
کاربن نیگیٹو ملک بھوٹان بھی جنگ سے متاثر، ایندھن بے حد مہنگا
بھوٹان کی ملکی کرنسی میں پٹرول کی فی لٹر قیمت پہلے 65 تا 95 نگلترم تھی، جو فروری کے بعد سے بڑھ کر اس سبسڈی والی قیمت کے برابر تک پہنچ چکی ہے
اے ایف پی کے ساتھ
ملکی دارالحکومت تھمپو میں پٹرول پمپوں پر صارفین کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ مقامی شہری کرما کالدن نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ حالات حکومت کے اختیار میں نہیں۔ انہوں نے کہا، ”ہم بے بس ہیں۔ ایران جنگ اور بھارت میں مہنگائی کے باعث حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔‘‘

بھوٹانی حکومت نے بدھ کی رات ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی ملک میں توانائی کی بچت کے اقدامات بھی متعارف کرا دیے۔ ملکی وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق گزشتہ ہفتوں میں عالمی منڈیوں میں ایندھن کی قیمتیں نمایاں حد تک بڑھی ہیں، اور ایسا ”کنٹرول سے باہر عوامل‘‘ کی وجہ سے ہوا۔
بھوٹان نے 21 مارچ کو فیول سبسڈی کا اعلان کیا تھا تاکہ گھریلو صارفین پر اضافی مالی بوجھ کم کیا جا سکے، مگر اس کے باوجود 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس ملک میں پٹرول کی قیمتوں میں 60 فیصد سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔
بھوٹان کی ملکی کرنسی میں پٹرول کی فی لٹر قیمت پہلے 65 تا 95 نگلترم تھی، جو فروری کے بعد سے بڑھ کر اس سبسڈی والی قیمت کے برابر تک پہنچ چکی ہے، جو حکومت نے یکم اپریل کو مقرر کی۔

حکومت نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں عوام سے تعاون کی اپیل بھی کی ہے۔ ایک حکومتی بیان میں کہا گیا، ”قومی خزانے پر پڑنے والے بھاری بوجھ کے پیش نظر تمام سرکاری اداروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ایندھن کے استعمال میں کمی کے لیے اقدامات کریں، جیسے پیدل دفتر جانا، غیر ضروری سفر سے گریز کرنا اور اگر ممکن ہو تو گھر سے کام کرنا۔‘‘



