پاکستاناہم خبریں

27 ستمبر کے لانگ مارچ پر حکومت اور پی ٹی آئی آمنے سامنے، محسن نقوی کا سخت انتباہ؛ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد کا اعلان

حکومت کا مؤقف ہے کہ دارالحکومت میں سرکاری عمارتوں، اہم تنصیبات، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور شہریوں کی آمدورفت کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
ناصر خان خٹک-پاکستان

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور ملک گیر احتجاج کی کال کے تناظر میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد میں کسی بھی قسم کی زبردستی داخلے یا شہر کو مفلوج کرنے کی کوشش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی کوشش کرنے والوں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا کہ احتجاج یا مارچ کے نام پر لوگ دارالحکومت پہنچیں اور ملک دس، بیس دن کے لیے بند ہو جائے۔

محسن نقوی نے کہا کہ حکومت نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات کیے ہیں اور اگر 27 ستمبر کو لانگ مارچ کیا جاتا ہے تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر من و عن عمل درآمد کیا جائے گا۔ ان کے بقول حکومت بار بار پیدا ہونے والی ایسی صورتحال کی متحمل نہیں ہو سکتی اور اس معاملے کا مستقل حل تلاش کرنا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو پیغام دیا گیا ہے کہ سیاسی مسائل اس نوعیت کے احتجاج یا ’’ڈراموں‘‘ کے ذریعے حل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے پارٹی قیادت پر زور دیا کہ وہ ایسی صورتحال سے گریز کرے جس کے نتیجے میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھے اور معاملات کسی ایسے مقام تک پہنچ جائیں جہاں واپسی مشکل ہو۔

اسلام آباد میں سکیورٹی سخت، راستوں کی بندش کی تیاری

27 ستمبر کے احتجاج کے اعلان کے بعد اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ مختلف اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کیے جانے کے ساتھ ساتھ شہر کے حساس علاقوں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔

ریڈ زون کی جانب جانے والے راستوں پر رکاوٹیں اور کنٹینرز لگانے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ سکیورٹی حکام کی جانب سے ممکنہ طور پر مزید راستے بند کیے جانے اور حساس مقامات پر اضافی انتظامات کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ دارالحکومت میں سرکاری عمارتوں، اہم تنصیبات، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور شہریوں کی آمدورفت کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سے قبل پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج سے متعلق درخواست پر حکم دیتے ہوئے قرار دیا تھا کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو اسلام آباد میں عوامی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا ایسی عمارتوں پر قبضہ یا رکاوٹ ڈالنے کا قانونی حق نہیں جو شہریوں کی معمول کی آمدورفت یا تعلیمی و طبی سہولیات تک رسائی متاثر کرے۔ عدالت نے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ احتجاج کے لیے سرکاری وسائل یا سرکاری مشینری استعمال نہ ہو۔

محسن نقوی: ’’اس بار مستقل حل نکالیں گے‘‘

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت بار بار اسلام آباد کو احتجاجی سرگرمیوں کے باعث بند ہونے کی صورتحال قبول نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد کسی سیاسی جماعت کے سیاسی حق کو ختم کرنا نہیں بلکہ قانون اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے آئینی و قانونی دائرہ موجود ہے، تاہم دارالحکومت کو مفلوج کرنا یا ریاستی اداروں اور شہری زندگی کو متاثر کرنا قابل قبول نہیں ہوگا۔

محسن نقوی نے پی ٹی آئی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ وہ ایسی صورتحال میں جانے سے گریز کرے جس سے سیاسی تناؤ میں اضافہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ قیادت کو سوچنا چاہیے کہ ایسے راستے کا انتخاب نہ کیا جائے جہاں سے واپسی مشکل ہو جائے۔

پی ٹی آئی کا مؤقف: احتجاج پرامن ہوگا

دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ 27 ستمبر کا احتجاج پرامن ہوگا اور پارٹی کسی تصادم کی خواہاں نہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ملک کو مزید تصادم کے بجائے سیاسی کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ پی ٹی آئی کا احتجاج ’’پرامن‘‘ ہوگا اور اس کا مقصد اپنے سیاسی و آئینی مطالبات کے لیے آواز اٹھانا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے 27 ستمبر کے احتجاج کو ’’انصاف مارچ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی ریاستی اداروں کا احترام کرتی ہے اور احتجاج کے دوران کسی قسم کی بدامنی نہیں چاہتی۔ ان کے مطابق پارٹی کے سیاسی مطالبات کے حل کے لیے پارلیمان اور آئینی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ احتجاج کا مقصد بانی عمران خان کی رہائی، آئینی حقوق کے تحفظ اور سیاسی معاملات کے حل کے لیے آواز اٹھانا ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے بھی جاری

دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک طرف حکومت 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے سکیورٹی انتظامات سخت کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف حکومت اور اپوزیشن کے بعض رہنماؤں کے درمیان رابطے بھی جاری ہیں۔

حالیہ دنوں میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کے درمیان ملاقات بھی ہوئی، جس میں عمران خان کی صورتحال اور 27 ستمبر کے احتجاج سمیت مختلف امور پر گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے احتجاج واپس لینے کے معاملے پر بھی بات چیت کی گئی، تاہم اپوزیشن کی جانب سے مؤقف سامنے آیا کہ احتجاج کے مستقبل سے متعلق فیصلہ عمران خان سے مشاورت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔

اس سے قبل پی ٹی آئی نے دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطے کیے تھے اور 27 ستمبر کے احتجاج سمیت ملکی سیاسی، آئینی اور اقتصادی معاملات پر مشترکہ حکمت عملی کے لیے مشاورت کی تھی۔ جے یو آئی ف اور دیگر اپوزیشن حلقوں کے ساتھ بھی رابطوں کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔

پی ٹی آئی کا احتجاجی پلان اور حکومتی خدشات

پی ٹی آئی کی قیادت کا کہنا ہے کہ عوام کو سیاسی و آئینی مطالبات کے لیے پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے بنیادی تشویش احتجاج کے دوران امن و امان اور شہری زندگی کے معمولات متاثر ہونے سے متعلق ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے متعدد مواقع پر کہا ہے کہ 27 ستمبر کا مارچ پرامن رہے گا اور شرکا کسی قسم کی بدامنی یا تشدد میں ملوث نہیں ہوں گے۔ بیرسٹر گوہر نے رواں ماہ کے آغاز میں بھی کہا تھا کہ پارٹی کا احتجاج اسلام آباد پر قبضہ کرنے یا اڈیالہ جیل پر دھاوا بولنے کے لیے نہیں ہوگا۔

تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ ماضی کے احتجاجی واقعات کے تجربات کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے حوالے سے کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا۔

سیاسی کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر اتفاق

دونوں جانب سے سامنے آنے والے بیانات میں اگرچہ احتجاج کے حوالے سے واضح اختلاف موجود ہے، تاہم پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی جانب سے سیاسی کشیدگی کم کرنے اور محسن نقوی کی جانب سے مستقل حل کی بات اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیاسی تناؤ کے خاتمے کا معاملہ بھی بحث کا حصہ ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عوام پہلے ہی سیاسی کشیدگی اور محاذ آرائی سے تنگ ہیں اور تمام فریقوں کو پیچھے ہٹ کر سیاسی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قانون، عدالتی احکامات اور شہریوں کے بنیادی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

27 ستمبر سے قبل صورتحال اہم مرحلے میں داخل

27 ستمبر کے احتجاج میں اب چند روز باقی رہ گئے ہیں اور اس دوران حکومت و پی ٹی آئی دونوں کی جانب سے اپنی اپنی حکمت عملی واضح کی جا رہی ہے۔ حکومت نے اسلام آباد میں سکیورٹی اقدامات تیز کر دیے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی اپنی سیاسی و عوامی رابطہ مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایسی صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری رابطے آئندہ چند دنوں میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم فی الوقت دونوں جانب سے اپنے بنیادی مؤقف پر قائم رہنے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کو احتجاج کے نام پر بند نہیں ہونے دیا جائے گا اور عدالت کے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، جبکہ پی ٹی آئی قیادت کا مؤقف ہے کہ 27 ستمبر کا مارچ پرامن ہوگا اور سیاسی و آئینی مطالبات کے لیے احتجاج کیا جائے گا۔

یوں 27 ستمبر سے قبل وفاقی دارالحکومت میں سیاسی سرگرمیوں، حکومتی سکیورٹی اقدامات اور اپوزیشن کے احتجاجی پروگرام کے باعث ملک کی سیاسی صورتحال ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button