوی کا نقطہء نظر بڑی حد درست معلوم ہوتا ہے لہذا اہل اختیار کو عوامی مفاد کے لئے کوئی قدم اٹھا لینا چاہیے ۔ عوام کی غالب اکثریت اس کو اپنے کندھوں پر بٹھانے میں دیر نہیں کرے گی اورملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت سے کنارہ کرلے گی؟
بہرحال یہ بات قابل غور ہونی چاہیے کہ ہماری معیشت ابھی تک سنبھل نہیں سکی جبکہ دنیا کہاں سے کہاں سے کہاں پہنچ گئی اس میں ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اپنے لوگوں کی زندگیوں کو آسان اور پُرآسائش بنا دیا جسے دیکھ کر رشک آتا ہے اور دل سے ایک آہ بھی اٹھتی ہے کہ ہم لوگ وسائل رکھتے ہوئے بھی پیچھے رہ گئے۔اور ابھی تک ہم مہنگائی بے روزگاری اورنا انصافی کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ تعلیم اور صحت کی مفت فراہمی ہم سے کوسوں دور ہے مگر بات پھر وہی کہ عوام کی حالت کو بدلنے کا جذبہ سرد پڑ چکا ہے ایک آپا دھاپی پڑی ہوئی ہے۔ ہمدردی محبت اور شفقت دلوں سے رخصت ہو گئی ہے مگر ہم نا امید بھی نہیں کیونکہ یہ طے ہے کہ اندھیرے کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہو جائیں روشنی انہیں اپنے اندر سمو ہوتی ہے ۔ آج زندگی پریشان ہے تو کل اسے لازمی مسکرانا ہے کیونکہ اب لوگ یہ جان چکے ہیں کہ ان کی منزل کو کس نے دھندلا یا اور کس نے ان کو دھوکا دیا لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو بیدار ہوتے لوگوں کی امنگوں کا احترام کرنا ہو گا انہیں اپنی سوچ کو تبدیل کرتے ہوئے عوام میں آنا ہو گا جن ممالک کے حکمران اس جانب آگئے وہ سُرخرو ہو گئے !


