
ڈی پی اے
ہنگری میں بارہ اپریل کو عام انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔ پی اے سی ای کا مبصر مشن نے ان انتخابات سے قبل بوڈاپیسٹ کا دورہ کیا۔
PACE کے بیان کے مطابق، جن افراد سے ملاقات کی گئی ان میں سے بہت سوں نے ملک میں ”زہریلے سیاسی ماحول‘‘کی نشاندہی کی۔

ہنگری میں یہ انتخابات 1989-90 میں ملک کی جمہوری سفر کے بعد سے سب سے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم وکٹر اوربان گزشتہ 16 برس سے اقتدار میں ہیں اور ماسکو کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ہنگری میں جمہوری اداروں کو کمزور کیا، میڈیا اور عدلیہ کو بڑی حد تک اپنے کنٹرول میں کر لیا اور ناقدین کے مطابق نگرانی پر مبنی ایک بدعنوان نظام قائم کیا۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اعتدال پسند سیاستدان پیٹر میگیار کے پاس انتخابات جیتنے اور اوربان کو اقتدار سے ہٹانے کے مضبوط امکانات موجود ہیں۔
یورپی کونسل ایک بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہے جس کا صدر دفتر فرانس کے شہر شٹراس بورگ میں واقع ہے اور یہ یورپی یونین سے الگ ایک ادارہ ہے۔
پی اے سی ای کے مطابق، ”وفد کا تاثر ہے کہ یہاں معاملہ صرف یہ نہیں کہ کون ووٹ جیتتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ آیا جمہوری مقابلہ واقعی کھلا، کثیرالجہتی اور منصفانہ رہتا ہے یا نہیں۔‘‘
مبصرین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ انتخابی مہم میں جارحانہ اور گمراہ کن پیغامات بار بار استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں مسلسل یوکرین مخالف اور یورپی یونین مخالف پروپیگنڈا اور ”جنگ یا امن‘‘ جیسے سادہ بیانیہ شامل ہے، جس کا مقصد ووٹروں کو باخبر فیصلے میں مدد کے بجائے مخالفین کو بدنام کرنا ہے۔
مبصرین کے مطابق انہیں انتخابی ماحول کی مجموعی شفافیت پر بھی سنگین خدشات سننے کو ملے، جن میں ریاستی وسائل، ڈیٹا اور اداروں کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال اور ایسا میڈیا منظرنامہ شامل ہے جہاں بہت سے ووٹرز کو متنوع اور آزاد معلومات تک محدود رسائی حاصل ہے۔
پابلو ہسپان نے زور دے کر کہا، ”ہنگری کے مستقبل کا فیصلہ ووٹرز کو کرنا چاہیے، نہ کہ خوف پھیلانے والی کیمپینز، کردار کشی، غیر مساوی قواعد یا بیرونی مداخلت کو۔‘‘



