بین الاقوامیاہم خبریں

ایران کو پتھر کے دور میں بھیج دیں گے، ٹرمپ

’’دنیا کے وہ ممالک جو آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرتے ہیں، انہیں اس گزرگاہ کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔ بس اس پر قبضہ کریں، اس کی حفاظت کریں، اسے اپنے لیے استعمال کریں۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کے بارے میں قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا، ’’مجھے بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم بنیادی اسٹریٹیجک مقاصد مکمل کرنے کے قریب ہیں۔‘‘

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا آج 32 واں دن ہے۔ امریکہ نے اس جنگ کو ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ میں ’زبردست فتوحات‘ حاصل کرنے پر امریکی افواج کی تعریف کرتے ہوئے کہا،’’ان گزشتہ چار ہفتوں میں ہماری مسلح افواج نے میدان جنگ میں تیز، فیصلہ کن اور زبردست فتوحات حاصل کی ہیں، ایسی فتوحات جیسی اس سے پہلے کم ہی لوگوں نے دیکھی ہوں گی۔‘‘

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے خلیجی عرب اتحادیوں اور اسرائیل کو ’نقصان اٹھانے یا ناکام ہونے‘ نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی کارروائیوں کے 32 دن بعد، ایران ’’واقعی اب کوئی خطرہ نہیں رہا۔‘‘

امریکی صدر نے کہا، ’’ہماری پیش رفت کی بدولت، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم جلد ہی اپنے تمام فوجی اہداف مکمل کرنے کی راہ پر ہیں۔‘‘ اور ’’ہم آنے والے چند ہفتوں میں ان پر شدید حملے کریں گے اور انہیں واپس پتھر کے دور میں لے جائیں گے جہاں سے ان کا تعلق ہے۔‘‘

ایران جنگ، جنگ بندی کی کوششیں اور زمینی کارروائی کے امکانات

امریکی صدر نے آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرنے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ ’ہمت‘ کریں اور اس اہم آبی گزرگاہ پر قبضہ کر لیں۔’’دنیا کے وہ ممالک جو آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرتے ہیں، انہیں اس گزرگاہ کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔ بس اس پر قبضہ کریں، اس کی حفاظت کریں، اسے اپنے لیے استعمال کریں۔‘‘

ٹرمپ کے خطاب کے بعد ایران کی مسلح افواج کے مشترکہ کمانڈ کے ترجمان نے کہا کہ تہران مشرق وسطیٰ کی جنگ اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک امریکہ اور اسرائیل کو ’’مستقل پچھتاوے اور ہتھیار ڈالنے‘‘ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ایران اپنی فوجی کارروائیوں میں اضافہ کرے گا اور  مخالفین کے خلاف ’’زیادہ سخت، زیادہ وسیع اور زیادہ تباہ کن‘‘ حملے کیے جائیں گے۔’’ہماری مزید سخت، وسیع اور زیادہ تباہ کن کارروائیوں کا انتظار کریں۔‘‘

اپوزیشن ڈیموکریٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کے خطاب کو ’غیر مربوط‘ قرار دیا اور کہا کہ اس میں ’بنیادی سوالات‘ کے جواب دینے کی بہت کم کوشش کی گئی۔
سینیٹرمارک وارنر نے اپنے بیان میں کہا، ’’ٹرمپ پر لازم تھا کہ وہ امریکی عوام کو اس تنازعے کے بارے میں مزید وضاحت دیتے، جس کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ ڈیزل، کھاد، ایلومینیم اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں، جن کے اثرات طویل عرصے تک معیشت پر پڑتے رہیں گے۔‘‘

سینیٹر کرس مرفی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’’اس تقریر کو سننے کے بعد امریکہ میں کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ ہم کشیدگی بڑھا رہے ہیں یا کم کر رہے ہیں۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button