پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

علیمہ خان کے بعد نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی کوٹ لکھپت جیل منتقل

اطلاعات کے مطابق نورین اور عظمیٰ کی نظر بندی سے ایک روز قبل نورین نیازی کی بیٹی ہاجرہ نیازی اور ان کے شوہر کو بھی لاہور میں ایک ناکے پر پولیس نے حراست میں لیا تھا

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

پاکستان کے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی بہن علمیہ خان کی گرفتاری کے بعد ان کی دو اور بہنوں نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ نیازی کو بھی نظر بند کر لیا گیا ہے۔
پیر کو تینوں بہنوں کو تھری ایم پی او کے تحت 30 روز کے لیے کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے علیمہ خان کی 30 روزہ نظر بندی کا حکم جاری کیا۔
پولیس کے مطابق علیمہ خان کو لاہور میں حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔ ڈی سی لاہور کے حکم نامے میں پولیس رپورٹ کی بنیاد پر امن عامہ کے حوالے سے خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔
لاہور کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 کے تحت 30 روز کے لیے نظر بند کیا گیا ہے۔ حکم نامے میں پولیس اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس برانچ کی رپورٹس اور سفارشات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
حکم نامے کے مطابق پولیس نے دونوں خواتین کی سرگرمیوں کو امن عامہ اور عوامی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے 30 روزہ نظر بندی کی سفارش کی تھی۔
حکم نامے میں 9 مئی 2023 کے احتجاج، روڈ بلاک کرنے، سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے لیے کارکنوں کو مبینہ طور پر اکسانے، سوشل میڈیا اور عوامی اجتماعات کے ذریعے کارکنوں کو متحرک کرنے اور حکومت و اداروں کے خلاف مبینہ قابل اعتراض نعروں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔
حکم نامے میں تھانہ ریس کورس میں درج مقدمہ نمبر 96/23 سمیت متعدد مقدمات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نورین اور عظمیٰ کی نظر بندی سے ایک روز قبل نورین نیازی کی بیٹی ہاجرہ نیازی اور ان کے شوہر کو بھی لاہور میں ایک ناکے پر پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ اہلخانہ کے مطابق دونوں کو مختلف تھانوں میں لے جایا گیا تاہم کچھ دیر بعد انہیں رہا کردیا گیا۔
یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ ’احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے لیے سیاسی جدوجہد ہے جبکہ حکام نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button