
جرمن سیاح کی سائیکل اسلام آباد سے چوری، پولیس تلاش میں مصروف
رات ایک سے دو بجے کے درمیان خیمہ نصب کرتے وقت دو بظاہر بے گھر افراد ان کے قریب آئے اور بار بار مداخلت کرتے رہے
ناصر خان خٹک-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان کی سیاحت پر آئے جرمن سیاح فلپ سام کی سائیکل اسلام آباد میں چوری ہو گئی، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ سیاح نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی سائیکل جلد برآمد ہو جائے گی تاکہ وہ اپنا سفر مکمل کر سکیں۔
خنجراب پاس سے پاکستان میں داخلہ، سائیکل پر طویل سفر
فلپ سام پانچ مارچ کو خنجراب پاس کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے اور گلگت بلتستان سے اپنی سائیکلنگ مہم کا آغاز کیا۔
انہوں نے پاکستان کے شمالی علاقوں کی حسین وادیوں سے گزرتے ہوئے ایک طویل اور دشوار سفر طے کیا۔ ان کا یہ سفر نہ صرف مہم جوئی پر مبنی تھا بلکہ مختلف ثقافتوں اور علاقوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی فراہم کر رہا تھا۔
چترال، شندور اور لواری ٹنل کے راستے خیبر پختونخوا
اپنے سفر کے دوران فلپ سام غذر ویلی سے ہوتے ہوئے چترال پہنچے۔ وہاں سے انہوں نے شندور پاس کے دشوار گزار راستے کو عبور کیا اور لواری ٹنل کے ذریعے خیبر پختونخوا میں داخل ہوئے۔
یہ راستہ اپنی قدرتی خوبصورتی اور چیلنجنگ جغرافیے کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں میں خاصا مقبول ہے۔
اسلام آباد میں ناخوشگوار واقعہ
فلپ سام کے مطابق وہ یکم اپریل کی رات فیض آباد کے قریب پہنچے، جہاں انہوں نے تھانہ کھنہ کی حدود میں ایک سبزہ زار میں کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ رات ایک سے دو بجے کے درمیان خیمہ نصب کرتے وقت دو بظاہر بے گھر افراد ان کے قریب آئے اور بار بار مداخلت کرتے رہے۔ ان افراد کی حرکات نے انہیں کچھ حد تک پریشان بھی کیا، تاہم انہوں نے رات وہیں گزارنے کا فیصلہ کیا۔
صبح سائیکل غائب، سیاح پریشان
فلپ سام نے بتایا کہ جب وہ صبح بیدار ہوئے تو ان کی سائیکل، جس پر وہ کئی ممالک کا سفر کر چکے تھے، غائب تھی۔
انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ رات کو آنے والے افراد ہی ممکنہ طور پر سائیکل لے گئے۔ اس واقعے نے ان کے سفر کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔
پولیس کی کارروائی اور تحقیقات
واقعے کے بعد فلپ سام نے فوری طور پر اسلام آباد پولیس سے رابطہ کیا اور تھانہ کھنہ میں رپورٹ درج کروائی۔
پولیس حکام کے مطابق:
“سیاح نے نالے کے قریب ایک ویران جگہ پر کیمپ لگایا تھا جہاں رات کے وقت نشئی افراد کی آمد و رفت رہتی ہے۔ شبہ ہے کہ انہی میں سے کسی نے سائیکل چوری کی ہے۔”
پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سائیکل کی تلاش جاری ہے اور اسے جلد برآمد کر لیا جائے گا۔
سیاح کا ردعمل اور امید
فلپ سام نے بتایا کہ پولیس نے ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے اور وہ اس امید پر ہیں کہ ان کی سائیکل جلد مل جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ان کا منصوبہ تھا کہ اسلام آباد کے بعد وہ لاہور جائیں اور پھر واپس جرمنی روانہ ہوں، تاہم سائیکل چوری ہونے کے باعث انہوں نے فی الحال اسلام آباد میں قیام بڑھا دیا ہے۔
سیاحت اور سیکیورٹی پر سوالات
یہ واقعہ جہاں ایک سیاح کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہے، وہیں اس نے شہری علاقوں میں سیاحوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں سیاحت فروغ پا رہی ہے، لیکن ایسے واقعات کو روکنے کے لیے مقامی سطح پر سیکیورٹی اقدامات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ غیر ملکی سیاح خود کو محفوظ محسوس کریں۔
ادھورا سفر، واپسی کی امید
فلپ سام اس وقت اپنی سائیکل کی واپسی کے منتظر ہیں تاکہ وہ اپنا ادھورا سفر مکمل کر سکیں۔ ان کی یہ مہم نہ صرف ذاتی خواب کی تکمیل ہے بلکہ پاکستان کے خوبصورت چہرے کو دنیا کے سامنے لانے کی ایک کوشش بھی ہے۔
پولیس اور انتظامیہ کی کوششیں جاری ہیں، اور امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی یہ واقعہ خوشگوار انجام تک پہنچے گا۔




