پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ بیان، اسرائیلی قانون سازی کی شدید مذمت

انہوں نے خبردار کیا کہ اس قانون کا اطلاق خاص طور پر مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف کیا جا رہا ہے، جس سے حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

2 اپریل 2026 کو پاکستان، ترکی، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے حالیہ قانون سازی کی شدید مذمت کی ہے۔


“خطرناک قانون سازی” قرار

مشترکہ بیان میں وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی پارلیمنٹ میں منظور کیے گئے اس قانون کو “انتہائی خطرناک” قرار دیا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف اقدامات کو مزید سخت اور امتیازی بنا سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس قانون کا اطلاق خاص طور پر مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف کیا جا رہا ہے، جس سے حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔


امتیازی پالیسیوں اور نسل پرستی پر تشویش

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی اقدامات کو بڑھتے ہوئے امتیازی رویے کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ طرز عمل ایک ایسے نظام کو جنم دے رہا ہے جو نسل پرستی اور جبر پر مبنی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ:
“یہ اقدامات فلسطینی عوام کے بنیادی اور ناقابل تنسیخ حقوق اور ان کے وجود سے انکار کے مترادف ہیں۔”


فلسطینی قیدیوں کی حالت پر گہری تشویش

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حراست میں موجود فلسطینی قیدیوں کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق قیدیوں کو:

  • تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے
  • غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک کیا جا رہا ہے
  • فاقہ کشی اور بنیادی حقوق سے محرومی کا سامنا ہے

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اقدامات نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔


“وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کا تسلسل”

بیان میں کہا گیا کہ فلسطینیوں کے خلاف یہ اقدامات کسی ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع اور منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی اقدامات فلسطینی عوام کے خلاف جاری خلاف ورزیوں کے ایک بڑے سلسلے کی عکاسی کرتے ہیں۔


کشیدگی کم کرنے اور احتساب کا مطالبہ

مشترکہ بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو زمینی صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے کہا کہ:

  • خطے میں استحکام کے لیے کشیدگی کم کرنا ضروری ہے
  • بین الاقوامی سطح پر احتساب کو یقینی بنایا جائے
  • عالمی برادری کو صورتحال کے بگاڑ کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں

بین الاقوامی کوششوں کو مضبوط بنانے کی اپیل

وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششوں کو مزید مؤثر بنائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔


فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار

مشترکہ اعلامیے میں فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف کسی بھی قسم کے امتیازی یا جابرانہ اقدامات کی مخالفت جاری رکھیں گے اور اس مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button