کاروبارتازہ ترین

بھارت روسی تیل خریدنے والے ممالک پر عائد کردہ امریکی محصولات کی تفصیلات کا جائزہ لے رہا ہے، وزیر تجارت

ان امریکی پابندیوں کا مقصد ان ممالک کو مجبور کرنا ہے کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے روس سے درآمدات پر انحصار کم کریں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے کہا ہے کہ نئی دہلی حکومت ان امریکی ٹیرفس کی تفصیلات کا جائزہ لے رہی ہے، جو واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ پابندیوں کا شکار ملک روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر عائد کرنا چاہتی ہے۔

روس کے خلاف ان امریکی پابندیوں کی وجہ ماسکو کی یوکرین میں فوجی مداخلت کے ساتھ شروع ہونے والی وہ جنگ بنی، جو گ‍زشتہ ساڑھے چار سال سے بھی زیادہ عرصے سے جاری ہے اور جس دوران روس اور یوکرین دونوں کے ایک دوسرے پر میزائل اور ڈرون حملوں میں گزشتہ کئی ہفتوں سے غیر معمولی شدت آ چکی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے روسی برآمدی تیل خریدنے والے ممالک کے خلاف عائد کردہ پابندیوں اور ایسے ممالک کی امریکہ کو تجارتی برآمدات پر اضافی محصولات کی تفصیلات کا جائزہ لیے جانے سے متعلق بھارتی وزیر تجارت گوئل نے اپنا تازہ بیان پیر 21 ستمبر کے روز دیا۔

پیوش گوئل کے اس بیان سے محض چند ہی روز قبل امریکہ میں ملکی کانگریس کے ایوان زیریں یعنی ایوان نمائندگان نے ایک ایسے بل کی منظوری دے دی تھی، جس میں ماسکو سے تیل خریدنے والے ممالک پر وسیع تر امریکی ٹیرفس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ واشنگٹن کی طرف سے ماسکو پر عائد کردہ نئی پابندیاں بھی اس لیے لگائی گئی تھیں کہ یوکرین میں فوجی مداخلت کے ساتھ کئی سالہ جنگ کے آغاز کی وجہ بننے پر روس کے خلاف اقتصادی دباؤ مزید بڑھایا جا سکے۔

روس اپنے برآمدی تیل کی فروخت کے لیے امریکی اور یورپی پابندیوں‌ سے بچنے کے لیے اپنی ایک ’شیڈو فلیٹ‘ بھی استعمال کرتا ہے، تاکہ اسے وہ مالی وسائل حاصل ہو سکیں، جن کی اسے یوکرین کے خلاف جنگ کو جاری رکھنے کے لیے ضرورت ہے۔

روسی تیل خریدنے والے ممالک پر اضافی ٹیرفس کے اس بل کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ اختیار حاصل ہو چکا ہے کہ وہ چین اور بھارت سمیت کئی ممالک کی امریکہ کے لیے برآمدات پر 100 فیصد تک ٹیرفس عائد کر سکتے ہیں۔

ان امریکی پابندیوں کا مقصد ان ممالک کو مجبور کرنا ہے کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے روس سے درآمدات پر انحصار کم کریں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button